آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سٹرج ویبر سنڈروم: ’ٹیچر نے کہا نقاب کریں ورنہ بچے ڈر جائیں گے‘
- مصنف, زنیرہ رفیع
- عہدہ, صحافی
’لوگوں کو کیا پتہ کہ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے۔۔۔ میں آپ سب لوگوں کی طرح شکل و صورت سے نارمل نہیں لگتی مگر کیا پتہ میری نزدیک یہی میری خاص بات ہو۔ ہمارے معاشرے میں اساتذہ کو روحانی ماں باپ کا درجہ دیا جاتا ہے مگر کبھی کبھی یہی استاد ہماری زندگیوں سے بہت سے رنگ چھین لیتے ہیں۔‘
یہ کہنا ہے 22 سالہ حمنہ عثمانی کا جو ’سٹرج ویبر سنڈروم‘ میں مبتلا ہیں۔
سٹرج ویبر سنڈروم کیا ہے؟
سٹرج ویبر سنڈروم (ایس ڈبلیو ایس) ایک ایسا عارضہ ہے جس میں چہرے یا آنکھ پر لال رنگ کا پیدائشی نشان ہوتا ہے جسے پورٹ وائن سٹین یا پورٹ وائن برتھ مارک کہا جاتا ہے۔
اس مرض کے بارے میں اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نیورو سرجن ڈاکٹر فہد علی خان بتاتے ہیں کہ ’انسانی جسم میں لاتعداد جین کام کر رہے ہوتے ہیں اور ہر جین پر ایک تہہ یا کوٹنگ ہوتی ہے۔ اگر اس تہہ یا کوٹنگ میں کوئی فرق آ جائے یا اس کی ساخت میں کسی بھی وجہ سے نقص پیدا ہو جائے تو اسے میوٹیشن کہا جاتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایک مخصوص جین جسے ’جی این اے کیو جین‘ کہتے ہیں، جب اس میں کوئی میوٹیشن یا تبدیلی ہو تو اس کے نتیجے میں انسان کو سٹرج ویبر سینڈرم ہو جاتا ہے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’یہ موروثی بیماری نہیں ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں ’کیونکہ یہ بیماری جینیاتی تبدیلیوں کے باعث ہوتی ہے اور اس تبدیلی کو بدلنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اس لیے اس کا معقول علاج میسر نہیں ہے البتہ اس سے متاثرہ لوگوں کی لیزر ٹریٹمنٹ کی جاتی ہے تاکہ چہرے پر موجود نشان کا رنگ ہلکا کر دیا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر فہد کے مطابق اس بیماری میں انسان کو آنکھوں سے منسلک کالا موتیا جیسے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں جس کا علاج سرجری ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں کو اس بیماری کی وجہ سے مرگی کے دورے بھی پڑتے ہیں جس کا علاج موجود ہے۔
ڈاکٹر فہد کا کہنا تھا ’یہ ایک انوکھی بیماری ہے اور 50 ہزار انسانوں میں سے کوئی ایک فرد اس کا شکار بنتا ہے۔‘
’سکول میں مجبوراً نقاب کر کے پڑھنا پڑا‘
جہاں ایک طرف اسی بیماری کی شرح انتہائی کم ہے، وہیں جس انسان کو یہ بیماری لاحق ہو اسے جسمانی کے ساتھ ساتھ سماجی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انھی مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے حمنہ عثمانی کا کہنا تھا کہ ان کے سکول کی پرنسپل نے انھیں اور اُن کے والد کو بلا کر کہا کہ اگر آپ کی بیٹی اس سکول میں پڑھنا چاہتی ہے تو انھیں نقاب کر کے آنا ہو گا کیونکہ باقی بچے اُن سے ڈر جاتے ہیں۔
حمنہ بتاتی ہیں کہ کہ یہ ان کی زندگی کا بہت مشکل وقت تھا۔ انھوں نے بتایا کہ چند مجبوریوں کے باعث وہ سکول نہیں چھوڑ سکتی تھیں لہذا انھوں نے نقاب کر کے تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن یہ آسان کام نہیں تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس دوران انھیں ’نہ صرف اپنے ساتھی طلبہ سے تضحیک آمیز جملے سننے کو ملتے بلکہ اساتذہ بھی ان کے ساتھ اسی نوعیت کا رویہ برتتے۔‘
انھی وجوہات کی بنا پر حمنہ عثمانی کی خود اعتمادی مکمل طور پر ختم ہو گئی اور سکول کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ان میں ہمت نہ تھی کہ وہ کالج جائیں۔
وہ کہتی ہیں ’میں بہت خود اعتماد تھی اور میرے گھر والوں اور خاندان والوں نے کبھی مجھے الگ ہونے کا احساس نہیں دلایا تھا لیکن سکول جا کر میرا بلند حوصلہ پست پڑ گیا کیونکہ مجھے یہ احساس دلایا گیا کہ مجھ میں کچھ غلط ہے اور اسی باعث میں ڈپریشن اور ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو گئی۔‘
حمنہ بتاتی ہیں کہ اس دوران وہ چڑچڑی ہو گئیں اور گھر والوں سے بھی کترانے لگیں اور ہر وقت روتی رہتیں۔
وہ کہتی ہیں ’لیکن پھر میں نے سوچنا شروع کیا کہ اللہ نے انسان کو بنایا ہے، یہ آپ کے اپنے بس میں نہیں ہے۔ پھر میں اللہ سے ایک ہی دعا کرتی کہ یااللہ آگر آپ نے مجھے یہ بیماری دی ہے تو بس مجھے مطمئن بھی کر دیں۔‘
حمنہ بتاتی ہیں کہ ان کے گھر والے اب بھی کہتے بھی ہیں کہ علاج کروا لو لیکن وہ اب ایسے ہی مطمئن ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہی میری پہچان ہے اور اس کے بغیر میں کچھ نہیں ہوں۔ جو چند لوگ مجھے جانتے ہیں وہ میرے اسی پیدائشی نشان کی وجہ سے جانتے ہیں. میں جیسی ہوں ویسی ہی بہت اچھی ہوں۔‘
بلاگنگ کا سفر کیسے شروع ہوا؟
اپنی بلاگنگ اور سوشل میڈیا پر مقبولیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے حمنہ نے بتایا کہ مختلف سرجریز کے بعد وہ ہر وقت بستر پر ہوتی تھیں اور اس دوران موبائل پر میک اپ ویڈیوز دیکھا کرتی تھیں۔
’مجھے میک اپ کرنا بالکل پسند نہیں تھا۔ مگر ویڈیوز دیکھ کر مجھ میں کافی شوق پیدا ہوا اور میں نے روزانہ اپنا میک اپ کرنا شروع کیا۔ میری بڑی بہن نے مشورہ دیا کہ میں انسٹاگرام پر بھی اپنی کام لگا دیا کروں۔ بس وہیں سے شروعات ہوئی۔ شروع میں ڈر لگتا تھا کہ لوگ تنقید کا نشانہ بنائیں گے لیکن پھر آہستہ آہستہ لوگوں نے بہت تعریف کرنا شروع کر دی۔‘
’منفی تبصروں سے زیادہ پیار ملتا ہے‘
انسٹاگرام پر ویڈیوز اور تصاویر ڈالنے پر رد عمل کے حوالے سے کیے گئے سوال پر حمنہ کا کہنا ہے کہ ’اچھے بُرے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں اور میں نے لوگوں کے منفی تبصروں کو نظر انداز کرنا سیکھ لیا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں ’منفی تبصروں سے زیادہ پیار ملتا ہے۔ لوگ بہت تعریف کرتے ہیں۔ اور میرے بلاگز کا مقصد بھی شناخت کی قبولیت اور سماجی ہم آہنگی ہے۔ مجھے پہلے محسوس ہوتا تھا کہ شاید یہ بیماری گنتی کے چند لوگوں کو ہوتی ہے لیکن بلاگنگ کے بعد مجھے اتنے میسجز آتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے۔‘
حمنہ بتاتی ہیں کہ کئی لوگ ان سے سوال کرتے ہیں کہ ’وہ اپنے چہرے کے بائیں جانب (جہاں پورٹ وائن سٹین نشان ہے) پر میک اپ کیوں نہیں کرتیں’ تو وہ جواب میں انھیں بتاتی ہیں کہ وہ ’اس نشان کو چھپانے کے لیے میک اپ نہیں کرتیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میرا مقصد میک اپ نہیں ہے۔ اگر میرے پاس میک اپ کرنے کی صلاحیت ہے تو میں اس نشان کو کیوں میک اپ سے چھپاؤں۔ میرا تو مقصد ہی خود کو ویسے ہی دکھانا ہے جیسی میں ہوں۔‘
تاہم حمنہ سے جب پوچھا گیا کہ انھیں سب سے تکلیف دہ پیغام کیا ملا تو وہ بتاتی ہیں کہ انھیں ایک پیغام آیا کہ ’ضرور تمھارے والدین نے کچھ ایسا کیا ہو گا جو تم ایسی ہو۔‘
یہ بھی پڑھیے
حمنہ کہتی ہیں ’میں بُرے میسیجز کا جواب نہیں دیتی مگر وہ جملہ ایسا تھا کہ مجھے بہت تکلیف پہنچی اور میں نے وہ انسٹاگرام سٹوری پر شیئر کر دیا۔ اس کے بعد میں نے تو کچھ نہیں کہا لیکن میرے فالورز کو بات اچھی نہیں لگی۔‘
دوسری جانب جب ان سے حوصلہ افزا پیغام کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ’ایک بار انھیں کسی نے بتایا کہ ان کے چہرے پر بھی ایسا ہی نشان ہے لیکن جب سے انھوں نے حمنہ کو دیکھا اُن میں خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں ’یہ وہ پیغام تھا جس نے مجھے بہت سکون اور راحت پہنچائی۔ مجھے احساس ہوا کہ جو میرا مقصد تھا وہ مجھے حاصل ہو گیا ہے۔‘