مری میں 22 سیاحوں کی ہلاکت: کیا پاکستان عالمی سیاحتی مرکز بننے کے لیے تیار بھی ہے؟

’صرف سیاحت کو فروغ دے کر پاکستان کا قرضہ اُتارا جا سکتا ہے۔۔۔ جو صلاحیت پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری میں ہے، دنیا میں کہیں نہیں۔۔۔ لوگ یورپ چلے جاتے ہیں کیونکہ انھیں پاکستان کی خوبصورتی کا اندازہ ہی نہیں۔۔۔‘

یہ وہ چند بیانات ہیں جو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد متعدد مواقع پر اس امید اور عزم کے ساتھ دیے کہ ان کے دور میں سیاحت کا شعبہ ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے ہی بعد میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کے کسی اور سیکٹر سے اتنا منافع (ریوینیو) نہیں مل سکتا جتنا سیاحت میں ہے۔

اُن کے مطابق گلیات میں حکومتی کوششوں سے سیاحت میں بھی اضافہ ہوا اور منافعے میں بھی، لیکن اس دوران وزیر اعظم کو بھی بظاہر اس بات کا احساس تھا کہ ابھی بہت کام باقی ہے۔ خود وزیر اعظم نے اس خدشے کا اظہار کیا گلیات میں رش ہو جائے تو جگہ کم پڑ جاتی ہے، لوگوں کو گاڑیوں میں سونا پڑتا ہے۔

کیا پاکستان بین الاقوامی سیاحتی مرکز بننے کے لیے تیار ہے؟

ان تمام بیانات اور کوششوں کے باوجود گذشتہ ہفتے پاکستان کے معروف سیاحتی مقام مری میں پیش آنے والے واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 22 سیاح شدید برفانی طوفان میں پھنس کر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان ایک بین الاقوامی سیاحتی مرکز بننے کے لیے تیار بھی ہے؟ کیا حکومت اور انتظامیہ کو سیاحت کے شعبے کو درپیش مسائل کا ادراک بھی ہے؟

بی بی سی نے ان سوالات کے جوابات جاننے کے لیے گذشتہ تین برس سے زائد عرصے میں تحریک انصاف کی حکومت کے دعوؤں کا جائزہ لینے کے علاوہ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والی غیر ملکی سیاح، مری کے رہائشی افراد اور ایسے لوگوں سے بات چیت کی جو سیاحت کے شعبے سے جڑے ہوئے ہیں۔

مری میں سہولیات کا فقدان اور غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار

مری میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ مری‘ کا ٹرینڈ دیکھنے کو ملا۔ مری ایک پرانا اور قدیم سیاحتی مقام ہے جہاں ملک بھر سے لوگ موسم گرما اور موسم سرما میں تفریح کے لیے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسے سیاحتی مقام پر رہنے والوں کے کیا خیالات ہیں اور وہ کیا مسائل ہیں جن کا مری کو سامنا ہے؟

مری کے مقامی رہائشیوں کے مطابق عدم توجہی کا شکار سڑکیں، غیر قانونی تعمیرات، پارکنگ کی کمی اور ہوٹل مافیا چند بڑے مسائل ہیں جن کا حل ضروری ہے۔ لیکن ایک اور مسئلہ یعنی حکام کی جانب سے عدم توجہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

مری کے رہائشی وحید عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ مری کی سڑکوں پر سہولیات کی کمی ہے۔ ’کوئی سیفٹی نہیں ہے، جو لنک روڈ سے آتے ہیں ان کے لیے بھی سیفٹی نہیں ہوتی ہے مگر پارکنگ جیسی سہولت کا ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے۔‘

ایک اور مقامی شخص اسامہ عباسی کے مطابق تین سال سے مری کی سڑکوں پر کوئی کام نہیں ہوا۔ ان کے خیال میں اس وقت مری میں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے علاوہ غیر قانونی تعمیرات پر بھی پابندی عائد ہونی چاہییے جن سے مری کا حسن ماند پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مری کے رہائشی محمد فیصل کہتے ہیں کہ مری میں ہوٹلز سے متعلق کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ ’ایجنٹ مافیا کا زور ہے، ہوٹل والے کو پتا ہوتا ہے کہ یہ سیاح ایجنٹ کے ساتھ آیا ہے تو جو کمرہ اسے پانچ ہزار کا ملنا ہوتا ہے وہی اسے بیس ہزار کا ملتا ہے کیونکہ ہوٹل مالکان کو ایجنٹ کو بھی پیسے دینے ہوتے ہیں۔‘

قیمتوں کے تعین سے متعلق محمد فیصل کے مطابق مقامی انتظامیہ کو فعال رہنا ہو گا تاکہ وہ سوتی نہ رہے، اسے ہر چیز کے بارے میں پتا ہونا چاہیے۔

غیر ملکی سیاح کی شکایت: 'گندگی کے ڈھیر اور ٹرانسپورٹ کا فقدان'

مقامی سیاحوں کی شکایات تو منظر عام پر آتی رہتی ہیں جن میں سڑکوں کی حالت، ہوٹلز کی قیمتوں کا مسئلہ سرفہرست ہے لیکن ایک بین الاقوامی سیاح کی پاکستان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے ایک ایسی غیر ملکی سیاح سے رابطہ کیا جنھوں نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا۔

سیدہ نور کا تعلق ترکی سے ہے مگر وہ جرمنی میں رہائش پذیر ہیں اور وہ سیاحتی مقامات سے متعلق وی لاگ کرتی ہیں۔ گذشتہ برس ستمبر میں انھوں نے پاکستان کا رُخ کیا اور اپنے تجربات بی بی سی سے شیئر کیے۔

سیدہ نور اس بات کو تو تسلیم کرتی ہیں کہ پاکستان میں کئی خوبصورت مقامات ہیں جو عام نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، خاص طور پر شمالی علاقہ جات میں فیئری میڈوز کا مقام اور اس تک پہنچنے کا سفر ان کے لیے یادگار ہے۔ ’جب میں فیئری میڈوز کے جیپ ٹریک پر تھی، مجھے واقعی میں ڈر لگ رہا تھا کہ میں اپنی جان گنوا دوں گی۔ اگر کبھی آپ فیئری میڈوز جانا چاہیں تو خطرناک سفر کے لیے تیار رہیں۔‘

لیکن سیدہ نور کے مطابق پاکستان میں گندگی کے ڈھیر اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان بہت خوبصورت ملک ہے مگر یہاں پورے ملک میں ہی سرعام گند پھینکنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ کوڑے دان جیسی سہولیات کا مسیر نہ ہونا بھی ہے۔ سیدہ نور کے مطابق پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹیشن کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام دستیاب نہیں ہے۔

پاکستان میں سیاحت کے فروغ سے متعلق انھوں نے تجویز دی کہ یورپین ہونے کی وجہ سے انھیں پیدل چلنے کا شوق ہے مگر پاکستان میں سڑکوں پر اتنا رش ہوتا ہے کہ انھیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیسے سڑک پار کریں۔ ان کے مطابق ’مجھے پاکستان میں پیدل چلنے کے رستوں کی بہت کمی محسوس ہوئی۔‘

'سفری سہولیات اور ٹیکس میں چھوٹ'

پاکستان کے شمالی علاقہ جات حالیہ چند برسوں میں سیاحوں میں نہایت مقبول ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ بہتر سڑک کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی ہے۔ فیض علی اور سائرہ جہان یہاں ایک ریزورٹ کے شریک مالک ہیں۔

سائرہ جہاں کہتی ہیں کہ حکومت کا فرض ہے کہ سیاحوں کے لیے سہولیات فراہم کرے اور انفراسٹرکچر بہتر کرے۔ ’سیاحتی مقامات کے راستوں میں واش رومز سمیت دیگر سفری سہولیات نہیں ہیں۔ سیاحوں کو صاف ستھری چیزیں نہیں ملتیں۔ سیاحت کے لیے صفائی درکار ہوتی ہے۔‘

فیض علی کے مطابق ایک اور مسئلہ سفری سہولیات کا بھی ہے جن میں شمالی علاقہ جات تک ہوائی سفر کی مشکل بھی شامل ہے۔ ’بیرون ملک سے آنے والے سیاح ایڈوانس میں پیسے دیتے ہیں اور پھر ان کی فلائٹس منسوخ ہو جاتی ہے۔ حکومت کو چھوٹے طیاروں کی سروس بھی شروع کرنی چاہیے۔‘

فیض علی وزیر اعظم عمران خان کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں سیاحت کا شعبہ ترقی کر سکتا ہے اور کئی افراد اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار بھی ہیں لیکن اُن کے خیال میں حکومت کو سیاحت کے شعبے کو صنعت کے طور پر 'لانچ' کرنا ہو گا۔ 'بہت سے سرمایہ کار اس ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو ان کو موقع ملنا چاہیے۔‘

ساتھ ہی ساتھ ان کے نزدیک ٹیکس میں رعایت بھی سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو گی۔‘ ریزورٹ اور ہوٹل مالکان کو بہت زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتے ہیں جس میں رعایت دینا ضروری ہے۔‘

’مقامی سیاح ابھی سیکھ رہے ہیں‘

فیض علی نے یہ دلچسپ بات بتائی کہ اُن کے خیال میں مقامی سیاحوں کی توقعات کو پورا کرنا غیر ملکی سیاحوں کی نسبت مشکل ہوتا ہے کیوںکہ ’ہمارے ملک کے لوگ صرف تفریح کے لیے آتے ہیں۔‘

فیض علی نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر ملکی سیاحوں کو صرف بنیادی سہولیات درکار ہوتی ہیں۔ ’وہ مکمل جانچ پڑتال کرنے کے بعد سفر کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان سے ڈیل کرنا آسان ہوتا ہے، جبکہ ہمارے ملک کے سیاح صرف پکنک منانے آتے ہیں، وہ ٹریولنگ نہیں کرتے۔‘

مزید پڑھیے

ان کے مطابق مقامی لوگ چھوٹی گاڑیوں میں شدید موسم میں نکل پڑتے ہیں اور وہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق مقامی سیاحوں کو ضروری آلات اور اوزار بھی ساتھ رکھنے چاہیں۔ ’ٹریولر ہونے کے لیے سیاحوں کو مقامی کلچر کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے، نقشوں کو پڑھنا آنا چاہیے اور ان کے پاس آلات ہوں تاکہ انھیں موسم کی صورتحال کے بارے میں آگہی ہو۔‘

فیض علی کے مطابق گذشتہ چار پانچ برسوں سے تسلسل سے لوگ شمالی علاقوں کا رُخ کر رہے ہیں اور ’اب وہ سیکھتے جا رہے ہیں۔‘

حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاحت اعظم جمیل سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ جلد اس حوالے سے حکومت کے مؤقف سے آگاہ کریں گے۔ ان کے مطابق انھیں ابھی عہدہ سنبھالے چند دن ہوئے ہیں اور حکومت کی پالیسی کے بارے میں تفصیلات بتانے کے لیے ابھی انھیں کچھ وقت درکار ہے۔

تاہم پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے ایک رکن نے بدھ کو بی بی سی کو بتایا کہ ’برینڈ پاکستان‘ کے نام سے ملک کی ایک جامع سیاحتی پالیسی تیار کر لی گئی ہے، جس کا افتتاح خود وزیر اعظم عمران خان آئندہ چند ہفتوں میں کریں گے۔

انھوں نے اس پالیسی کی تفصیلات تو نہیں بتائیں مگر یہ ضرور کہا ہے کہ اس میں سیاحتی مقامات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق واضح سفارشات موجود ہیں۔