لوہڑی: آگ کی لو کی گرمجوشی اور شکر کی چاشنی کا تہوار

ਲੋਹੜੀ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عارف شمیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

ہر سال جنوری کے تقریباً وسط میں 13 تاریخ کو انڈیا اور پاکستان کے پنجاب میں اور کشمیر سمیت دیگر کچھ علاقوں میں سردیوں کے خاتمے اور نئے موسم کے لمبے دنوں کی آمد کی خوشی کا ایک تہوار منایا جاتا ہے جس کا نام لوہڑی ہے۔

بسنت اور بیساکھی کی طرح پنجابی کیلینڈر کا یہ بھی ایک اہم تہوار ہے اور بہت سے دوسرے تہواروں کی طرح یہ بھی موسم کے بدلنے اور فصلوں سے جڑا ہوا ہے۔

لوہڑی لفظ کہاں سے آیا اور اس کا اصل مطلب کیا ہے، اس پر محققین کی مختلف آرا ہیں۔

کچھ سمجھتے ہیں کہ یہ لفظ لو سے نکلا ہے جس کے معنی روشنی یا آگ کی گرمائش ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ نام سنت کبیر کی بیوی لوئی کا رکھا ہوا ہے اور اسی وجہ سے مشہور ہے۔

پنجاب میں لوہڑی کے لفظ کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ تلہوڑی کی اختراع ہے یا اس سے ہی بنا ہے کیونکہ اس تہوار میں میٹھی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تر وہ ہی کھائی جاتی ہیں اس لیے یہ لفظ بھی اسی مناسبت سے ہے۔ پنجاب میں میٹھے گڑ اور ریوڑھیوں پر اکثر تل لگایا جاتا ہے اور کبھی دونوں کو ملا کر تلہوڑی کہا جاتا تھا، جو چھوٹا ہوتا ہوتا لوہڑی بن گیا یعنی تل اور ریوڑھی سے تلہوڑی بنا اور پھر لوہڑی۔

مطلب جو بھی ہے اس لفظ میں تقریباً مٹھاس ضرور سموئی ہوئی لگتی ہے۔

اس تہوار کو آگ کے آلاؤ کے گرد منایا جاتا ہے۔ جس طرح قدیم زمانوں میں بھی جشن آگ کے آلاؤ کے گرد منائے جاتے تھے اسی طرح لوہڑی میں بھی آگ کا آلاؤ ایک لازمی جز ہے۔

اور کیونکہ اس کی جڑیں پنجاب میں ہیں، اسی لیے اس کے ساتھ گنا، شکر، گڑ اور گچک یا ان سے بنی ہوئی چیزیں بھی جڑی ہوئی ہیں جو اس مٹی کا خاصہ ہیں۔ جنوری میں لوہڑی کے ساتھ ہی گنے کی فصل کا جشن منایا جاتا ہے اور گھروں میں سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹیاں بنتی ہیں۔

لوہڑی ہے کیا اور اسے کیوں منایا جاتا ہے؟

13 جنوری پنجابی کیلینڈر میں موسمِ سرما کا آخری دن ہے۔ پوہ کا مہینہ ختم ہونے لگا ہے اور اب ماگ شروع ہو گا۔

بی بی سی پنجابی کے سربراہ اور سینیئر صحافی اتل سنگڑ کہتے ہیں کہ یہ سرد موسم کے عروج اور پھر اس کے زوال کے آغاز کا تہوار ہے۔

’موسم کے علاوہ اس تہوار میں انڈیا پاکستان کی تقسیم سے پہلے مشرقی اور مغربی پنجاب کے سبھی سکھ، ہندو اور مسلمان شریک ہوتے تھے۔ یہ بالکل ہی مذہبی نہیں بلکہ زمین سے جڑا ہوا تہوار ہے۔ اس میں سبھی لوگ مل کر ایک دوسرے کے لیے پیار اور گرمجوشی کا اظہار کرتے تھے۔ اس تہوار کا آغاز کب ہوا اس کے متعلق تو حتمی طور پر معلوم نہیں ہے لیکن اس کا ذکر لوک داستانوں میں بہت آتا ہے۔ ویسے اب یہ پنجاب سے نکل کر پورے شمالی انڈیا کا تہوار بن چکا ہے۔‘

اتل کہتے ہیں کہ جب بھی لوہڑی کا ذکر آتا ہے تو اس کا تعلق ایک گیت سے جڑا ہوا ہوتا ہے اور وہ ہے کہ دلے بھٹی کا گیت:

’سندر مندریے ہو

تیرا کون وچارہ ہو

دلا بھٹی والا ہو

دُلے نے دھی ویاہی ہو

سیر شکر پائی ہو ۔۔۔۔‘

ਲੋਹੜੀ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اتل کے مطابق اس گیت میں پنڈی بھٹیاں کے عبداللہ یعنی دلے بھٹی کے ذکر کے پیچھے ایک لوک کہانی ہے۔

کیونکہ وہ زمانہ اکبر کا زمانہ تھا اور اس وقت کہا جاتا تھا کہ اس کے سپاہی آتے تھے اور نوجوان لڑکیوں کو اٹھا کے لے جاتے تھے، جو کہ غریب کسانوں اور اس علاقے کے مکینوں کے لیے ایک کربناک حقیقت تھی۔ اس لیے کسی کو تو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا تھا اور جس پہلے شخص نے وہ علم بغاوت بلند کیا وہ دلا بھٹی تھا۔

اگرچہ دلے بھٹی والے گیت میں دو بہنوں سندری اور مندری کا ہی ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ اشارہ ہے اس وقت کی جبراً اٹھائی گئی لڑکیوں کی طرف اور جبر کے خلاف عام لوگوں کی جنگ کی طرف ہے۔ کیونکہ دلا بھٹی اور ان سے پہلے ان کے باپ دادا سلطنت کے باغی تصور کیے جاتے تھے، اس لیے ان کی بادشاہ کی فوج سے کسی نہ کسی طرح لڑائی رہتی ہی تھی۔ یہ تقریباً 1459 کا دور تھا، گورو نانک سے تقریباً سو یا ایک سو پچیس سال بعد۔ ایک بات یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اکبر کے دور کے آخری 18، 19 سال لاہور میں گزرے تھے جہاں وہ بغاوتیں کچلنے آیا تھا۔

ایک یہ بھی روایت ہے کہ جب سندری اور مندری کو مغل بادشاہ اکبر کے لوگوں نے اغوا کرنے کی کوشش کی تو دلا بھٹی نے انھیں بچایا تھا۔ بعد میں دلا بھٹی نے ان کی شادی کروائی اور پھر اس موقع پر شکر دی اور دکھایا کہ بیٹیوں کو ایسے رخصت کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے لوک گیتوں میں دلے کے اسی عمل کا ذکر کیا جاتا ہے۔

ਦੁੱਲਾ ਭੱਟੀ

لوہڑی پر کرتے کیا ہیں؟

لوہڑی کے تہوار کے وقت کیونکہ سردیوں کا موسم ہوتا ہے اس لیے آگ جلائی جاتی ہے، لوگ اس کے ارد گرد بیٹھتے ہیں اور تل، گڑ اور ریوڑھیاں، شکر اور اس سے بنی ہوئی چیزیں کھاتے ہیں اور تقسیم کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ جب سب اکٹھے بیٹھتے ہیں تو پھر سندر مندریے والا گیت بھی گاتے ہیں اور دلے بھٹی اور ان کی بہادری اور فیاضی کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی ثقافتی لوک گیت گائے جاتے ہیں۔

اتل کہتے ہیں یہ ایک قسم کی کمیونٹی کی ’گیٹ ٹوگیدر‘ (اکٹھے ملنا) ہوتی ہے۔ جس طرح مغربی ممالک میں یا جہاں بھی عیسائی رہتے ہیں کرسمس کے ہفتے دس دن کی دوران لوگ سردیوں میں جشن مناتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں یہ تہوار بھی تقریباً کچھ اسی طرح کا ہی ہے۔ ‘سردی ہوتی ہے لیکن لوگ پھر بھی گھروں سے باہر نکل کر اپنے اپنے صحنوں اور گھروں کے باہر آلاؤ جلا کر اس کے گرد بیٹھتے ہیں اور گیت گاتے ہیں۔ روایتی طور پر تو اس کی تیاری دس پندرہ دن پہلے ہی شروع ہو جایا کرتی تھی اور کام بھی بٹ جاتے تھے کہ کس نے کیا کرنا ہے اور کس کی کیا کیا ذمہ داری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

امرتسر کے رہائشی چرن جیت سنگھ جو پیشے کے لحاظ سے ایک تاجر ہیں اور انڈیا پاکستان میں امن کے حوالے سے خاصے سرگرم رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ سردیوں کے چھوٹے دنوں کے خاتمے اور لمبے دنوں کی آمد کی خوشی کا تہوار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ ’اس تاریخ کو دن بکرے جتنی لمبی چھلانگ لگاتا ہے۔‘

ਦੁੱਲਾ ਭੱਟੀ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چرن جیت اسے محبت کا تہوار کہتے ہیں۔ ’ایک لو ہے، ایک گرمجوشی ہے، محبت ہے اپنے پیاروں اور ارد گرد والوں کے لیے۔ جس طرح دنیا بھر میں تقریباً سبھی تہوروں کو میٹھا کھا اور بانٹ کر منایا جاتا ہے اسی طرح اس تہوار پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ تہوار ہے ہی مٹھاس کا۔‘

چرن جیت سنگھ اپنے بچپن کی یادوں کو یکجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم جب چھوٹے تھے تو ہم لڑکوں اور لڑکیوں کی ٹولیوں میں گلی محلوں میں لوہڑی مانگنے نکل پڑتے تھے۔ ہم لوہڑی مانگتے اور اس کا ایک گیت گاتے جو کچھ اس طرح تھا: ’دے لوہڑی تیری جیوے جوڑی، سانوں دے آنا تیرا جیوے نانا‘، اور کچھ اسی طرح کے کچھ اور بول بھی ہوتے تھے۔ اور جب بچوں کو کسی گھر سے لوہڑی نہ ملتی اور وہ نامراد ہوتے تو وہ یہ کہتے: ’حقہ بھئی حقہ، اے گھر بھکا۔‘ بالکل مغرب میں ہیلوئن کے تہوار کی طرح جب بچے ہیلوئن کی رات ’ٹرِک اور ٹریٹ‘ کہتے ہوئے گلیوں میں نکلتے ہیں بالکل اسی طرح۔ اگر کوئی لوہڑی نہیں دیتا تھا تو پھر ہمارا ٹرک وہی اس گھر کو بھوکا کہہ کر بھاگنا ہوتا تھا۔ لیکن زیادہ تر لوگ کچھ نہ کچھ ریوڑھیاں، گڑ، شکر، مونگ پھلی یاپیسے وغیرہ دے ہی دیتے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پھر بچوں نے سب سے لکڑیاں یا گوبر اکٹھا کر کے لوہڑی والے دن اسے جلانا اور سب کے ساتھ آگ کے گرد بیٹھ کر اسے سینکنا اور میٹی چیزیں کھانی اور آگ میں بھی پھینکنی۔ ’پہلے اس سال جو بچے ہوتے تھے ان کی لوہڑی بھی منائی جاتی تھی۔ جس گھر میں اس سال شادی بیاہ ہوا ہوتا تھا یا جس گھر بچہ ہوا ہوتا تھا وہ گھر لوہڑی مناتا تھا۔ اب تو لوہڑی پر پتنگ بازی بھی بہت ہوتی ہے۔ ویسے اس دن لوگ اپنے بہن بھائیوں سے ملنے بھی جاتے ہیں اور میٹھا تقسیم کرتے ہیں۔‘

’اوہ میں یہ بتانا تو بھول ہی گیا، اس تہوار کی ایک خاص سوغات گنے کے رس، رو، اور دودھ اور چاولوں سے بنی ہوئی کھیر بھی ہے۔ جو اس وقت میری بیوی بنا رہی ہے۔ اگر اس کا ذکر نہ کیا تو غضب ہو جائے گا اور شاید آج کھیر بھی نہ ملے۔‘ چرن جیت ہنستے ہوئے اپنی بیوی سے پوچھتے ہیں کہ کیا کھیر ابھی بنی ہے یا ابھی مزید وقت لگے گا۔

کھیر

،تصویر کا ذریعہCharanjit Singh

،تصویر کا کیپشنچرن جیت کی بیوی گنے کے رس کی کھیر بناتے ہوئے