وجیہہ سواتی کیس: میں نے وجیہہ سواتی کا سامان جلا دیا ہے، ملزم کا نوکروں کو جائے واردات دھونے کا حکم

،تصویر کا ذریعہMaqsoood Ahmed
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پولیس کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو جب پاکستان کے شہر راولپنڈی کے علاقے ڈی ایچ اے میں امریکی شہری وجیہہ سواتی کو قتل کیا گیا تو وہ لگ بھگ دوپہر دو بجے کا وقت تھا۔
وجیہہ کو گھر کے ایک کمرے میں قتل کرنے کے بعد ملزم رضوان حبیب نے اپنے نوکر یوسف اور اس کی بیوی زاہدہ سے کہا کہ ’میرے جانے کے بعد اس کمرے کو دھو کر ڈیٹول سے صاف کر دینا۔‘
شام کو اسی گھر کے ایک کمرے میں سویا ہوا 15 سالہ بچہ آیان اٹھا اور وجیہہ کو نہ پا کر اس نے اپنے خاندان والوں کو بتایا جب گیٹ پر اس کی خالہ اسے لینے آئیں۔
تب تک رضوان وجیہہ کی لاش کو کارپٹ کے ٹکرے میں لپیٹ کر اپنی ہی گاڑی میں صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے اس پوش علاقے سے ہی نہیں بلکہ اس صوبے کی حدود سے بھی باہر پہنچا چکا تھا۔
اس کے بعد وجیہہ کی لاش کو لکی مروت کے ایک گھر کے ایک کمرے میں چار فٹ گہرے گڑھے میں ڈال کر دفن کر دیا گیا۔
اب وجیہہ سواتی کا جسد خاکی تدفین کے لیے نیویارک لے جایا جائے گا جبکہ پولیس نے تفتیش کے دوران ملزم حبیب کے گھر میں کام کرنے والے دو میاں بیوی کو بھی گرفتار کر کے ان سے بیان لیے ہیں۔ ان دونوں نے کرائم سین کو دھونے میں معاونت کی تھی۔
راولپنڈی کے سرد خانے میں موجود وجیہہ کی لاش کو ممکنہ طور پر آئندہ چند روز میں امریکہ لے جائا جائے گا تاہم ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے دو بیٹے اس میں شرکت نہیں کر پائیں گے اور تمام انتظامات ان کا بیٹا عبداللہ دیکھے گا۔ اس کےبعد وہ برطانیہ میں اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کے پاس آ جائیں گے جنھیں والدہ خالہ کے ہاں ایک ہفتے کے لیے چھوڑ کر پاکستان گئی تھیں۔
خیال رہے کہ عبداللہ نے اپنی والدہ کی گمشدگی کے بعد ان کی بازیابی کے لیے پاکستان میں ایف آئی آر کٹوائی اور پھر امریکہ میں متعلقہ حکام کو اطلاع دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعد میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھی اس معاملے پر پاکستانی پولیس سے رابطہ کیا۔ ایف بی آئی نے مقتولہ کے بیٹوں اور عزیزوں اور پولیس حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔
عبداللہ کے کم سن بھائیوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں پاکستانی حکام سے درخواست کی کہ ہماری والدہ کو ہمارے سوتیلے والد سے بازیاب کروایا جائے۔
اس کیس کی تحقتیقات میں شامل ایس ایس پی انویسٹی گیشن غضنفر علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش میں ابھی مزید کچھ نکات کا پتہ چلانا ہے جس کے لیے عدالت نے گذشتہ روز اسے مزید چار روز کے لیے ریمانڈ پر ہمارے حوالے کیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم رضوان حبیب نے ہمیں کہا کہ تھا میں نے مقتولہ وجیہہ کا سامان جلا دیا ہے۔
’اس نے سامان کے حوالے سے کہا کہ جلا دیا ہے اب تو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن پولیس چاہتی ہے کہ اس مقام پر بھی جائے جہاں اس نے تمام چیزوں کو جلایا کیونکہ یہ بھی یہ تحقیقات کا حصہ ہے۔‘
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے حوالے سے متعلقہ ڈاکٹر نے واضح طور پر قتل کی وجہ نہیں بتائی اور کہا ہے کہ فرانزک کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔
مزید پڑھیے
تاہم ملزم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس نے مقتولہ کو چھریوں کے وار کر کے قتل کیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وجیہہ سواتی کی قمیض پر کٹ لگے ہوئے تھے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ پولیس نے اس قتل کے بعد لاش کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کو برآمد کر لیا ہے۔
’دو گاڑیاں استعمال ہوئی ہیں ملزم اٹک تک ایک گاڑی میں گیا تھا اور یہی وہ گاڑی تھی جس میں وجیہہ کی لاش کو کارپٹ میں لپیٹ کر رکھا گیا تھا پھر اس کے والد جو ہنگو سے ایک گاڑی لے کر آئے تھے وہ گاڑی انھوں نے ملزم کو دی اور خود لاش کو دفن کرنے کے لیے وہ گاڑی لے کر پیزو چلے گئے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ جس گاڑی میں لاش دوسرے صوبے میں منتقل ہوئی وہ گاڑی ملزم کی اپنی تھی لیکن جس میں وہ واپس لوٹا وہ گاڑی رینٹ کی تھی جو اس کے بھائی کی شادی میں استعمال ہونے کے لیے اس نے ہنگو بھجوائی تھی اور والد سے لے کر اس میں راولپنڈی واپس آیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم رضوان اور اس کی سابقہ اہلیہ کے درمیان اصل تنازع جائیداد کا تھا اور بظاہر وجۂ قتل بھی یہی ہے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ پولیس اس وقت جاری تحقیقات میں ملزم کی بینک سٹیٹمنٹس کو بھی دیکھے گی کیونکہ مقتولہ نے ان کے خلاف دائر کیسز میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈی ایچ اے والا گھر ملزم نے اپنے نام کر رکھا ہے لیکن اس کے لیے پیسے انھوں نے دیے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مقتولہ وجیہ سواتی پاکستان آنا نہیں چاہتی تھیں لیکن ملزم نے انھیں پراپرٹی ٹرانسفر کا لیٹر بھجوایا اور کہا کہ میں نے اسے آپ کے نام ٹرانسفر کروانا ہے آپ آئیں اور اس پر دستخط کریں۔
اس کی تصدیق مقتولہ کے بہنوئی مقصود احمد نے بھی کی۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ ملزم رضوان نے ان سے متعدد بار ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ وہ سب وجیہہ کے نام کر رہا ہے اور اس سے معافی مانگے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ ملزم نے انھیں وہ لیٹر بھجوایا تھا جس کے ذریعے جائیداد کی ٹرانسفر ہونی تھی اور اسی لیٹر پر گھر پر ہی دستخط کرنے کے بہانہ بنا کر وہ وجیہہ کو اپنے گھر لے کر گیا تھا ورنہ وجیہہ کا اس کے گھر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
جائیداد سے متعلق کیسز میں وجیہہ کی معاونت ایڈوکیٹ شبنم اعوان نے کی جو ان کی دوست بھی ہیں اور ان کی گمشدگی کی درخواست بھی ان کے بیٹے کی جانب سے شبنم نے ہی درج کروائی تھی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ کے ملزم کے خلاف جائیداد کے حوالے سے تین کیسز چل رہے تھے۔
لیکن پولیس کو سامنے موجود ملزم تک پہنچنے میں اتنا لمبا عرصہ کیوں لگ گیا اور پھر یہ ممکن کیسے ہوا؟
اس سوال کے جواب میں ایس ایس پی انویسٹی گیشنز نے بتایا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں ملزم کافی مضبوط اعصاب کا مالک ہے، وہ بہت مکار اور چلاک ہے۔ اس نے اپنی طرف سے پرفیکٹ مڈر کے طور پر پلان کیا۔ اور بہت عرصے تک وہ اس میں کامیاب بھی رہا لیکن پولیس کو کلیو ملنے کی دیر ہوتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ٹیکنیکل ڈیٹا کا جائزہ لینے سے ہمیں ملزم تک پہنچنے میں بہت مدد ملی۔ اس میں بہت اچھے کلیوز ملے ایک تو موبائل ڈیٹا اور دوسرا جن لوگوں کو ملزم نے اس جرم میں استعمال کیا۔
اس کیس کی تحقیقات کی ابتدا میں مرکزی ملزم سے بھی پہلے پولیس نے وجیہہ سواتی کے قانونی معاون قمر شاہ کو بھی شامل تفتیش کیا تھا جنھوں نے ضمانت قبل ازوقت گرفتاری کروا رکھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد میں مقتولہ کی جانب سے قمر شاہ کے خلاف کٹوائی جانے والی ایف آئی آر کے بعد مقتولہ نے عدالت کے روبرو 164 کا بیان ریکارڈ کروایا تھا جس میں عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی جان کو اصل خطرہ رضوان حبیب سے ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں مقتولہ وجیہہ سواتی کی وکیل شبنم اعوان نے بھی تصدیق کی کہ وجیہہ کے دونوں بچوں کو اغوا کر کے ملزم حبیب نے انھیں زبردستی اپنے وکیل کے خلاف بیان دلوایا تھا جس کے بعد انھوں نے عدالت جا کر 164 کا بیان دیا اور پھر بچوں کو لے کر بیرون ملک چلی گئی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ کی جلد فراہمی کے لیے درخواست کی گئی ہے تاہم مقتولہ کا جسد خاکی بیرون ملک منتقل کرنے میں پولیس کی جانب سے کوئی دیر نہیں کی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ موت کا تصدیقی سرٹیفکیٹ بنوانے میں اور لاش کو بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے ضروری اقدامات اور بین الاقوامی فلائیٹ کی دستیابی میں وقت صرف ہوتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آیان جو کہ برطانیہ واپس جا چکے ہیں اور ان کی پاکستان میں موجودگی تک پولیس کو ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی تھی لیکن چونکہ وہ وجیہہ سواتی کے ساتھ پاکستان آئے تھے اور ملزم کے گھر تک گئے تھے اس لیے پولیس ان کا بیان بھی لے گی۔
ایان برطانیہ میں موجود وجیہہ کی بہن فائزہ کے بیٹے ہیں۔ ایان کے والد مقصود نے بی بی سی کو بتایا کہ ایان نے واقعے کے روز کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسے جوس دیا گیا جسے پینے کے بعد وہ سو گیا اور شام کو اٹھا اور خالہ کو نہ پا کر شور کیا جس کے جواب میں نوکروں نے اسے کمرے میں بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ قدامت میں لمبا اور بھاری بھرکم ہے اس لیے وہ ان کے قابو میں نہیں آیا۔
مقصود احمد کہتے ہیں کہ ایان نے انھیں بتایا کہ رضوان جب ہمیں ائیر پورٹ سے گھر لے کر آیا تو اس نے سنا کہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے وہ پشتو میں نوکروں سے کہہ رہا تھا کیمرے بند کر دو۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم رضوان نے ڈی ایچ اے کے گھر سےلاش نکالنے کے بعد وہاں موجود ڈی وی آر کو نکالا اور اسے تلف کر دیا تھا۔
اس کیس کے حوالے سے پولیس کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ امریکی سفارت خانے نے بھی اپنی معلومات پنجاب پولیس کے ساتھ شئیر کیں تھیں جبکہ کیس کی تفتیش کے حوالے سے پولیس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت مرکزی ملزم رضوان سمیت کل چھ ملزمان زیرحراست ہیں ان میں ملزم کا سگا باپ اور نوکر شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہShabnam Awan
لاش کو زمین میں دبا کر فرش پکا کر دیا گیا تھا
اس سے قبل بیزو تھانے کے ایس ایچ او امیر خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 'وہ پہاڑ کے دامن میں پتھروں سے بنا ایک گھر تھا جو اس وقت خالی تھا۔ ملزم کی نشاندہی پر ہم ایک کمرے میں گئے جس کے فرش کے نیچے مقتولہ کو دفن کیا گیا تھا۔'
انھوں نے بتایا کہ ہمیں اس پورے عمل میں دو سے ڈھائی گھنٹے لگے جس دوران فرش کو کھودا گیا۔
'دو سے ڈھائی گھنٹے لگے اور گڑھا چار فٹ سے زیادہ گہرا تھا اورلاش گل سڑ چکی تھی۔'
ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ جہاں سے وجیہہ سواتی کی لاش ملی ملزم کی پہلی بیوی کا آبائی علاقہ ہے اور یہیں اس کا اپنا ننھیال بھی ہے، تاہم یہ گھر جہاں سے لاش ملی وہ اسے کے ایک نوکر کا ہے اور اسے بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ایف بی آئی اہلکاروں کی تحقیق کے لیے پاکستان میں موجودگی
دوسری جانب برطانیہ میں مقتولہ کے دو نوعمر بیٹوں سے ایف بی آئی کے اہلکاروں نے ملاقات کی اور اس کیس کی تفتیش میں مدد کا ایک بار پھر یقین دلایا۔ انھوں نے بچوں کو ادارے کی جانب سے ان کی والدہ کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
ایف بی آئی کے اہلکاروں نے مقتولہ کے بچوں جن کی عمریں دس اور پندرہ برس کے ہیں سے دو بار ملاقاتیں کی ہیں۔
خیال رہے کہ اس کیس کی معلومات اور پوچھ گچھ کے لیے پاکستان میں امریکی ایف بی آئی کی ٹیم کے اہلکار پاکستان میں ہی موجود ہیں۔
خاندان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے کی جانب سے ابھی مقتولہ کی لاش کی منتقلی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
وجیہہ سواتی کون ہیں؟
46 سالہ وجیہہ سواتی کا تعلق پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ امریکہ میں گذشتہ کئی برسوں سے رہائش پذیر تھیں اور اس بار فقط چار روز کے لیے پاکستان آئی تھیں۔
ان کے تین بیٹے ہیں جن میں سے بڑا بیٹا 22 سال کا ہے اور اس وقت امریکہ میں رہائش پذیر ہے جبکہ دو بیٹے جن کی عمریں بالترتیب 15 اور دس برس ہیں، عارضی طور پر اپنی خالہ کے گھر برطانیہ میں مقیم ہیں۔
وجیہہ کی وکیل شبنم اعوان کا کہنا ہے کہ مغویہ تقریباً ہر سال پاکستان آتی تھیں ان کے پہلے شوہر کو جو کہ ایک ہارٹ سپیشلسٹ تھے پاکستان میں سنہ 2014 میں مبینہ ٹارگٹ کلنگ میں قتل کیا گیا تھا۔
وکیل شبنم اعوان نے بتایا کہ وجیہہ اپنے شوہر کا آلات جراحی کا کاروبار بھی سنبھالتی ہیں اور پراپرٹی سیکٹر میں انویسٹ کرتی رہتی تھیں۔ انھوں نے بزنس ایڈمسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا۔
ایڈووکیٹ شبنم اعوان کے مطابق وجیہہ کی رضوان سے پہلی ملاقات یو اے ای میں ایک بروکر کی حیثیت سے ہوئی۔
وجیہہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ہمیں پہلے نہیں معلوم تھا کہ میاں بیوی میں کیا جھگڑا ہے کیونکہ انھوں نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی تھی اور اس کے بعد سے خاندان والوں سے ان کا رابطہ کم رہا تھا۔
وجیہہ کے بہنوئی مقصود احمد کے مطابق وجیہہ چند روز کے لیے سات سال بعد ہم سے ملنے انگلینڈ آئی تھیں اور پھر اس نے کچھ دن گزرنے کے بعد ہمیں بتایا تھا کہ رضوان نے ان کے پیسوں سے گھر لے کر انھیں کہا تھا کہ تین ماہ بعد تمھارے نام کر دوں گا لیکن پھر گھر نام نہیں کروایا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'ہمیں وجیہہ نے بتایا کہ رضوان نے اس کے پیسوں سے خریدی گئی گاڑیاں بھی اپنے نام کروائیں تھیں اور مبینہ طور پر ستمبر 2020 میں ہنگو میں اسے کوئی دوا دے کر قتل کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔'
اہلِ خانہ کی جانب سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق مغویہ کی رضوان سے طلاق ہو چکی تھی جو ان کے دوسرے شوھر تھے تاہم رضوان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی ان کی بیوی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSHABNAM AWAN
ڈیڑھ مہینے کی تفتیش کے بعد پولیس حکام نے وجیہہ کی گمشدگی کے حوالے سے عدالت میں ہونے والی نویں سماعت پر 22 دسمبر کو بتایا تھا کہ کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے اور وجیہہ سواتی کے 'سابق' شوہر اور ملزم رضوان حبیب کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انھیں چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
وجیہہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو وہ لاپتہ ہو گئی تھیں، لیکن ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر دو نومبر کو درج کی گئی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر کاٹنے میں بہت ٹال مٹول سے کام لیا تھا۔
یہ ایف آئی آر ان کی پہلی شادی سے ہونے والے 22 سالہ بیٹے عبداللہ نے لکھوائی تھی جو امریکہ میں مقیم ہیں۔
درخواست میں انھوں نے اپنے سوتیلے والد رضوان حبیب پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ان کی والدہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا ہے۔
ان کی وکیل شبنم نواز کہتی ہیں کہ 'وجیہہ کے بیٹے عبداللہ نے ان کی گمشدگی کے تیسرے روز امریکی سفارتخانے اور وزیراعظم کی جانب سے موجود شکایات کے پورٹل اور پولیس پورٹل پر اپنی شکایت دے دی تھی۔'
'میرا کزن ایان تو واپس برطانیہ پہنچ گیا لیکن میری والدہ نہیں آئیں'
ایف آئی آر کے مطابق عبداللہ نے بتایا ہے کہ ان کی والدہ 16 اکتوبر کو پاکستان آئی تھیں۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ 15 برس کا بھانجا ایان بھی آیا تھا۔
وجیہہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ایان کو سکول سے چھٹیاں تھیں اس لیے اس نے اپنے والدین سے کہا کہ میں نانی سے ملنے پاکستان جانا چاہتا ہوں۔ تاہم وجیہہ اپنے دونوں بیٹوں کو اپنی بہن اور ایان کی والدہ کے پاس چھوڑ آئی تھیں۔
عبداللہ کے مطابق 22 اکتوبر کی رات کو ان کی والدہ کی پاکستان سے برطانیہ واپسی کی فلائٹ تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ کے پاس ہی ان کے کزن کا پاسپورٹ تھا اور ان کی والدہ کے مبینہ اغوا کے بعد ان کے کزن کو نئے سفری دستاویزات بنوانے پڑے۔
عبداللہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ انھیں اور ان کے بھائی کو چھوڑ کر کچھ روز کے لیے پاکستان گئی تھیں جس کی وجہ اپنے 'سابق' شوہر رضوان حبیب کے ساتھ جائیداد اور دیگر تنازعات کو حل کرنا تھا۔
عبداللہ نے پولیس کو درج کروائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ 'مجھے یقین ہے کہ رضوان حبیب نے میری والدہ کو جائیداد اور ان کی زندگی لینے کے لیے اغوا کیا ہے۔'
انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ میری والدہ کا کسی بھی قسم کا ذہنی یا جسمانی استحصال کر سکتے ہیں اور ملزم رضوان نے انھیں اور ان کی خالہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر معاملے کو پولیس کے پاس لے کر گئے تو وہ میری والدہ کو قتل کر دیں گے۔
عبداللہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ لاپتہ ہونے کے بعد سے والدہ سے فون پر کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
اس درخواست میں انھوں نے اپنے سگے والد ڈاکٹر علی مہدی کا ذکر بھی کیا ہے جو پاکستان میں سنہ 2014 میں قتل کر دیے گئے تھے۔
پولیس نے ایف آئی آر کاٹنے میں تاخیر کیوں کی؟

،تصویر کا ذریعہRAWALPINDI POLICE
راولپنڈی پولیس میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن غضنفر علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی اور ایسا کہنا بالکل بے جا ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'یہ واقعہ خاندان کے مطابق 16 اکتوبر کو ہوا ہے۔ ہمیں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور جیسے ہی اطلاع دی گئی ہم نے ایف آئی آر درج کی۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'پولیس نے جس درخواست گزار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کی ہے وہ عبداللہ علی ہیں جو کہ امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اور ان سے تو پولیس نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ پاکستان آئیں گے تو درخواست درج ہو گی۔'
ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے اندر رٹ پٹیشن دائر ہے جس میں مسلسل پولیس حکام پیش ہو رہے ہیں اور عدالت کو آگاہ کر رہے ہیں۔
لیکن وکیل شبنم اعوان کہتی ہیں کہ جب اہلِ خانہ نے ان سے رابطہ کیا تو اس سے پہلے 19 تاریخ کو مغویہ وجیہہ کے بیٹے عبداللہ علی وزیراعظم کے پورٹل اور امریکی سفارتخانے اور سی پی او کے پورٹل پر اطلاع کر چکے تھے۔
وکیل شبنم اعوان کے مطابق 22 تاریخ سے انھوں نے خود ایف آئی آر درج کروانے کے لیے کوششیں شروع کیں۔
'اسلام آباد کی پولیس نے ہمیں ٹالا اور پھر کہا کہ ڈی ایچ اے جس گھر سے وہ غائب ہوئیں وہ اسلام آباد میں نہیں آتا پھر ہم تھانہ مورگاہ گئے۔ وہ بھی مقدمہ درج نہیں کر رہے تھے، ایک کہتا تھا ہمارے تھانے کی حدود نہیں دوسرا کہتا تھا ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں۔'
وہ کہتی ہیں کہ جب تھانہ مورگاہ والے مقدمہ نہیں درج کر رہے تھے تو ہم نیشنل کمیشن آف سٹیٹس آف وویمن کی نیلوفر بختیار کے پاس گئے۔
'اسی دوران ہم نے رٹ آف ہیبس کورپس (حبس بے جا میں رکھنے سے متعلق درخواست) جمع کروائی۔‘
برطانیہ میں وجیہہ کے بہنوئی مقصود احمد نے دعویٰ کیا کہ 'جب وجیہہ 16 تاریخ کو رضوان حبیب کی رہائش گاہ سے لاپتہ ہو گئیں اور ان کا 15 برس کا بیٹا ایان بھی بمشکل اس گھر سے باہر نکلا تو فوری طور پر تو اس بچے کو وطن واپس لانے کے انتظامات کیے گئے۔'
مقصود احمد کہتے ہیں کہ وجیہہ کی پاکستان میں مقیم بہن عمارہ نے رضوان کو فون کیا تو اس وقت اس نے بتایا کہ وہ وجیہہ کے ساتھ باہر نکلا ہے اور وہ دیر سے لوٹیں گے۔ عمارہ نے ہی ایان کو ان کی نانی کے گھر پہنچایا، جہاں سے ان کی واپسی کے انتظامات کیے گئے۔












