آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سادھو بیلہ کا مندر جہاں پجاریوں کے اشلوک سے زیادہ اس کی قدیم دیواریں بولتی ہیں
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو
پاکستان کے صوبہ سندھ کا نام آتے ہی ذہن میں جو چیز سب سے پہلے آتی ہے وہ اس خطے کی مہمان نوازی، اپنائیت اور خوش اخلاقی ہے۔ سادھو بیلہ کا مندر اور اس کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب کبھی مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کی ضرورت محسوس ہوئی تو سب نے اپنا اپنا فرض نبھایا ہے۔
ایک زمانے میں سادھو بیلہ کے مندر کے اطراف میں گرجا گھر اور پارسی برادری کی عبادت گاہیں موجود ہوتی تھیں جبکہ اس مندر کے بالکل سامنے ایک مسجد آج بھی قائم ہے۔
دریائے سندھ یا سندھو دریا کے پاس مختلف شہر آباد ہیں اور ان شہروں کو قائم کرنے والوں کی منفرد کہانیاں بھی گاہے بگاہے منظرِ عام پر آتی رہتی ہیں۔ اسی دریا کے بیچوں بیچ سادھو بیلہ کا مندر واقع ہے جو روہڑی اور سکھر کے درمیان میں ہے۔
سادھو بیلہ یا سدھ بیلو کی کہانی یہ ہے کہ سنہ 1823 میں اداسی یا اداسین کہے جانے والے پنتھ سے تعلق رکھنے والے ایک پجاری سوامی بانکھنڈی نے اس مندر کو بنوایا تھا کہ ہندو برادری کو ان کی قدیمی روایات دوبارہ یاد کرائی جا سکیں۔
اداسین پنتھ ایک مذہبی روایت ہے جسے سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کے بڑے بیٹے شری چند نے چودھویں صدی کے اوائل میں شروع کیا تھا۔ اس روایت سے جڑے سادھو سنیاسی ہوتے ہیں اور اپنی تمام عمر مذہبی کتابیں پڑھنے میں گزار دیتے ہیں۔ مغربی انڈیا سے شروع ہونے کے بعد سندھ اس وقت اداسین پنتھ سے تعلق رکھنے والوں کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔
19ویں صدی کے اواخر تک سکھر میں ہندو اور مسلم ’زندہ پیر‘ کی درگاہ پر ایک ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ سنہ 1874 کے گیزیٹئیر آف سندھ میں بھی اس اجتماعی عبادت کا تذکرہ ہے، لیکن جب تک سنہ 1919 کا گیزیٹ تیار ہوا تب تک ہندو اس جزیرے سے ہٹ چکے تھے۔
کیونکہ برٹش راج کے دور میں ہی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ شروع ہو چکا تھا جس کا نتیجہ اپنی عبادت گاہوں کو قدیم جتانے کی کوششوں میں گزر گیا۔ اور ایک ساتھ عبادت کرنے والے اب اپنی اپنی عبادت گاہوں کی دیواریں اونچی کرنے میں لگ گئے۔
اس پس منظر کے باوجود سادھو بیلہ کا مندر آج بھی سب کے لیے کھلا ہے اور یہاں تک پہنچنا آسان ہے۔ یہ مندر نو ایکڑ علاقے پر مشتمل ہے جہاں پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ انڈیا، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ سے ہندو یاتری آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مندر تک پہنچنے کے لیے دریا عبور کرنا پڑتا ہے جس کے لیے ایک چھوٹی سی کشتی ہر وقت کھڑی رہتی ہے۔ اس کشتی میں بیٹھتے ہی ایک طرف انیسویں صدی میں بنایا گیا لینس ڈاؤن برج نظر آتا ہے جو سکھر اور روہڑی کو جوڑتا ہے اور دوسری جانب ’زندہ پیر‘ کی درگاہ نظر آتی ہے جو ایک دور میں ہندو اور مسلمانوں کی مجموعی عبادت گاہ ہوا کرتی تھی۔
اس مندر کے اندر پجاریوں کے شلوک سے زیادہ یہاں بنی دیواریں بولتی ہیں۔
مندر کے احاطے میں داخل ہونے سے بالکل پہلے دیوار پر سورگ یعنی جنت اور نرگ یعنی دوزخ کا منظر دکھایا گیا ہے۔ جس میں زندگی کا ایک نادر اصول بتایا گیا ہے کہ جو پیدا ہوا ہے اسے ایک دن مرنا بھی ہوگا اور اپنا کیا یہیں بھگت کر جانا ہو گا۔
اس مندر کی ہر دوسری دیوار کسی نہ کسی دور میں نافذ حکومت کی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے ایک دیوار پر بنے پھول اور دیگر نقش مغل دور کے لگتے ہیں۔ اور دیگر جگہوں پر بھی یہ نقوش نظر آتے ہیں۔ جبکہ اس مندر میں چھوٹے بڑے آستانے، دربار اور چھوٹے چھوٹے مندر بنائے گئے ہیں۔
سکھر اور سادھو بیلہ کی تاریخ ایک دوسرے سے کیسے ملی؟
ممتاز بخاری ایک صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سادھو بیلہ اور سکھر کی تاریخ کا میل جلد یا بدیر ہونا ہی تھا۔
’بنیادی طور پر یہاں سندھو دریا بہتا تھا جب اروڑ (روہڑی کا قدیمی نام) سندھ کا دارالحکومت تھا۔ ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں دریا نے اپنا رُخ بدلنا شروع کر دیا اور بعد میں دسویں صدی عیسوی میں یہاں بہنے لگا۔ یہاں بہت سے چھوٹے پتھر اور جزیرے بن گئے تھے۔‘
ممتاز نے بتایا کہ اس (مندر) کی پہچان سکھر کے لحاظ سے اس طرح بنی کہ بنیادی طور پر یہاں ہندو فرقے رہا کرتے تھے۔ ’اس سے پہلے ہندو لفظ نہیں کہا جاتا تھا۔ وہ تو انیسویں صدی عیسوی میں انگریزوں نے اسے ہندو لکھنا شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے یہاں پر مختلف دھرم تھے۔ چندر ونسی (چاند کی پوجا کرنے والے)، جھل ونسی (پانی کی پوجا کرنے والے)، سورج ونسی (سورج کی پوجا کرنے والے)، اور اروڑ ونسی جو بدھ مت کو مانتے تھے۔ بانکھنڈی مہاراج کے اس مندر کو تعمیر کرنے سے سب فرقے یکجا ہو گئے۔‘
ممتاز بخاری نے بتایا کہ اس مندر میں مختلف مذاہب کے لوگ بھی آنے لگے۔ یہاں پر بین المذاہب ہم آہنگی کافی عرصے سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مصنف ایلس ایلبینیا اپنی کتاب ایمپائرز آف دی انڈس میں لکھتی ہیں کہ زندہ پیر پر عبادت کرنے کے حوالے سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تنازع اس بات پر شروع ہوا کہ زندہ پیر کے گنبد نہ ہونے کی پیچھے بنیادی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہاں کسی ہندو بھگوان کی عبادت گاہ رہی ہو۔
مسلمانوں نے جواباً کہا کہ خواجہ خضر کی درگاہ زندہ پیر پر کوئی گنبد اس لیے نہیں ہے کیونکہ ’وہ اب تک زندہ ہیں۔‘
اب اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ یہ دراصل کس کی عبادت گاہ ہے، برٹش دور میں بنی عدالت نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد ہندو برادری نے اپنی الگ عبادت گاہ بنا لی۔
اس تنازع کا تذکرہ برطانوی ریکارڈز میں صرف دو جگہ پر کیا گیا ہے۔ سنہ 1894 میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کی قرار داد میں بتایا گیا تھا کہ ’ہندو جس مقام پر برسوں سے عبادت کرتے آئے ہیں، حکومت کے فائدے میں نہیں ہے اس لیے اسے ’جِند پیر فقیروں‘ کو ایک ہزار نقد میں بیچ دیا جائے۔‘ اور دوسری بار سنہ 1919 کے گزیٹئیر آف سندھ میں جہاں کہا گیا ہے کہ بیس سال پہلے ہندو برادری نے اپنا دعوی رد کرتے ہوئے سکھر دریا کے کنارے ایک علیحدہ درگاہ (یا عبادت گاہ) قائم کرلی ہے۔‘
ماہرین اور تاریخ دان لکھتے ہیں کہ زندہ پیر کے تنازع کے نتیجے میں سادھو بیلہ کے مندر کی تعمیر میں جہاں مدد ملی وہیں ہندو اقدار کو ایک بار پھر فوقیت حاصل ہوئی۔ مثال کے طور پر ایلس اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ’بانکھنڈی کا ایک بڑا مشن ہندو برادری کو روایتی اقدار کی طرف لے جانا اور درگاہوں سے ان کی وابستگی کو ختم کرنا تھا۔‘
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بانکھنڈی مہاراج کے سادھو بیلہ مندر قائم کرنے کے 60 سال بعد ہندو برادری نے مکمل طور پر زندہ پیر کی درگاہ سے تعلق کم کر دیا۔ اور نتیجتاً سادھو بیلہ کے مندر کو انڈیا اور دیگر ممالک میں رہائش پذیر ہندو اور سکھوں سے عطیات ملنے لگے۔
سادھو بیلہ مندر ایک عرصے تک شدید بدانتظامی کا شکار رہا۔ سنہ 2018 تک یہ مندر شدید مخدوش حالت میں تھا جسے کئی مقتدر حلقوں میں برپا ہونے والے شور شرابے کے بعد صحیح کرایا گیا۔ رنگ و روغن ہوا اور صاف صفائی کی گئی۔
اسی مندر سے نکل کر اگر شہر کا رُخ کریں تو کہا جاتا ہے کہ سادھو بیلہ کی عمارت سے ہی مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں نظر آیا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک پارسی برادری کا فائر ٹیمپل ہوا کرتا تھا جو اب بند ہے۔
اس کمپاؤنڈ میں داخل ہوتے ہی دو چیزیں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ جن میں سے ایک یہاں پر موجود فائر ٹیمپل اور دھرم شالہ کا بورڈ ہے اور اس کے ساتھ ہی بنا ماما پارسی سکول اور اس کے اوپر لگی 1923 کی تختی۔
پارسی کمپاؤنڈ کی موجودہ انتظامیہ نے بتایا کہ اب یہاں سے زیادہ تر پارسی کوئٹہ جا چکے ہیں۔ جبکہ بیرونِ ملک رہنے والے پارسی اس کمپاؤنڈ کی نگہداشت اور انتظامی باگ دوڑ کو سنبھالتے ہیں۔
یہاں سے نکلتے ہی جب سینٹ سیوئیرز چرچ کا رُخ کیا تو پتا چلا کہ اس سے پہلے کئی بار اس چرچ پر حملہ ہو چکا ہے۔ تو اب چرچ کا دروازہ بند رہتا ہے لیکن ذرا سی بات چیت اور یہ بتانے پر کہ ہم سب دوسرے شہر سے آئے ہیں، ہمیں اندر جانے دیا گیا۔
ممتاز بخاری اور دیگر ماہرین بتاتے ہیں کہ شہر میں کسی بھی قسم کی چپقلش کے دوران یہاں کی عبادت گاہیں ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کھول دی جاتی ہیں۔ ممتاز بخاری کا کہنا ہے کہ ’شہر یا ملک کا ماحول کچھ بھی ہو یہاں اب بھی رواداری قائم ہے۔‘
ایک زمانہ تھا جب اس شہر کی مختلف عمارتوں سے ہر دوسرے مذہب کی عبادت گاہیں نظر آتی تھیں۔ لیکن اب حال یہ ہے کہ اگر دیکھنا بھی چاہیں تو انھیں عبادت گاہوں کے گِرد بنی اونچی دیواروں پر نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔ آج کے دور میں مذہبی ہم آہنگی پر بات کرنا ایک منفرد امر لگتا ہے، لیکن سندھ میں حالات جیسے بھی رہے ہوں سادھو بیلہ کا مندر اور اسے بنانے والوں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔