مری میں برفباری کے بعد ہلاکتیں: سوشل میڈیا صارفین کی حکومت پر کڑی تنقید، اپوزیشن کا ’نااہلی‘ کا الزام

صوبہ پنجاب کے تفریحی مقام مری میں برف میں پھنسے کم از کم 22 افراد کی ہلاکتوں کے بعد جہاں ایک طرف حکومت کی جانب سے سیاحوں کی بڑی تعداد کو سانحے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے تو وہیں اپوزیشن اس سانحے کو حکومت اور انتظامیہ کی نااہلی قرار دے رہی ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے پانچ جنوری کو جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا تھا کہ مری میں چھ جنوری سے نو جنوری تک شدید برف باری متوقع ہے تاہم اس کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد کے مری پہنچنے اور انتظامیہ کے انھیں اینٹری پوائنٹس پر نہ روکنے پر اپوزیشن رہنماؤں سمیت سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان سمیت حکومتی نمائندوں کی جانب سے خراب موسم اور سیاحوں کی بڑی تعداد کو سانحے کی وجوہات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اس صورتحال کے لیے خاطر خواہ تیار نہیں تھی کہ غیر معمولی برف باری اور موسمی حالات کو ملحوظِ خاطر رکھے۔ اُنھوں نے لوگوں کی 'بڑی تعداد' کو بھی سانحے کی وجہ قرار دیا اور تحقیقات کا حکم دیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے سلسلہ وار ٹویٹس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو اس سانحے کا قصوروار ٹھہرایا۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومتوں کا کام صرف سیاح گننا نہیں بلکہ اُن کے لیے پیشگی انتظامات اور حفاظتی اقدامات کرنا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں برف باری سے نہیں بلکہ حکومتی غفلت سے ہوئی ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وزیرِ اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے متاثرین کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا اپنی حکمرانی کا فلسفہ بنا لیا ہے۔

اُنھوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ حکومت اس دوران کہاں تھی؟ سیاحوں کی آمد کو سنبھالنے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے؟ ماضی میں پیشگی انتظامات اور 24 گھنٹے نگرانی معمول تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر مری میں سیاحوں کو سنگین صورتحال سے آگاہ کیا جاتا تو ایسا سانحہ رونما نہ ہوتا۔ اُنھوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ سیاحوں کی فوری مدد کریں۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین، اپوزیشن رہنما اور سماجی کارکنان یہ سوال کرتے نظر آئے کہ جب حکومت مری میں ’ایک لاکھ گاڑیوں‘ کے داخلے پر خوشی کا اظہار کر رہی تھی تو کیا کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ان ایک لاکھ گاڑیوں میں سوار لوگ ٹھہریں گے کہاں اور یہ گاڑیاں اتنی برف باری میں کیسے نکلیں گی؟

اس حوالے سے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری سے جب سنیچر کو پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ انتظامیہ ’ایک ہفتے سے‘ کہہ رہی تھی کہ مزید لوگ یہاں نہ آئیں۔

ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے سیاحت میں اس اضافے کو معیشت کی بہتری سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کو اتنی بڑی تعداد میں سنبھالنا بھی ممکن نہیں۔

فواد چوہدری کی پانچ جنوری کو کی گئی ایسی ہی ایک ٹویٹ کے جواب میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری اطلاعات احمد جواد نے کہا کہ کل رات جو قیمتی جانیں چلی گئیں، کیا اُنھیں بھی معاشی اشاریوں میں شامل کر لیں؟ پارٹی کا بیانیہ اپنے ضمیر سے زیادہ قیمتی نہیں ہوتا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ لوگ اب بھی یہ دیکھے بغیر مری آنے کی ضد کر رہے ہیں کہ وہاں برف باری کے بعد کس قدر ٹھنڈ ہو چکی ہے۔ اُنھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ چند دن انتظار کریں اور حالات اور موسم معمول پر آنے دیں۔

لوگوں سے گزارش ہے کہ یہاں آئیں نہیں بلکہ یہاں سے جائیں۔ شہباز گل کا کہنا تھا کہ مری کے مقامی لوگ جو مری آنا چاہ رہے ہیں، وہ انتظامیہ سے تعاون کرتے ہوئے ابھی اسلام آباد میں ہی رکیں۔

یہی بات وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی کہی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ جب وہ مری سے واپس آ رہے تھے تو اس وقت بھی لوگ مری جانے کے لیے راستوں پر تھے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے لڑ رہے تھے کہ اُنھیں مری جانے کی اجازت دی جائے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ مری کو بند کرنے کا فیصلہ جمعے کی شام پانچ بجے کیا گیا تاہم یہ فیصلہ پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار سحر بلوچ نے سینچر کی دوپہر کو اسلام آباد کے نواحی علاقے بھارہ کہو سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں موجود تھیں جن میں مری اور بھارہ کہو کے رہائشیوں کے علاوہ تفریح کی غرض سے مری کی جانب رواں دواں لوگ بھی شامل تھے جنھیں قانون نافذ کرنے والے اہلکار واپس بھیج رہے تھے۔

سوشل میڈیا صارفین امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں اور اس بارے میں بھی سوال کر رہے ہیں کہ مری کی برف میں پھنسے سیاحوں کی رہائش کے لیے حکومت سرکاری عمارات اور دفاتر کو کیوں نہیں کھول رہی۔

صحافی احتشام الحق نے کہا کہ ہمارے تقریباً 30 فیصد سیاست دانوں کے چھٹیاں منانے کے لیے مری میں گھر اور بنگلے موجود ہیں۔ الزامات عائد کرنے کے بجائے اُنھیں اپنے دروازے عوام کے لیے کھولنے چاہیے اور اُنھیں کھانا اور پناہ فراہم کرنی چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ حکومت اور اپوزیشن کے لیے واضح پیغام ہے۔

ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کے خصوصی مشیر شہباز گل نے ٹویٹ کیا کہ ’کچھ لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ مری میں گورنر ہاؤس کو کیوں نہیں کھولا گیا۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’میں ابھی تھوڑی دیر پہلے اسی گورنر ہاؤس میں سونے کے لیے داخلے کی ناکام کوشش کر کے واپس آیا ہوں۔ وہاں دس فٹ برف ہے اور اندر جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ پیدل چلنے کی کوشش کی تو پوری پوری ٹانگ برف میں دھنس گئی۔‘

شہباز گل کے اس ٹویٹ کے جواب میں ایک صارف نے لکھا: ’یہ بھی تو نااہلی کی انتہا ہے کہ گورنر ہاؤس میں دس فٹ برف جمع ہے۔ حالانکہ کسی بھی جگہ پر چار فٹ سے زیادہ برفباری نہیں ہوئی۔‘

شہباز گل کی ٹویٹ کے جواب میں مری کے ایک رہائشی فرخ جاوید عباسی نے انھیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا: ’میں مری کے گورنر ہاؤس کی یو سی سے تعلق رکھتا ہوں اور حقیقت میں وہاں صرف ڈیڑھ فٹ برف ہے۔‘

کئی لوگ اس پوری صورتحال کو مختلف نکتہ نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں۔

پالیسی ریسرچ کے ماہر حسین ندیم نے کہا کہ نظامِ حکمرانی میں دہائیوں سے ہونے والی منظم تباہی روزانہ مختلف انداز میں آشکار ہوتی ہے، ہم بس اسے پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔

ایک اور صارف زبیر فیصل عباسی نے اُمید ظاہر کی کہ یہ سانحہ مزید بڑا نہ ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ سیاحت کی ترقی صرف دلفریب مناظر ٹویٹ کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے، جس میں حفاظت، تحفظ، خدمات، بنیادی ڈھانچہ، آفات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی اور بہت کچھ شامل ہے۔

ایک اور صارف زویا شبیر نے اس سانحے کو 'نااہلی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سیاح کبھی بھی ایسے ملک میں نہیں آئیں گے جہاں لوگ تیاری نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر بھوکے مر رہے ہوں۔