الطاف حسین کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ: ’پاکستان میں جمہوریت ناپختہ، اصل طاقت فوج کے پاس ہے‘، برطانوی عدالت کے سامنے بیان

الطاف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, رفاقت علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ کی بارہ رکنی جیوری کو جو متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے، جمعے کے روز بتایا گیا کہ ’پاکستان میں جمہوریت ناپختہ ہے اور اصل طاقت پاکستانی فوج کے پاس ہے‘۔

برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف الطاف کے خلاف 22 اگست 2016 کو لندن سے خطاب کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں ٹیررازم ایکٹ 2006 کے تحت مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

الطاف حسین ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

جمعے کو ایک برطانوی مصنف ڈاکٹر نکولا خان جیوری کے سامنے ایک ماہر گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔

ڈاکٹر نکولا نے پاکستانی سیاست میں تشدد کے عنصر پر تحقیق کی اور دو کتابوں، 'مہاجر ملیٹینسی ان پاکستان' اور 'سٹی سکیپ آف وآئلینس ان کراچی' تحریر لکھی ہیں۔ ڈاکٹر نکولا اس وقت برطانیہ کی برائٹن یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں۔

ڈاکٹر نکولا نے متحدہ مہاجر محاذ سے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہونے والی جماعت کے قیام کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم عمومی طور تقسیم ہند کے موقع پر انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔

پاکستان کے قیام کے ابتدائی عشروں میں ہجرت کر کے آنے والوں کی اکثریت کراچی میں آباد ہوئی، اور وہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر نکولا نے بتایا کہ جب ستر کی دہائی میں پاکستان کی یونیورسٹیوں میں طلبا نے ہتھیار اٹھانے شروع کیے جو افغان جہاد کی وجہ سے انھیں باآسانی دستیاب تھے، تو الطاف حسین نے بھی آل پاکستان مہاجر سٹٹوڈنٹ آگنائزیشن کے نام سے تنظیم بنائی۔

الطاف حسین نے سنہ 1984 میں مہاجر قومی محاذ کی بنیاد رکھی، جس کے ابتدائی مطالبات میں سے ایک مہاجروں کو پاکستان کی پانچویں قومیت کے طور پر تسلیم کرنے کا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قیام کے بعد کراچی میں مہاجروں اور پشتونوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔

پاکستانی فوج نے کراچی میں تشدد پر قابو پانے کے لیے متعدد فوجی آپریشنز کیے اور الطاف حسین سنہ 1992 میں پاکستان چھوڑ کر برطانیہ آ بسے۔

آطاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر نکولا نے وکلا کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ الطاف حسین نے لندن سے اپنی جماعت پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا اور وہ ٹیلیفون کے ذریعے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ وہ یہ تو نہیں کہہ سکتی ہیں کہ الطاف حسین نے لندن سے ٹیلیفون پر 'ہزاروں' خطاب کیے لیکن یہ صحیح ہے کہ انھوں نے بڑی تعداد میں خطاب کیے ہیں۔

ڈاکٹر نکولا نے کہا کہ جب کراچی میں تشدد اپنے عروج پر تھا تو ایم کیو ایم سیاسی طور پر بہت کامیاب ہوئی اور وہ سنہ 1988 کے عام انتخابات میں ملک کی تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔

ڈاکٹر نکولا خان نے جیوری کو بتایا کہ ایم کیو ایم نے مقامی حکومتوں کے انتخاب میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مصطفیٰ کمال کو کراچی کا میئر چنا گیا۔

ڈاکٹر نکولا نے کہا کہ مصطفیٰ کمال بہت مقبول تھے اور انھوں نے شہر میں بہت سے ترقیاتی کام کیے تاہم کچھ عرصے بعد مصطفیٰ کمال کراچی چھوڑ کر دبئی چلے گئے۔

ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ سنہ 2015 میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے ہیڈکواٹرز نائن زیرو پر چھاپا مارا۔ انھوں نے کہا نائن زیرو پر چھاپے کی کارروائی کو مقامی ٹی وی چینلوں پر براہ راست نشر کیا گیا جو ایم کیو ایم کے کارکنوں کے لیے شرمندگی کا باعث تھا۔

نائن زیعرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز نائن زیرو پر پاکستان رینجرز کا چھاپہ الطاف حسین کی جانب سے سینیٹ کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کے اعلان کے ایک روز بعد مارا گیا تھا۔

ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تین ونگز ہیں جن میں سیاسی، عسکری اور فلاحی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا فلاحی ونگ خدمت خلق کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ ایم کیو ایم نے کبھی بھی اپنے عسکری ونگ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہ ایم کیو ایم کے ڈھانچے میں کراچی کو تین زونز میں بانٹا گیا ہے، جس کے 26 سیکٹرز اور 207 یونٹس ہیں۔

ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ پاکستانی پریس میں ایم کیو ایم کو بہت برا بھلا کہا جاتا ہے اور پاکستانی سیاستدان ایم کیو ایم سے نفرت کرنے کو پسند کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نکولا نے جیوری کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے تین ججوں نے اپنے ایک حکم میں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو حکم دیا کہ وہ لندن سے الطاف حسین کی تقاریر رکوائے جس پر پیمرا نے کامیابی سے عمل درآمد کروایا۔

جب ڈاکٹر نکولا خان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جانتی ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے کون تھے اور ان کی پشت پناہ کون کر رہا تھا، تو انھوں نے لاعملی کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر نکولا خان نے بتایا کہ 22 اگست 2016 کو الطاف حسین کی تقریر کے بعد ایم کیو ایم کے دو سرکردہ رہنماؤں، ڈاکٹر فاروق ستار اور اظہار الحسن کو گرفتار کر لیا تھا، جنھیں اگلے روز رہا کر دیا گیا۔

ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر نکولا خان نے بتایا کہ 22 اگست 2016 کو الطاف حسین کی تقریر کے بعد ایم کیو ایم کے دو سرکردہ رہنماؤں، ڈاکٹر فاروق ستار اور اظہار الحسن کو گرفتار کر لیا تھا جنھیں الگے روز رہا کر دیا گیا۔

ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کی تقریر کے بعد واسع جلیل کے ذریعے اپنے تقریر میں ادا کیے الفاظ پر معذرت کی تھی۔

ڈاکٹر نکولا خان نے ایک سوال کے جواب میں اتفاق کیا کہ پاکستان رینجرز کی ماورائے عدالت قتل کرنے کی ایک تاریخ رہی ہے اور اس پر ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی ماورائے عدالت قتل سے کیا مراد ہے تو ان کا کہنا تھا 'غیر قانونی طریقے سے قتل کرنا'۔

ڈاکٹر نکولا نے کہا کہ ایم کیو ایم کو دبانے کے لیے تمام طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر نکولا خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایم کیو ایم بھی معصوم نہیں ہے اور اس نے ریاست کی طاقت کی علامتوں پر حملے کیے۔ انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے پولیس سٹیشنوں اور پولیس اہلکاروں پر حملے کیے۔

ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین اپنی کئی تقریروں میں کہہ چکے ہیں کہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے۔

ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں شہری اور دیہی علاقوں کا کوٹہ مقرر کرنے اور صوبہ سندھ کے سرکاری دفاتر میں سندھی زبان کے استعمال سے متعلق قوانین نے کراچی کے لوگوں کو بہت ناراض کیا۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے دفاتر میں سندھی زبان کے استعمال کے قانون کو تو احتجاج کے بعد ختم کر دیا گیا تھا لیکن کوٹہ سے متعلق قانون پر عمل درآمد ہوا جس کی وجہ سے غیر مہاجر لوگوں کو سندھ اربن کے کوٹے سے بہت سی ملازمتیں مل گئیں۔

انھوں نے کہا جب سنہ 1992 میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تو اسی دوران ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے ایک جماعت بھی سامنے آئی۔

ڈاکٹر نکولا نے کہا جب الطاف حسین نے سنہ 2015 میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف اور بلوچی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تو یہ بات پسند نہیں کی گئی۔

ڈاکٹر نکولا نے کہا کہ انسانی حقوق کی ایک کارکن صبین محمود نے جب بلوچستان میں فوج کی کارروائیوں سے متعلق ایک بات چیت کا اہتمام کیا تو انھیں مار دیا گیا۔

ایم کیو ایم کی نظریاتی اساس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر نکولا خان نے کہا کہ ایم کیو ایم مکمل طور پر سیکولر تو نہیں لیکن سیاسی طور پر متعدل جماعت ہے۔

انھوں نے اس رائے سے اتفاق کیا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کی حمایت کی ہے اور دوسری سیاسی جماعتوں کے برعکس ایم کیو ایم میں عورتوں کی نمائندگی زیادہ ہے۔

انھوں نے کہا پاکستانی معاشرہ متشدد ہے اور اس معاشرتی تشدد کا اظہار پاکستانی سیاستدانوں کی تقریروں میں ہوتا ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹرنکولا خان نے پاکستانی سیاستدانوں کی تقاریر کا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقاریر سے موازنہ کیا ہے۔

لندن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

انھوں نے کہا نہ پاکستانی ریاست اور نہ ہی ایم کیو ایم معصوم ہیں۔

ڈاکٹر نکولا خان نے اس رائے سے اتفاق کیا کہ ایم کیو ایم نے ذرائع ابلاغ کو دبانے کے لیے دھونس کا استعمال کیا ہے اور کراچی میں کاروباری حضرات سے بھتہ بھی وصول کیا۔

ڈاکٹر نکولا خان نے تسلیم کیا کہ ایم کیو ایم کی وجہ سے کراچی کے رہائشیوں کو بہت مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انھوں نے کراچی چیمبرز آف کامرس کے اس اندازے کا حوالہ دیا، جس میں دعویٰ کیا تھا میں کراچی میں ایم کیو ایم کی ایما پر ہونے والی ہڑتالوں کی وجہ سے روزانہ 37 ملین ڈالر کا نقصان ہوتا تھا۔

ڈاکٹر نکولا خان کا کہنا کہ ایک وقت کراچی کے نوجوانوں کے لیے ایم کیو ایم میں شمولیت بہت پُرکشش تھی، جہاں انھیں طاقت کا احساس ہوتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 2016 میں کراچی پر ایم کیو ایم کا اثر بہت کم ہو چکا تھا اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم ختم ہو چکی ہے۔

مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔