پری چہرہ: پشاور کے کوہاٹی گیٹ میں مدفن ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار کی محبوب بیوی پری چہرہ کی کہانی

    • مصنف, نازش خان
    • عہدہ, صحافی

پشاور شہر کے گنجان آباد علاقے کوہاٹی گیٹ میں داخل ہوتے ہی آپ کو کاروبار زندگی عروج پر نظر آئے گا، سڑک کے دونوں اطراف سینکڑوں دکانیں تو ہیں ہی مگر دائیں طرف طویل دیوار کے آگے بے شمار ریڑھیوں، پتھاروں سمیت خوانچہ فروش اپنا اپنا سامان فروخت کرنے میں مگن نظر آتے ہیں۔

اسی بھیڑ میں اگر آپ کی نظر بازار کے شروع میں ہی خستہ حال دیوار کے ساتھ لگے ایک بورڈ یا درختوں کے ساتھ بندھے بینر پر پڑے اور آپ تاریخ سے لگاؤ بھی رکھتے ہوں، تو اس پر درج تحریر آپ کے لیے باعث دلچسپی ہو گی۔

بورڈ پر لکھے گئے الفاظ یہ ہیں: ’مقبرہ پری چہرہ۔ یہ قبرستان اٹھارہویں صدی سے فارسی بادشاہ نادر شاہ افشار کی بیوی ملکہ پری چہرہ سے وابستہ ہے۔‘

اس مقبرے کی موجودہ اجاڑ حالت ایسی ہے جسے دیکھ کر کوئی بھی اس بوسیدہ دیوار کے پیچھے چھپی محبت کی داستان یا شاندار تاریخی حیثیت کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔

تو چلیے ماضی کے اوراق پلٹتے ہیں اور آپ کو لیے چلتے ہیں 18ویں صدی عیسوی میں۔

پری چہرہ کون تھیں؟

بیشتر معروف تاریخ دانوں کے مطابق پری چہرہ نادر شاہ افشار کی محبوب اہلیہ تھیں۔ نادر شاہ افشار سنہ 1736 سے سنہ 1747 تک ایران کے بادشاہ رہے اور وہ خاندان افشار کی حکومت کے بانی تھے۔ اپنی عسکری صلاحیتوں کے باعث مؤرخین انھیں ’ایشیا کا نپولین‘ اور ’سکندر ثانی‘ کے القابات سے بھی یاد کرتے ہیں۔

مگر پری چہرہ کے نادر شاہ سے تعلق کے حوالے سے متضاد آرا ہیں۔

پشاور کی تاریخ پر لکھی گئی ’فصیل، شہر اور دروازے‘، ’ثقافت سرحد‘ اور دیگر کتابوں میں پری چہرہ کو ’نادر شاہ کی محبوبہ‘ بھی لکھا گیا ہے۔

میجر ایم نواز خان اُردو، پشتو اور انگریزی کی 113 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب ’پشاور، دی انریٹن ہسٹری‘ میں پری چہرہ کو نادر شاہ کی ’محبوب بیوی‘ لکھا ہے۔ دوسری جانب گذشتہ ایک سال سے پری چہرہ کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی خیبر پختونخوا کے ریسرچ آفیسر بخت محمد کہتے ہیں کہ اس دور میں پشاور کے حاکم نے جو پروٹوکول پری چہرہ کو دیا گیا وہ اعزاز اس دور میں شاہی خاندان کے افراد کے سوا کسی کو نصیب نہ تھا۔

بخت محمد کے مطابق تحقیق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ پری چہرہ نادر شاہ کی بیوی تھیں، جو 1739 میں ایران سے ان کے ساتھ سفر کر کے پشاور تک پہنچیں۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ نادر شاہ افشار کی یہ اہلیہ چونکہ جنگجو نہیں تھیں نہ ہی سلطنت کے اُمور میں ان کا عمل دخل رہا، اسی وجہ سے تاریخ کی بڑی کتب میں اُن کا تذکرہ نہیں ملتا حالانکہ اس دور کے بڑے واقعات تو دستاویزی صورت میں موجود ہیں لیکن ملکہ پری چہرہ کے حوالے سے ہمیں معلومات مقامی تاریخ دانوں کی لکھی کتابوں کے علاوہ سینہ بہ سینہ روایت کی شکل میں ملتی ہیں جو ایک طویل عرصے تک لوک داستان کی صورت بیان ہوتی رہیں۔

بخت محمد کے مطابق نادر شاہ افشار کا پری چہرہ کو گورنر ناصر خان (جن کا تذکرہ آگے چل کر آئے گا) کی سپردگی میں دے کر جانا بھی اس بات کی بڑی دلیل ہے کہ وہ مقامی خاتون نہیں بلکہ ایران سے ہی ان کے ساتھ آئی تھیں جن کا کوئی عزیز رشتہ دار پشاور میں موجود نہیں تھا۔

پشاور کی تاریخ بیان کرنے والے ڈاکٹر علی جان بھی بخت محمد کی اس تحقیق کو بڑی حد تک درست قرار دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق پری چہرہ ایران سے ہی نادر شاہ کے ساتھ آئی تھیں جس کی بڑی وجہ نادر شاہ کا اہم فتوحات کے موقع پر پری چہرہ کو ہمراہ رکھنا تھا، کیونکہ خود پری چہرہ کا جنگ میں کوئی باضابطہ کردار نہیں ہوتا تھا اسی لیے ان کا ذکر مستند کتابوں کا حصہ نہیں بنا۔

چار دہائیوں قبل ’ثقافت سرحد‘ کے نام سے تحریرکی گئی کتاب میں مصنف قاری جاوید اقبال پری چہرہ سے متعلق کچھ یوں لکھتے ہیں۔ ’وہ حسن و شباب و سحر انگیزی کی انتہا کو چھوتے بےمثل جمال کا پیکر تھیں جن کے اصل نام کا حوالہ موجود نہیں، مگر اپنی اسی صفت (خوبصورتی) کی بدولت وہ پری چہرہ کے نام سے موسوم ہوئیں۔‘

تاریخ دانوں کے مطابق 1738, 1739 کہ جب نادر شاہ دہلی پر حملہ کرنے کے لیے قندھار سے روانہ ہو کر براستہ کابل و خیبر پشاور میں داخل ہوئے تو یہ دور 13ویں اور آخری بااختیار تاجدار محمد شاہ کا تھا جس نے پشاور کا حاکم نواب ناصر خان کو مقرر کر رکھا تھا۔

نواب ناصر خان ہی وہ شخصیت تھے جن کی دور اندیشی معاملہ فہمی اور بہترین انتظام و انصرام کی بدولت پشاور نادر شاہ افشار کی فوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا۔ نادرشاہ جب اپنے لاؤ لشکر سمیت پشاور پہنچے تو نواب ناصر خان نے امن و امان و خیر سگالی کے جذبے کے تحت باب پشاور کوٹلہ محسن خان کے پاس نادر شاہ کا استقبال کیا اور خود شہر کی چابیاں نادر شاہ کے حوالے کر دیں۔

نادر شاہ نواب ناصر خان کے حسن سلوک سے متاثر ہوئے اور انھیں شرف میزبانی بخشتے ہوئے پشاور میں چند روز قیام کا فیصلہ کیا، یہی وہ وقت تھا جب پری چہرہ طویل مسافت کی تھکان کے باعث نقاہت کا شکار ہو گئی تھیں، طبیعت اس قدر خراب رہی کہ بیماری طویل ہونے لگی اور پری چہرہ آگے کا سفر کرنے کے قابل دکھائی نہ دیتی تھیں۔

نادر شاہ نے صورتحال دیکھی تو پری چہرہ کو دہلی کے شورش زدہ اور پُرخطرسفر پر ساتھ رکھنا مناسب نہ سمجھا۔ پری چہرہ نے بھی نادر شاہ کو واپسی کے سفر کی بجائے فتوحات کے لیے آگے بڑھنے پر زور دیا، نادر شاہ کے لیے یہ ایک کٹھن فیصلہ تھا، وہ پری چہرہ کو علاج معالجہ کے لیے نواب ناصر خان کی سپردگی میں دے کراس کی تیمارداری میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے دہلی پر حملہ آور ہونے کے لیے روانہ ہو گئے۔

’ثقافت سرحد‘ میں قاری جاوید اقبال نے پری چہرہ پر گزرنے والی کیفیت کو کچھ یوں بیان کیا ہے کہ نادر شاہ کی رخصت کے بعد بیمار پری چہرہ کی صحت ہر گزرتے دن کے ساتھ مدہم پڑتی گئی اور باوجود ہزارہا کوششوں اور علاج بسیار کے اُن کا حسن و شباب غروب آفتاب کی مانند ڈھلتا ہی گیا حتیٰ کہ وہ اسی حالت میں وفات پا گئیں۔

اس حوالے سے جامعہ پشاور ہسٹری ڈیپارٹمنٹ سے منسلک محقق ڈاکٹر سید امجد حسین شاہ کی کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ایران سے ہی اس سفر میں ساتھ آئے کم عمر خادم (جو قصہ گوئی میں مشہور تھا) کا بھی تذکرہ موجود ہے۔ پری چہرہ گورنر ناصر خان سے کہلوا کر اسے بلوایا کرتیں اور اس سے نادر شاہ کی بہادری کے قصے سُنتیں۔

کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ایک روز بیمار ملکہ کہانی سنتے سنتے دنیا سے کوچ کر گئیں، ملکہ کی تدفین نواب ناصر خان نے اس دور کی روایت کے مطابق مہمان خانہ اور شاہی دربار کے بالکل سامنے باغ میں کروائی۔

اس حوالے سے ریسرچ آفیسر بخت محمد کی تحقیق ہے کہ اس زمانے میں پیغام رسانی کے لیے قاصد دوڑائے جاتے تھے لہذا ملکہ کی وفات کی خبر بھی دہلی میں نادر شاہ تک اسی ذریعے سے پہنچا دی گئی۔ جب پری چہرہ کی وفات کی خبر نادر شاہ تک پہنچی تو وہ انتہائی سوگوار اور رنجیدہ ہوئے۔

دہلی میں قیام کے 56 دن یا لگ بھگ دو ماہ بعد فاتح بن کر نادرشاہ پشاور آئے اور اپنی نگرانی میں پری چہرہ کا عالیشان مقبرہ تعمیر کروایا جس کے لیے کابل، قندھار اور ایران سے قیمتی پتھر اور جواہرات منگوائے گئے اور ساتھ ہی ایک بڑے احاطے میں اردگرد باغات تعمیر کروائے جس کے بعد نادر شاہ ایران چلے گئے۔

پری چہرہ کے مقبرہ کی موجودہ حالت

مؤرخین نے لکھا ہے کہ پری چہرہ کا مقبرہ آٹھ کنال کی وسیع اراضی پر بنایا گیا تھا۔ مگر آج وہ مٹی کی ایسی ڈھیری سے زیادہ کچھ نہیں جس کے نقوش بس مٹنے کو ہیں۔

گردشِ زمانہ کے ساتھ ساتھ محبت کی یہ یادگار اُجڑنے کو ہے ،مقبرے کے اردگرد کے باغات جھاڑ جھنکار اور وحشت زدہ جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں اور لوگوں نے اسے ’آسیب زدہ قبرستان‘ قرار دینا شروع کر دیا، ایک ایسا مقام جہاں شام کے بعد جانے سے علاقہ مکین کترانے لگے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ نہ مقبرے میں نصب کوئی قیمتی پتھر بچا اور نہ ہی اس مقام کی وہ حیثیت رہی۔

مقبرہ بے نشان ہونے لگا تو ذہنوں سے اس کی یاد بھی مٹنے لگی۔

پشاور کے مقامی افراد میں بھی گنتی کے کچھ لوگ اس جگہ پر مقبرے اور اس کی تاریخ سے واقف ہیں تاہم بزرگ اس مقام کو آج بھی پری چہرہ کے نام سے ہی یاد کرتے ہیں جو اپنی ثقافتی اور تاریخی حیثیت شاید اب بہت حد تک کھو چکا ہے۔

پری چہرہ کے مقبرے پر ایک صدی بعد محکمہ آثار قدیمہ کی نظر

ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی خیبر پختونخوا قدیم مقامات کے تحفظ کی ضامن ہے لیکن پشاور کی تاریخ پر نظر رکھے ڈاکٹرعلی جان کا کہنا ہے کہ نادر شاہ کی ملکہ کے مقبرے کے تحفظ میں ہمیں غفلت اور بے توجہی نظر آتی ہے۔

ماضی قریب میں نافذ خیبرپختونخوا ایکٹ 2016 کے تحت صوبے میں موجود وہ تمام مقامات اور عمارتیں جو سو سال سے پرانی ہوں آثار قدیمہ کے زمرے میں آتی ہیں، اسی ایکٹ کے تحت پشاور میں بھی تاریخ کا حصہ رہنے والے درجنوں مقامات کی مرمت و بحالی کا کام گاہے بگاہے جاری رہتا ہے۔

ایسے میں مقبرہ پری چہرہ پر بھی آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی نظر پڑ گئی۔ ڈائریکٹر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق انھیں اس مقام کی تاریخی حیثیت کا بخوبی ادراک ہے لیکن مقبرے کی اراضی پر اس وقت بااثر مقامی افراد قابض ہیں چنانچہ گذشتہ سال پری چہرہ کے مقبرے کی تاریخی اہمیت کی بحالی کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر پشاور کو خط کے ذریعے اس مقام کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر آرکیالوجی کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ڈپٹی کمشنر کے سنجیدہ اقدامات کی صورت یہ جگہ جلد ان کی تحویل میں دی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد پہلے مرحلے میں صفائی ستھرائی کے بعد ماہرین آثار قدیمہ اس مقام پر موجود پری چہرہ سمیت دو مزید قبروں کو ( جو حاکم پشاور نواب ناصر خان کے خاندان کی ہیں) محفوظ کر کے اس مقام کو سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کے خواہاں ہیں۔

یہ تمام منصوبہ بندی اپنی جگہ لیکن مقبرے کی اراضی کی ملکیت کے دعویداروں سے ضلعی انتظامیہ کی گفت وشنید اور معاملہ کے تصفیہ تک پری چہرہ کی آخری آرام گاہ کے احاطہ کے باہر ڈیپارٹمنٹ آف آرکیالوجی کی جانب سے معلوماتی بورڈ لگا کر اسے آثار قدیمہ کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے۔