بیٹے کی خواہش، عامل کے کہنے پر سر میں کیل ٹھونکنے والی خاتون کے خاندان کا سراغ لگا لیا گیا

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں پولیس نے بیٹا پیدا کرنے کی خواہش کی خاطر عامل کے کہنے پر اپنے ماتھے میں خود کیل ٹھوکنے والی خاتون کے خاندان کا سراغ لگا لیا ہے۔

پشاور پولیس کے سی سی پی او عباس احسن کے مطابق انکوائری ٹیم کو متاثرہ خاتون کے خاندان تک رسائی حاصل ہو گئی ہے اور ان کے شوہر سے بھی رابطہ ہو چکا ہے جنھیں پشاور طلب کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ہسپتال کی رسید میں متاثرہ خاتون کی انٹری باز گل کے نام سے ہوئی ہے۔ مبینہ طور پر خاتون کے تین بچے ہیں جن میں دو بیٹے ایک بیٹی شامل ہے۔ بچوں کی عمریں بالترتیب نو سال، تین سال اور دو سال ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون ہسپتال میں درج پتے پر موجود نہیں ہیں اور ابتدائی معلومات کے مطابق کسی رشتہ دار کے گھر میں ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔

گذشتہ روز پشاور میں پولیس نے بیٹا کی خواہش کی خاطر عامل کے کہنے پر دو روز قبل اپنے ماتھے میں خود کیل ٹھوکنے والی خاتون، ان کے خاندان اور اُس عامل کی تلاش شروع کی تھی۔

پشاور پولیس کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے عملے سے بھی سوالات کیے جائیں گے کہ انھوں نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع کیوں نہیں دی تھی۔

پشاور پولیس کے سی سی پی او عباس احسن کے مطابق اس واقعے کی تفتیش اور اُس جعلی پیر کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جس کے کہنے پر خاتون نے بیٹا پیدا کرنے کی خاطر اپنے ماتھے میں کیل ٹھونکی تھی۔

کیل ٹھونکنے کی وجہ کیا بنی؟

آپریشن کرنے والی ٹیم میں موجود ایک ڈاکٹر کے مطابق خاتون سے جب ہسٹری لی گئی تو خاتون نے بتایا کہ انھوں نے درحقیقت کیل خود اپنے ماتھے پر ٹھونکی تھی۔

خاتون نے بتایا کہ وہ تین بچوں کی ماں ہیں اور اس وقت بھی حاملہ ہیں۔ ان کے خاوند کا مطالبہ تھا کہ اس مرتبہ ہر صورت میں بیٹا ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ خاوند نے ان کو نہ صرف شدید دباؤ میں رکھا ہوا تھا بلکہ یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر اس مرتبہ بیٹی ہوئی تو وہ ان خاتون کے ساتھ نہ صرف سختی کرے گا بلکہ انھیں گھر سے نکال دے گا۔

ڈاکٹر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ وہ ان باتوں سے بہت زیادہ پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔

ایل آر ایچ کے ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان خاتون کے مطابق انھیں ایک جاننے والی خاتون نے بتایا کہ وہ بھی ان حالات سے گزر چکی ہیں اور ایک عامل سے مدد لی تھی جس کے بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا اور وہ خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔

ماتھے میں کیل ٹھوکنے والی خاتون نے اس کے بعد عامل سے رابطہ کیا اور اس کی فیس کے لیے قرض بھی لیا۔

ڈاکٹر کے مطابق ان خاتون کو عامل نے کہا کہ بیٹا پیدا کرنے کے لیے انھیں مختلف عمل کرنے ہوں گے اور ساتھ میں ایک کیل دیتے ہوئے یہ تاکید کی کہ اس کو رات کے ایک مخصوص وقت میں اپنے ماتھے میں ٹھونکیں، جس کے بعد خاتون نے رات کے مخصوص وقت میں ایسا ہی کیا۔

خاتون کے مطابق کیل ٹھونکنے کے بعد ان کا خون بہنا شروع ہو گیا تھا اور وہ بے ہوش ہو گئیں اور بعد میں ہسپتال میں جا کر انھیں دوبارہ ہوش آیا ہے۔

معاملہ سامنے کیسے آیا؟

پشاور میں ایک خاتون کی تصاویر وائرل ہوئی اور ایسی اطلاعات سامنے آئیں جس میں ایک خاتون نے اپنے ماتھے پر کیل ٹھونکی ہوئی تھی۔

متاثرہ خاتون کو دو دن قبل رات کے وقت لیڈی ریڈنگ پشاور کی ایمرجنسی میں لایا گیا۔ خاتون بے ہوشی کی حالت میں تھیں اور ان کے ماتھے پر لگی ہوئی کیل کھوپڑی کے اندر تک گھسی ہوئی تھی جس سے خون بہہ رہا تھا اور خاتون کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ایمرجنسی میں موجود ایک ڈاکٹر کے مطابق جب خاتون کو ان کے پاس لایا گیا تو ان کا سی ٹی سیکن کرنے کے بعد فوراً نیورو وارڈ کو ایمرجنسی کال کی گئی اور ہنگامی طور پر آپریشن کی تیاریاں کی گئیں، کیونکہ خاتون کی حالت تشویش ناک تھی اور خاتون حاملہ بھی تھی۔

ڈاکٹر کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے اندر فی الفور آپریشن کر کے ان کے ماتھے میں لگی کیل کو نکالا گیا جس کے بعد خاتون کی حالت سنبھلنا شروع ہو گئی۔

البتہ خاتون کی حالت بہتر ہونے کے بعد ان کے گھر والے انھیں ساتھ لے گئے۔