بلا سود قرض کی ’کامیاب‘ سکیمیں: لوگ حکومت کے سستے قرضے لے نہیں رہے یا لے پا نہیں رہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
انور شاہین چھوٹے پیمانے پر ایک کاروبار کرتے ہیں تاہم وہ اپنے کاروبار میں اضافہ چاہتے ہیں۔ انور شاہین بینک سے قرض نہیں لے سکتے کیونکہ وہاں سے قرض لینے کے لیے ان کے پاس گروی رکھنے کو کچھ نہیں ہے۔
حکومت کی جانب سے جب نوجوانوں کو کاروبار کرنے کے لیے بلا سود قرضے دینے کی سکیم کا اجرا کیا گیا تو انور شاہین نے اس سکیم کے تحت قرض لینے کے لیے درخواست دی اور بینک کی جانب سے تمام کاغذی کارروائی کو بھی پورا کیا۔
تاہم انور شاہین کو ابھی تک یہ قرضہ نہیں مل سکا۔ حکومت کی جانب سے کامیاب پاکستان پروگرام میں بھی انور شاہین نے درخواست دی تاہم انہیں ابھی تک قرض حاصل کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
افتخار رسول ایک سافٹ وئیر ڈویپلر ہیں اور محدود پیمانے پر سافٹ وئیر ڈویلمپنٹ کا کام کرتے ہیں۔ افتخٓار اپنے کام کو بڑھانا چاہتے ہیں جس کے لیے انھیں سرمائے کی ضرورت ہے۔ یہ سرمایہ انھیں حکومت کی جانب سے بلا سود قرضے کی صورت میں مل سکتا ہے اور وہ یہ قرض حاصل کرنے کے خواہش مند بھی ہیں تاہم افتخار رسول نے ابھی تک اس قرضے کے لیے درخواست نہیں دی۔
انھوں نے کہا حکومت کی سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ کاغذی کارروائی اور دوسری ضروریات کی تکمیل کرنا لازمی ہے اور بہت سے فارم بھرنا ہوتے ہیں جو وہ ابھی تک نہیں بھر سکے۔
انھوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک تو ان کے پاس وقت نہیں اور دوسرا بہت سارے فارمز کو بھرنے میں وہ اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ افتخار رسول کو اپنے کاروبار میں وسعت کے لیے پندرہ سے بیس لاکھ کی ضرورت ہے۔
محمد اسماعیل نے وزیر اعظم پاکستان کی کامیاب نوجوان سکیم میں قرض لینے کے لیے درخواست دی تھی اور انھوں نے فارمز اور شرائط بھی پوری کر دی تھیں تاہم انھیں قرض کا اجرا نہیں ہو سکا۔ اسماعیل جو ایک جنرل سٹور قائم کرنا چاہتے ہیں، کہتے ہیں انھیں قرض کیوں نہیں ملا، انھیں معلوم نہیں اور اب انھوں نے اس کی فکر کرنا بھی چھوڑ دی ہے۔
پاکستان میں ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو کاروبار کرنے کے لیے بلا سود قرض دینے کی سکیموں کا اجرا کیا گیا جن میں کامیاب نوجوان پروگرام اور کامیاب پاکستان پروگرام جیسی سکیمیں شامل ہیں۔ تاہم اکثر افراد اس بارے میں شکایت کرتے ملتے ہیں کہ اس قرض کے حصول کے لیے درخواست دینے کے باوجود یہ قرض انھیں نہیں ملا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موجودہ حکومت کی جانب سے اکتوبر کے مہینے میں کامیاب پاکستان پروگرام کی سکیم کا اجرا کیا گیا، جس کے تحت لوگوں کو کاروبار کرنے، زرعی زمین اور مکان خریدنے کے لیے بلاسود قرض دے جانے ہیں جو بینکوں نے مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے مستحق افراد میں تقسیم کرنا ہیں۔
تاہم نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں اس سکیم کے تحت قرضے فراہم کرنے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ دو مہینوں کے ہدف کے مقابلے میں صرف ڈھائی فیصد تک فراہم کیے گئے ہیں۔ اس سکیم کے تحت پانچ لاکھ تک کا قرض بلا سود فراہم کیا جاتا ہے۔
بینکاری اور معیشت کے ماہرین کے مطابق کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت جو قرضے دیے جائیں گے ان کا نتیجہ بھی شاید ماضی کی سکیموں کی طرح نکلے کہ جس کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس سکیم کے بارے میں فقط دو تین مہینوں میں کامیابی اور اس سے مطلوبہ نتائج نکلنے کی توقعات کو مسترد کیا گیا ہے کیونکہ سکیم تین سال پر محیط ہے اور تین سالوں کے اختتام پر اس کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کوئی حتمی رائے دی جا سکتی ہے۔
کامیاب پاکستان پروگرام سکیم کیا ہے؟
وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب کامیاب پاکستان پروگرام کے آپریشنل فریم ورک کے مطابق یہ موجودہ حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس سے معاشرے کے غریب طبقات کو مالی طور پر خود مختار بنانا ہے۔ اس سکیم کے تحت کامیاب کاروبار، کامیاب کسان کٹیگری کے ساتھ مکان خریدنے کی کٹیگری بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ کامیاب کاروبار کے لیے تین سال کے لیے پانچ لاکھ روپے اور اسی طرح کامیاب کسان کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ کے زرعی قرضے اور دو لاکھ زرعی آلات خریدنے کے لیے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح مکان خریدنے کے لیے 27 لاکھ تک قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سکیم کتنی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟
کامیاب پاکستان پروگرام کیا عام افراد کو کاروبار میں توسیع میں مدد فراہم کر سکتا ہے؟
اس کے بارے میں بینکر راشد مسعود عالم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس سکیم کے تحت پانچ لاکھ کی رقم سے کاروبار شروع کرنے کا جو اعلان کیا گیا ہے، وہ زیادہ فائدہ مند نظر نہیں آتا کیونکہ اس سے چھوٹے پیمانے پر بھی کوئی کام نہی ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیئے
راشد نے کہا ملک میں ماضی میں بھی ایسی سکیموں کا اجرا کیا گیا ہے تاہم اس کا نتیجہ کچھ ایسا شاندار نہیں نکلا کہ اس سے عام آدمی کو کوئی خاص فائدہ ملا ہو اور وہ مالی طور پر خود مختار ہوا ہو۔
انھوں نے بتایا کہ اگرچہ حکومت نے اس سکیم کے لیے مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے رقم تقسیم کرنی ہے جو بینک فراہم کریں گے تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بینک قرض دینے سے پہلے رسک منیجمنٹ کے پہلو بھی دیکھتے ہیں تاکہ ان کا سرمایہ محفوظ رہے۔
انھوں نے کہا حکومتی سکیمیں اکثر بینکوں کے نان پرفارمنگ لون کے پورٹ فولیو میں اضافہ کرتی ہیں جو بینکوں کے فائدے کی چیز نہیں ہوتی۔
انگریزی اخبار سے وابستہ معاشی امور کے صحافی شہباز رانا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اگر اس سکیم کی بات کی جائے تو اس کی منصوبہ بندی اچھے طریقے سے نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا اس میں بھی سیاسی ایجنڈا ہے۔
انھوں نے کہا اگر صرف دو مہینوں کے اعداد و شمار کو لیا جائے تو قرض فراہمی حکومت کے اپنے اہداف سے بھی کم ہے۔ شہباز رانا نے بتایا کہ وہ رکاوٹیں جو اس سکیم کے عملد درآمد کے مرحلے میں پیش آرہی ہیں حکومت انھیں دور کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتی۔
رانا نے بتایا اس سکیم کے تحت بینکوں کی جانب سے فراہم کیے گئے قرضے مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے تقسیم ہونے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس سکیم کی منصوبہ بندی میں خامیوں کی وجہ سے مائیکرو فنانس ادارے اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اس سکیم کے تحت قرضے فراہمی میں مسئلہ بن رہا ہے۔
اس سکیم کے تحت شرط ہے کہ یہ ادارے جس دن بینک سے رقم وصول کریں گے وہ اسے دینے کے پابند ہوں گے تاہم یہ ادارے اس میں کچھ رعایت حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔
وزیر خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے اس سلسلے میں موقف دیتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کو شروع ہوئے چند ماہ ہوئے ہیں اور اس کے تحت کم قرضے فراہم کرنے پر اس سکیم کی ناکامی کا تاثر درست نہیں ہے۔
انھوں نے کہا ابھی تو سکیم شروع ہوئی ہے اور قرضے دینے کے لیے پراڈکٹ بنانے ہیں جو مائیکرو فنانس ادارے کر رہے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا اس سکیم میں مارکیٹنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طریقۂ کار شامل ہیں تاکہ معاشرے کے جن افراد کو بینکوں میں گھسنے نہیں دیتا جاتا تھا انھیں مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے گھر بیٹھے قرض فراہم کیا جا سکے۔
قرض سکیموں میں عمومی طور پر کیا مسائل پیش آتے ہیں؟
حکومت کی جانب سے عام غریب افراد کو رعایتی قرضے سے جڑی مشکلات کے بارے میں ایک مقامی بینک کے ڈیجیٹل شعبے میں قرضے کی درخواستوں کے معاملات دیکھنے والے شہاب رضوان نے بتایا کہ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بینکوں کی جانب سے جب حکومتی سکیموں کے تحت قرضے فراہم کیے جاتے ہیں تو اس کے لیے مخصوص بینکنگ پراڈکٹس تیار کی جاتی ہیں جنھیں تیار کرنے میں کچھ عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح ان پراڈکٹس کی ہینڈلنگ کے لیے افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو بینک فوری طور پر ہائر نہیں کر سکتا۔
شہاب نے بتایا کہ اسی طرح ان پراڈکٹس کے بارے میں عملے کی تربیت اور ان سے متلعق دستاویزی ضرویات کی تکمیل سے متعلق آگاہی بھی ضروری ہوتی ہے۔
شہاب نے بتایا کہ اکثر درخواست گزار قرضہ حاصل کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں شکایت کرتے ہیں جس کی بنیاد ی وجہ یہی ہے کہ جو درخواستیں دیتے ہیں یا آن لائن فارم بھرتے ہیں وہ بنیادی معلومات بھی اکثر اوقات غلط لکھ دیتے ہیں۔
‘مثلاً چھوٹے قرض لینے والے ایسے افراد ہوتے ہیں جن کی آن لائن فارم بھرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی جس کی وجہ ان کے اندر کمپوٹر لٹریسی کا فقدان ہے اور جو ان کی جگہ آن لائن فارم بھرتے ہیں وہ ایسی بنیادی غلطیاں کرتے ہیں جو قرض لینے کے طریقہ کار کو متاثر کرتی ہیں۔‘









