پیناڈول: پاکستان میں پیناڈول کی گولی کی قلت کی وجوہات کیا ہیں؟

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’غریبوں کے لیے پیناڈول کی گولیوں کا پتا 20 روپے کا اور امیروں کے لیے 30 روپے۔ کراچی سے پیناڈول کی گولی کیا غائب ہو گئی ہے؟‘

یہ کراچی کے ایک میڈیکل کے سیلر اور سوشل میڈیا پر ایک رہائشی کے تاثرات ہیں۔ ایک اور میڈیکل سٹور کے سیلزمین کے مطابق وہ 30 روپے کا پتا اس لیے فروخت کر رہے ہیں کیونکہ انھیں دس گولیوں کا پتا ہول سیلر سے 26 روپے میں مل رہا ہے۔

ایک نجی ہسپتال کی فارمیسی سے پیناڈول کی گولی فی پتا 20 روپے میں دستیاب تھی کیونکہ ان کے پاس ’پرانا اسٹاک موجود تھا جبکہ شہر کے صدر کے علاقے میں ایک میڈیکل سٹور پر یہ دوا ’قلت کے باعث‘ موجود ہی نہیں تھی اور اس کے بدلے گاہکوں کو پونسٹان گولی خریدنے کے بارے میں کہا جا رہا تھا۔

تاہم یہ قلت صرف کراچی تک ہی محدود نہیں، اس حوالے سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی پیناڈول کی قلت برقرار ہے اور اس بارے میں محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان کے مطابق ’کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔‘

پاکستان میں پیناڈول کی قلت نئی بات نہیں۔ اس سے قبل گذشتہ سال نومبر میں بھی اس کی قلت سامنے آئی تھی جس کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ کی مداخلت کے بعد ہی دستیابی یقینی بنائی جا سکی تھی۔

اب ایک مرتبہ پھر سے ملک میں پیناڈول کی قلت کی خبریں سامنے آنے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ملک میں پیناڈول کی دوبارہ قلت کی اصل وجوہات کیا ہیں اور یہ کب تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

’انڈیا سے خام مال منگوایا نہیں جا سکتا اور پاکستان میں ذخیرہ کرنے کی سہولت نہیں‘

حکام کے مطابق پاکستان میں پیراسیٹامول کے خام مال کی آمد میں کمی اس قلت کی ایک اہم وجہ بتائی جا رہی ہے۔

پاکستان ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر ادویات کی درآمدات چین سے ہوتی ہیں اور چین میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے آدھی سے زیادہ انڈسٹریز بندش کا شکار ہیں جس کے باعث خام مال کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

کراچی میں ڈرگ اسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان میں پیراسیٹامول کا خام مال چین سے درآمد کیا جاتا ہے وہاں فیکٹری کو حکومت نے آلودگی کی وجہ سے بند کر دیا ہے اور دیگر دو فیکٹریوں سے خام مال آ رہا ہے لیکن اس کی مقدار کم ہے۔

’لہٰذا خام مال کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ دوا تیار نہیں کی جا رہی ہیں ان کے مطابق پیناڈول کے ساتھ آئی بی پروفن کی بھی قلت کا سامنا ہے۔

صلاح الدین کے مطابق ’پاکستان کے انڈیا سے تعلقات بہتر نہیں ہیں اس لیے وہاں سے خام مال منگوایا نہیں جا سکتا جبکہ پاکستان میں خام مال ذخیرہ کرنے کی سہولت نہیں اور نہ ہی حکومت ان ضروری ادوایات کا خام مال رکھتی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں اس کا استعمال کیا جا سکے۔‘

ادھر لاہور میں ڈرگ کورٹ میں ایک درخواست بھی زیرسماعت ہے جس میں مدعی کا مطالبہ ہے کہ مصنوعی قلت کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ بلیک مارکیٹ کے باعث اس کی قلت پیدا کی گئی ہے۔

پاکستان ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی یعنی ڈریپ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ رواں سال چار کروڑ سے زیادہ پیناڈول ٹیبلٹس تیار کی گئیں تھیں۔ کمپنی کو مزید دو کروڑ پیناڈول بنانے کے لیے خام مال فراہم کیا گیا تھا لیکن یہ صرف 17 لاکھ سے گولیاں بنا سکی ہے۔

لاہور میں پیناڈول کی حالیہ قلت کے حوالے سے سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر عمران سکندر بلوچ کا کہنا ہے کہ پیناڈول گولی کی دستیابی کے حوالے سے محکمہ اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے اور اس سلسلہ میں کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں چھ کروڑ 80 لاکھ پیناڈول کی گولیوں کا سٹاک موجود ہے جبکہ صرف صوبائی دارالحکومت لاہور میں 82 لاکھ 19 ہزار گولیاں سٹاک کے طور پر رکھی گئی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ راولپنڈی ڈویژن میں ایک کروڑ 10 لاکھ، ملتان ڈویژن میں 88 لاکھ جبکہ گوجرانوالہ ڈویژن میں 86 لاکھ پیناڈول کی گولیاں سٹاک میں موجود ہیں۔

قیمتوں میں اضافے کی وجہ صرف قلت ہے؟

پاکستان میں جہاں گذشتہ سال نومبر سے پیناڈول اور آئی بی پروفن کی قلت کی شکایات تھیں وہاں نئے سال کے پہلے ہی مہینے میں ڈریپ کی جانب سے نو سے 15 فیصد قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی گئی۔

تاہم اس اضافے کی واحد وجہ قلت نہیں۔ ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق انڈسٹری سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بہت سی ادویات کم قیمت ہونے کی وجہ سے ان کی تیاری کاروباری لحاظ سے موزوں نہیں رہی اور ڈریپ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے مشکل فیصلے کو روکے رکھا۔

’لیکن جب مارکیٹ میں جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی عدم دستیابی بڑھنے لگے گی تو مریضوں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں قیمتوں میں مناسب اضافے کا قدم اٹھایا گیا۔‘

پاکستان میں پیراسیٹامول فیملی میں سے گلیکسو سمتھ کلائن (جی ایس کے) کمپنی پیناڈول گولیاں اور سیرپ بناتی ہے، چھوٹے بڑے شہروں میں پیناڈول دیگر ضروری اشیا کی طرح تقریباً ہر گھر میں موجود ہوتی ہے۔

سر درد، بخار، گلے میں خراش سے لے کر جسم میں درد کے لیے پہلا علاج اسی کو ہی مانا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے پیراسیٹامول بمشول پیناڈول کو ضروری ادویات کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سعید قریشی بتاتے ہیں کہ پیراسٹامول بنیادی طور پر درد سے چھٹکارے اور انفیکشن کے علاج کی گولی ہے، جب بھی کس کو بخار ہو رہا ہو یا کسی قسم کا درد ہو رہا ہو، پٹھوں میں درد ہو تو اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کیا یہ بحران عارضی ہے؟

پاکستان کے علاوہ برطانیہ، فلپائین، انڈیا سمیت دیگر ممالک میں بھی پیراسیٹامول کی قلت کی خبریں میڈیا میں آچکی ہیں۔ پاکستان ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی کے سی ای او عاصم رؤف کے دفتر میں متعدد بار رابطے کی باوجود ان کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

کراچی ڈرگ اسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین شیخ کا کہنا ہے کہ چین میں مارچ میں بند فیکٹریاں کھلنے کے امکان ہے جس کے بعد خام مال کی فراہمی ہو گی اور اس کے بعد ہی صورتحال میں بہتری کا امکان ہے۔

لاہور کی میڈیسن مارکیٹ کے ہول سیلر ریاض ملک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قلت میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنینشل مارکیٹ میں اگر خام مال کی دستییابی نہیں ہوتی، کووڈ کی کوئی نئی لہر آتی ہے یا سردیوں کے بعد ڈینگی میں اضافے کا امکان ہے اس صورتحال میں کھپت بڑہے گی اور قلت شدید ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا میں پیناڈول کی کھپت میں اضافہ

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو کووڈ اور اس کے بعد آنے والے اومیکرون وائرس سے متاثر ہوا۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 64 ہزارسے زائد افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے چھ ہزار سے زیادہ کا نتیجہ پازیٹو آیا۔

اس سے قبل لاہور اور کراچی میں دسمبر میں ڈینگی کے کیسز میں بھی اضافہ ہوا تھا۔

انڈس ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری کا کہنا ہے کہ کووڈ اور ڈینگی کی وجہ سے پیناڈول اور مجموعی طور پر پیرا سیٹامول کی کھپت میں اضافہ ہوا۔

ان کے مطابق ’جو بھی ویریئنٹ ہو مریض کو پیناڈول دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈینگی یا ملیریا کا بخار ہو اس میں پیناڈول یا پیراسیٹامول دی جائے گی۔ یہاں کووڈ پہلے ہی تھا پھر ڈینگی بھی آ گیا تو اس کی کھپت بڑھ گئی۔‘

لاہور کی میڈیسن مارکیٹ کے ہول سیلر ریاض ملک کا کہنا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے دنیا بھر میں پیناڈول کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے خام مال پر دباؤ آیا ہے جس کی وجہ سے پیداوار متاثر ہوئی ہے اور قلت پیدا ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کمپنی قلت کی صورت میں ہول سیلر کے بجائے ریٹیلر کو مطلوبہ دوا فراہم کرتی ہے تاکہ اس کا کسٹمر متاثر نہ ہو اور کسی کمپنی کی طرف رجوع نہ کرے اور موجودہ وقت میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے، ہول سیل مارکیٹ میں تو قلت ہے لیکن عام سٹور پر دستیاب ہے۔‘

پیناڈول کا متبادل

پاکستان میں دوا سازی کی متعدد مقامی اور بین الاقومی کمپنیاں کام کر رہے ہیں، جی ایس کے پیناڈول کے نام سے گولیاں اور سیرپ بناتی ہے اور حالیہ قلت کے بارے میں ان کا مؤقف جاننے کے لیے ویب سائٹ پر فراہم کی گئی ای میل پر موقف طلب کیا گیا لیکن ان کی جانب سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔

ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر سعید قریشی کا کہنا ہے کہ ’کوئی ایک کمپنی نہیں جو پیراسیٹا مول بناتی ہے بلکہ ایسی متعدد کمپنیاں ہیں۔ اس کا ایک متبادل اسپرین بھی ہے لیکن اس کے سائیڈ افیکٹس بھی آتے ہیں پیراسیٹامول کے مضر اثرات نہیں ہیں اس لیے اس کو اولیت دی جاتی ہے۔‘

پیرا سیٹامول عمر کے حساب سے بھی دستیاب ہے اور ان میں ڈراپس، سیرپ، گولی اور انجیکشن شامل ہیں۔

ماہر امراض اطفال ڈاکٹر اعجاز جنجھی کہتے ہیں کہ ’یہ اقسام درجن کے قریب کمپنیاں بنا رہی ہیں لیکن لوگوں کے ذہنوں میں برانڈ نیم چھایا ہوا ہے اگر ڈاکٹر کسی دوسری کمپنی کی دوا لکھ بھی دے تو مریض کا ذہن اس کو قبول نہیں کرتا ہے حالانکہ وہ ہی فارمولا ہے اور اس کی قیمت بھی قدرے کم ہے اس لیے لوگوں میں یہ شعور لانے کی بھی ضرورت ہے کہ ایک ہی فارمولے پر متعدد کمپنیاں ادویات بناتی ہیں سب کے اثرات ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔‘