لوہڑی کا تہوار: پنجاب میں لڑکیاں ’مغلوں سے پھانسی پانے والے دُلا بھٹی‘ کے گیت کیوں گاتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہRAVINDER SINGH
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
’سندر مندریے تیرا کون وچارا
دلا بھٹی والا
دُلے نے دھی ویاہی
سیر شکر پائی ۔۔۔۔‘
(سندر مندریے تیرا مددگار کون ہے، وہ دلا بھٹی والا ہے، دُلے نے بیٹی بیاہی ہے، اس نے سیر شکر پائی ہے)
آج انڈین پنجاب کے مکین یہ لوک گیت جھوم جھوم کر گا رہے ہیں۔ ہر گھر میں آگ کے الاؤ روشن کیے جا رہے ہیں اور اس کے گرد دوست احباب موجود ہیں۔ گپ شپ کے ساتھ دہکتی آگ میں پھینکی جانے والی مونگ پھلیاں اور ریوڑیاں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔
یہ جاتی سردیوں کو رخصت کرنے اور مل بیٹھنے کا ایک موقع ہے۔ لیکن ان لوک گیتوں میں پاکستان کے شہر پنڈی بھٹیاں کے دلا بھٹی کا نام بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے لوہڑی کا یہ تہوار دلا بھٹی کے نام کے بغیر ادھورا ہے۔
ہم نے اس تہوار سے جڑے اس نام اور اس کی لوک داستان جاننے کے لیے سرحد کے دونوں جانب پنجاب کے مکینوں سے بات کی جس میں ہماری مدد اس تہوار کو انڈیا سے رپورٹ کرنے والے صحافی رویندر سنگھ رابن نے کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امرتسر سے کچھ فاصلے پر چبہ نامی گاؤں کی ہرمند دیو بھی اس تہوار کو منا رہی ہیں۔ انھوں نے فون پر ہم سے بات کی اور بتایا کہ یہ ہمارا بہت اہم اور خاص تہوار ہے۔ دلا بھٹی ہمارے پنجاب کے ’روبن ہڈ‘ مانے جاتے ہیں اور اس تہوار میں لڑکیوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے جن کی مدد دلا بھٹی نے کی تھی۔
’ہم آگ جلاتے ہیں جیسے ہم پُوگی بولتے ہیں اس میں ہم مونگ پھلیاں، گڑ، تِل اور ریوڑیاں پھینکتے ہیں ایک دوسرے کو دیتے ہیں اور خود بھی کھاتے ہیں۔‘
ہرمند کہتی ہیں کہ اس تہوار پر ہم ڈانس کرتے ہیں۔ اگر کسی کی شادی حال ہی میں ہوئی ہو یا کسی گھر میں بچہ پیدا ہوا ہو وہاں سب بطور خاص اکٹھے ہوتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔
لیکن یہ فقط دیہات میں ہی نہیں، انڈین پنجاب کے شہروں میں بھی اتنا ہی مقبول ہے۔
میں نے دلا بھٹی کے بارے میں کچھ مزید جاننے کی جستجو میں گرو نانک یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہریش شرما سے رابطہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہRAVINDER SINGH
انھوں نے بتایا کہ دراصل آج دیسی کیلینڈر میں موسمِ سرما کا آخری دن ہے۔ پوگ کا مہینہ ختم ہوا چاہتا ہے اور اب مگ شروع ہو گا۔
وہ کہتے ہیں کہ موسم کے علاوہ اس تہوار کا 90 فیصد تعلق لوک داستان سے جڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب یہ پنجاب سے نکل کر پورے شمالی انڈیا کا تہوار بن چکا ہے۔
ڈاکٹر ہریش کہتے ہیں کہ یہ تہوار ذات پات اور مذہب سے آگے ہے۔ محلے والے اکٹھے ہو کر آگ کا الاؤ روشن کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس تہوار پر کھانے پینے کی کوئی پابندی نہیں ہوتی کہ گوشت نہیں کھانا یا شراب نہیں پینی، سب ان پابندیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔
’فری ہو کر یہ تہوار منایا جاتا ہے۔ یہ بندش نہیں کہ کوئی ہندو ہے سکھ ہے یا مسلمان سب مناتے ہیں۔ دن میں ہم لوگ پتنگ اڑاتے ہیں اور شام ہوتے ہی گھر کے باہر الاؤ روشن کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPROF ZUBAIR AHMED
میں نے ان سے لوک گیت میں دلا بھٹی کے ذکر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ہم اپنے بڑوں سے سنتے چلے آئے ہیں۔
’دلا بھٹی کے بارے میں لکھی ہوئی دستاویز تو نہیں ملتی لیکن جو لوک داستان ہے وہ یہاں سب کو معلوم ہے۔ ان کا ذکر ہوتا ہے۔ ‘
پروفیسر ہریش نے روشن الاؤ کی لائیو ویڈیو دکھاتے ہوئے ہم سے رخصت چاہی۔
نامہ نگار رویندر سنگھ نے مجھے بتایا کہ روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دلا بھٹی کی قبر لاہور میں موجود ہے۔
پاکستان کے پنجاب میں کیا اب بھی اس تہوار کی یادیں باقی ہیں
یہ جاننے کے لیے میں نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق پروفیسر زبیر احمد سے رابطہ کیا۔ تو ان سے گفتگو کے آغاز سے پہلے ہی کچھ نعروں کی آوازیں سنائی دیں۔ ’لوہڑی زندہ باد‘
میں نے جب انھیں اپنے فون کرنے کا مقصد بتایا تو وہ کہنے لگے تقسیم سے پہلے تو یہ دونوں جانب کے پنجاب میں منایا جاتا تھا لیکن پھر یہ سمجھا جانے لگا کہ یہ ہندوؤں کا تہوار ہے جو کہ غلط تاثر ہے۔
’سنہ 47 سے پہلے اسے دونوں جانب منایا جاتا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں پاکستان میں اب کچھ سال پہلے ہی پنجابی لوگ اس تہوار کو منانا شروع ہوئے ہیں۔
’ابھی یہ لاہور کے دو مقامات پر منایا جا رہا ہے۔ پھر لائل پور میں بھی منایا جائے گا۔ ‘
دلا بھٹی کی کہانی کیا ہے؟
انھوں نے بتایا کہ روایات کے مطابق دو ہندو لڑکیوں سندری اور مندری کو مغل بادشاہ اکبر کے لوگوں نے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی تو دلا بھٹی نے انھیں بچایا تھا۔‘
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ دونوں لڑکیاں بہنیں تھیں اور ایک پنڈت کی بیٹیاں تھیں۔ دلا بھٹی نے ان کی شادی کروائی اور پھر اس موقع پر شکر دی اور دلا نے بتایا کہ بیٹیوں کو ایسے رخصت کیا جاتا ہے۔
پروفیسر زبیر کہتے ہیں کہ روایات یہ بھی ہیں کہ دُلا بھٹی کے والد کو بھی اکبر بادشاہ کے لوگوں نے گرفتار کیا تھا اور پھر ان کی والدہ لاہور میں اپنے بیٹے کی تلاش میں گئی تھیں۔
’دُلے کی کہانی 18ویں صدی میں سکھوں کی مثلیں ہوتی تھیں جن سے یہ مشہور ہوئے۔ ان کا سکھوں اور ہندؤوں سے تعلق تھا۔ پھر پنجاب میں جب نہری نظام آیا تو پھر سے دُلے کی کہانی جاگی۔ دُلے کا نام ہمارے لوک گیتوں میں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ دُلے کا نام بادشاہوں کی درج تاریخ میں تو نہیں تھا لیکن لوک داستان اور زبانی تاریخ میں ان کا نام ہے اور اس پر لکھا گیا ہے۔
پروفیسر زبیر کہتے ہیں کہ نجم حسین سید نے ایک ڈرامہ لکھا ’تخت لاہور‘۔ اب اس پر باقاعدہ کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ دُلا اب تاریخ میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔
پروفیسر زبیر کہتے ہیں کہ معلوم نہیں کہ لاہور میں دریافت ہونے والی قبر ان کی ہے یا نہیں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن روایات میں ہے کہ دُلا بھٹی کو موچی گیٹ کے پاس پھانسی دی گئی۔
لیکن ان کو پھانسی کیوں دی گئی؟
اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پنڈی بھٹیاں کے دُلا بھٹی نے ٹیکس، آبیانہ ادا کرنے سے انکار کیا اور ان کو پھانسی دیے جانے کے وقت وہاں اپنے دور کے ایک معروف شاعر شاہ حسین بھی موجود تھے۔
دُلا بھٹی کے حوالے سے یہ شعر پڑھا جاتا ہے۔
’میں پورہاں دلی دے کنگرے
جب تک تخت لاہور ہے میں دُلا وچ بار‘
(میں مینار کے کناروں کو ریزہ ریزہ کر دوں گا، جب تک تخت لاہور ہے مغل شاہی ہے میری لڑائی ہے)







