آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عدنان صدیقی کی سیلفی: کراچی میں منشیات اور شراب کی بوتلیں تباہ کرنے کی تقریب میں عدنان صدیقی کی تصویر وائرل، پاکستان میں شراب کی بوتلوں کو بیچا کیوں نہیں جا سکتا؟
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
’مجھے وہ سیلفی لیتے ہوئے خوشی ہوئی کہ یہ وہ منشیات ہیں جو ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں۔‘
یہ کہنا تھا اداکار عدنان صدیقی کا جن کی ایک تصویر اور ویڈیو گذشتہ چند روز سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہے اور اس کی وجہ ان کا شراب کی بوتلوں کو توڑنا اور نذرِ آتش منشیات کے ڈھیر کے سامنے سیلفی بنانا تھا۔
پاکستان میں غیر قانونی طریقوں سے سمگل ہونے والی منشیات کو تو تباہ کرنے کے لیے آگ لگا دی جاتی ہے تاہم شراب کی بوتلوں پر بلڈوزر پھیرے جاتے ہیں اور انھیں علیحدہ سے توڑا بھی جاتا ہے۔
گذشتہ روز کراچی میں کسٹمز، اے این ایف اور ضلعی انتظامیہ نے مل کر پاکستان میں غیر قانونی طور پر آنے والی شراب کی بوتلوں اور منشیات کو تباہ کیا تو وہاں اداکار عدنان صدیقی بھی موجود تھے۔
ان کی وائرل ہونے والی ویڈیو اور تصویر نے پاکستان میں منشیات اور شراب کی بوتلوں کو تباہ کرنے کی روایت کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
وائرل ہونے والی تصویر میں عدنان صدیقی اپنے پیچھے جلنے والی منشیات کے سامنے کھڑے مسکرا رہے ہیں۔
اس تصویر پر سوشل میڈیا صارفین نے متعدد میمز بنائے ہیں۔ تاہم اس ہنسی مذاق اور تنقید کے بیچ کچھ صارفین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا منشیات اور شراب کی بوتلوں کو تباہ کرنے ہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔
سوشل میڈیا میمز اور عدنان صدیقی
ٹوئٹر صارف زوما شبیر نے سوال کیا کہ ’ہم یہ شراب جلانے کے بجائے غیر مسلم پاکستانیوں کو کیوں نہیں بیچ سکتے؟ اگر ہم ایسا کریں تو اس سے ہمیں کچھ پیسے مل سکتے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ 'اور فضائی آلودگی کا کیا ہوگا؟ اسے جلانے سے ہم نے پیسہ بھی ضائع کیے اور آلودگی بھی پھیلائی۔‘
اس حوالے سے ہونے والی تنقید اور سوالات کے بارے میں عدنان صدیقی نے بی بی سی سے تفصیل سے بات کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سوچ بالکل غلط ہے کہ ہم غیر قانونی طور پر پاکستان میں آنے والی کسی بھی چیز کو آگے فروخت کر کے اس سے پیسے بنا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔‘
انھوں نے مزيد کہا کہ ’جو شراب غیر قانونی طور پر پاکستان میں آئی اسے آگے حکومتی نگرانی میں فروخت کرنا تو ایسا ہے جیسے آپ امریکہ میں غیر قانونی طور پر چلے گئے اور وہاں جا کر کہیں کہ مجھ سے پیسے لے کر مجھے قانونی طور پر امریکہ میں رہنے کی اجازت دے دی جائے۔‘
یہاں انھوں اس بات کو واضح کی کہ جو تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے وہ شراب کی بوتلوں کے سامنے نہیں بلکہ جلائی جانے والی منشیات کے سامنے لی گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے وہ سیلفی لیتے ہوئے خوشی ہوئی کہ یہ وہ منشیات ہیں جو ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’وہاں جلائی جانے والی منشیات میں ہیروئن، چرس، آئس اور منشیات کی دیگر اقسام شامل تھیں۔‘
ضائع کی جانے والا شراب کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’وہ بوتلیں ہم نے توڑی ضرور ہیں اور وہاں میں اکیلا نہیں تھا لیکن لوگ تنقید صرف مجھ پر ہی کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں کوئی یہ نہیں دیکھ رہا کہ میرے ساتھ ایک انگریز ڈپلومیٹ کھڑا بھی اسے توڑ رہا ہے۔‘
ڈی سی کراچی انعام وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ’تقریب میں متعدد افراد کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی پھیلانے میں مدد مل سکے کہ یہ اشیا ممنوع اور خطرناک ہیں۔‘
انعام وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا سب کے سامنے اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ شفافیت واضح ہو سکے۔‘
انھوں کہا کہ ’میں خود شراب نوشی نہیں کرتا ہوں لیکن ویڈیو میں اپنے ایک دوست کے لیے کہا کہ ’دیکھو شیراز میں یہ بوتل توڑ رہا ہوں‘، مجھے اس بوتل کی قیمت کا اندازہ نہیں تھا۔‘
اسی بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’انھیں وہاں موجود افسران کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ تمام شراب کی بوتلیں پاکستان میں مسلمان لے کر آئے ہیں جو کروڑوں روپے کی مالیت کی ہیں۔
’ہم یہ نہیں سوچتے کہ یہ کروڑوں روپے وہ لوگ پاکستان میں کسی فلاحی کام کے لیے دے سکتے ہیں جس سے کسی کا بھلا ہو گا۔‘
میمز اور اس پر عدنان صدیقی کا ردعمل
وائرل ہونے وال سیلفی پر سوشل میڈیا سارفین کی جانب سے مختلف قسم کی میمز بنائی گئی ہیں۔ کوئی اس تصویر کو اپنی زندگی میں درپیش صورتحال سے جوڑ رہا ہے تو کوئی اسے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اور ملکی حالات سے جوڑ رہا ہے۔
نصرت سحر نے میم بناتے ہوئے عدنان صدیقی کے بارے میں لکھا کہ 'امی میرا پرچہ بہت اچھا ہوا' جبکہ تصویر میں لگی آگ پر انھوں نے لکھا کہ ’یہ میرا رزلٹ ہے۔‘
ٹوئٹر صارف کرات صدیقی نے آگ پر لکھا کہ یہ 'میری زندگی' اور عدنان صدیقی کی فوٹو پر لکھا کہ ’یہ میں ہوں جو سوشل میڈیا پر انجوائے کر رہی ہوں۔‘
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ان میمز پر بات کرتے ہوئے اداکار عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’میں تو ان تمام میمز کو پڑھ کر خوب انجوائے کر رہا ہوں۔‘
انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’آپ یہ دیکھیں کہ لوگوں کے پاس کتنا وقت اور ٹیلنٹ ہے میمز بنانے کے لیے۔ اس لیے میں تو اب یہ سوچ رہا ہوں کہ مجھے این ایف ٹی پر رجسٹرڈ ہونا چاہیے تھا تاکہ میرے پاس کاپی رائٹس ہوتے اور میں اس سے پیسے بنا سکتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ساتھ ہی ساتھ مجھے افسوس بھی ہو رہا ہے کہ ہمارے لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ کیونکہ جب میں نے یہ تصویر پوسٹ کی تھی تو اس کے نیچے یہ تصویر بنانے کا مقصد بھی لکھا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
شراب کی بوتلوں کو بیچا کیوں نہیں جا سکتا اور انھیں تباہ کرنے کا کون سا طریقہ بہتر ہے؟
اس تقریب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی سی کراچی انعام وزیر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ کسٹمز، اے این ایف، ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکموں کی مشترکہ کاوش ہوتی ہے کہ ہم سمگل شدہ مال کو تباہ کرتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے صرف شراب کی بوتلیں ہی نہیں بلکہ منشیات اور جعلی موبائل فون بھی تباہ کیے ہیں۔ یہ وہ موبائل فون تھے جو سمگل ہو کر پاکستان میں آئے اور ان کا آئی ایم آئی جعلی تھا۔ یعنی کسی بھی کمپنی نے ان فونز کو تیار نہیں کیا اور ان کا استعمال کسی بھی غلط کام کے لیے ہو سکتا ہے۔‘
لوگوں کی جانب سے ماحول کو آلودہ کرنے کی تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے شراب کی بوتلوں کو نہیں جلایا بلکہ منشیات کو آگ لگائی تھی۔ ہم نے 26 ہزار شراب کی بوتلوں پر بلڈوزر پھیر کر انھیں توڑا ہے اور یہی سب سے بہترین طریقہ ہے۔ ان بوتلوں کو آگ اس لیے نہیں لگائی جاتی کیونکہ اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔ جبکہ اسے دریا میں بہانے سے آبی آلودگی پھیلتی ہے۔‘
انتظامیہ کتنے عرصے بعد غیر قانونی اور سمگل شدہ اشیا کو جلاتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’جب تک کوئی کیس ختم نہیں ہو جاتا تب تک ہم انھیں تباہ نہیں کرتے۔
'کل ایک ایسا ٹرک بھی تھا جو دس سال سے کھڑا تھا کیونکہ اس کا کیس چل رہا تھا۔ جبکہ کچھ شراب کی بوتلیں ایسی تھیں جو تین سال پہلے پاکستان میں لائی گئی تھیں۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'میشیات کو تباہ کرنے کے لیے سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ ہمارے پاس مخصوص بھٹیاں ہوں جن سے ماحول کو آلودگی سے بچا سکیں۔
’لیکن پاکستان میں بڑی مقدار میں تباہ کرنے والی ایسی بھٹیاں موجود نہیں ہیں اس لیے ہم نے منشیات کو شہر سے دور جا کر جلایا تاکہ لوگوں تک اس کا دھواں نہ پہنچے۔‘
اس معاملے پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اے این ایف کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بتایا کہ ’شراب اور منشیات کو سی آر پی سی کے سیکشن 516 کے تحت تباہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ آپ حدود آرڈینس جو ضیا دور میں بنایا گیا تھا اس کے تحت کسی ایسی بوتل کو آگے فروخت نہیں کر سکتے جو کسی مسلمان شخص سے پکڑی گئی ہوں۔
’ہاں اگر کوئی سمگل شدہ مال کسی غیر مسلم سے پکڑا جائے تو اسے ہم ڈپلومیٹک بانڈ کے تحت انھیں آگے فروخت کر سکتے ہیں۔‘
اس بارے میں انھوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر کئی سالوں سے کیس فیڈرل شریعت کورٹ میں چل رہا جس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔