پارلیمانی اجلاس میں وزیر اعظم اور وزیر دفاع آمنے سامنے: ’مِنی بجٹ بل کی کچھ شقوں پر تحفظات ہیں‘

جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں منی بجٹ ان دنوں زیر بحث ہے اور ضمنی مالیاتی بل کی منظوی سے قبل ارکان قومی اسمبلی کو اعتماد میں لینے کی غرض سے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

اس اجلاس میں شریک رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اراکین نے قومی مفاد میں اپنے تحفظات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کیونکہ اگر بجلی اور گیس جیسی سہولیات عوام کو سستی نہ دے سکے تو پھر آئندہ انتخابات میں ان کے سامنے کیسے جائیں گے۔

ان کے مطابق انھوں نے اجلاس میں وزیر اعظم کے سامنے مِنی بجٹ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور یہ کہا کہ ہم ہی بجلی پیدا کرتے ہیں اور کیا ہمیں ہی بجلی اب مہنگی دی جائے گی۔ نور عالم کے مطابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپنے صوبے میں گیس کنکشن بند کرنے پر وزیر اعظم کے سامنے تحفظات کا اظہار کیا۔

واضخ رہے کہ قومی اسمبلی میں مِنی بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت متحرک ہوگئی ہے اور جمعرات کو وزیراعظم عمران خان خود پارلیمنٹ ہاؤس آئے تھے اور قومی اسمبلی اجلاس سے پہلے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

وزیراعظم نے حکومت اور اتحادی جماعتوں کے تمام اراکین قومی اسمبلی کو گذشتہ روز ہدایت کی تھی کہ وہ رات کو ہی اسلام آباد پہنچ جائیں۔

اس پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، رکن قومی اسمبلی نور عالم اور دیگر ارکان نے منی بجٹ، مہنگائی اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔

نور عالم کے مطابق ’ہر ملک کا اپنا قومی مفاد ہوتا ہے اور (ہم پر) اس کی نگرانی اور تحفظ (یقینی بنانا) لازم ہے‘۔

ان کے مطابق انھوں نے اجلاس میں یہ واضح کیا کہ اگر دفاعی مفادات سمیت ادارے آئی ایم ایف کے حوالے کیے گئے تو پھر وہ اس بل کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق اس وقت سٹیٹ بینک کا صدر آئی ایم ایف کا نمائندہ ہے۔

سگریٹ پینے باہر نکلا تھا، اجلاس میں اپنے حق کی بات کی ہے: پرویز خٹک

عمران خان کی کابینہ میں وزیر دفاع پرویز خٹک کو خاص سیاسی اہمیت حاصل ہے۔ وہ تحریک انصاف کی گذشتہ صوبائی دور حکومت میں صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پارلیمانی اجلاس میں پرویز خٹک نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو پھر ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے۔‘

اس موقع پر وزیر توانائی حماد اظہر نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی تو پرویز خٹک نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ میں وزیر اعظم سے بات کر رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

پرویز خٹک نے حماد اظہر اور وزیر خزانہ شوکت ترین پر بھی سخت تنقید کی۔

جب پرویز خٹک سے صحافیوں نے اجلاس کے بعد اس متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی انھوں نے اپنے حق کے لیے بات کی ہے اور وہ اجلاس سے باہر سگریٹ پینے کے لیے نکلے تھے۔

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے پرویز خٹک سے کہا کہ ’پرویز خٹک مجھے بلیک میل مت کرو، ووٹ نہیں دینا تو مت دو، میرے کوئی کارخانے نہیں ہیں، مجھے کوئی بلیک میل نہیں کرسکتا، میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ مجھے کوئی حکومت کا شوق نہیں۔‘

پرویز خٹک کی اس گفتگو پر وزیراعظم اٹھ کر جانے لگے اور کہا کہ اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں۔

پرویز خٹک اس پارلیمانی اجلاس کے کچھ دیر بعد وزیر اعظم کے چیمبر میں چلے گئے۔

اس کے ملاقات کے بعد انھوں نے وفاقی وزیر مراد سعید اور وزیر اعظم کے ایک مشیر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی دیکھ کر حیران ہو گیا ہوں، (آپ نے تو) بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

’عمران خان میرا لیڈر ہے، میں اس کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہوں۔ میں نے گیس کی بات کی۔ گیس کی سکیمیں چلتی رہنی چائیں، گیس کے مسائل حل کریں، منظور کردہ سکیموں کو نہ روکا جائے یہ ہمارا حق بنتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'اندرونی باتیں ہیں، وزیراعظم کے سامنے سختی نہیں کی، پارٹی میں باتیں ہوتی رہتی ہیں، آپ نے تو ہنگامہ کھڑا کر دیا، خبر روک دیں۔'

دوران اجلاس رکن اسمبلی نور عالم نے وزیراعظم سے سوالات کیے کہ کیا اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے سلامتی ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا ہم سلامتی اداروں کے اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کو دیں گے؟

کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس پانی بجلی ملے گی، جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سلامتی اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح ہے۔

نور عالم نے اجلاس کی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ملک کے لیے اس کے ادارے اور قومی مفادات اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ’اس منی بجٹ بل کی کچھ شقیں پاس نہیں ہو سکیں گی۔‘