وجیہہ سواتی کی لاش کمرے میں دفن کر کے اس پر پکا فرش ڈال دیا گیا: پولیس

،تصویر کا ذریعہMaqsoood Ahmed
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
تقریباً ڈھائی ماہ قبل 16 اکتوبر کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے لاپتہ ہونے والی امریکی شہری وجیہہ سواتی کی لاش پولیس کو دو روز پہلے خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے ملی جہاں انھیں ایک مکان میں دفن کر اس کے اوپر فرش پکا کر دیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ان کے سابقہ شوہر رضوان حبیب نے جنھیں پولیس نے ان کی گمشدگی کے ڈیڑھ ماہ بعد گرفتار کیا تھا دوران تفتیش یہ انکشاف کیا کہ انھوں نے وجیہہ کو 16 اکتوبر کو ہی قتل کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں انھیں چھریوں کے وار کر کے قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
وجیہہ سواتی کا پوسٹ مارٹم راولپنڈی کے ایک سرکاری ہسپتال میں کیا گیا۔
ڈسٹرکٹ ہسپتال راولپنڈی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دو ماہ کے بعد پوسٹ مارٹم میں وجہ قتل کا پتا لگانا مشکل ہوتا ہے تاہم فورینزک کے لیے نمونے لاہور لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب مقتولہ کے سابقہ شوہر ملزم رضوان حبیب کو مزید تین روز کے لیے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
لاش کو زمین میں دبا کر فرش پکا کر دیا گیا تھا
وجیہہ سواتی کی لاش صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ان کے قتل کے مقام سے ڈھائی سو کلومیٹر سے زیادہ دور صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے ملی تھی۔

،تصویر کا ذریعہShabnam Awan
پولیس کے مطابق ان کی لاش کو ایک گاڑی کے ذریعے لکی مروت تک قالین میں لپیٹ کر منتقل کیا گیا تاہم ابھی پولیس کو آلہ قتل اور گاڑی کا سراغ نہیں مل سکا۔
بیزو تھانے کے ایس ایچ او امیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں راولپنڈی پولیس کی جانب سے گذشتہ چار پانچ دن سے کہا جا رہا تھا کہ لکی مروت میں ایک لاوارث لاش دفن ہوئی ہے اور اس کا پتہ چلایا جائے لیکن ان کے بقول چیک کرنے کے باوجود کچھ معلوم نہیں ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ جمعے کو انھیں بتایا گیا کہ تھانہ مورگاہ کے ایس ایچ او سے رابطہ کریں اور پھر دن دو بجے کے قریب مورگاہ پولیس کی ٹیم پیزو آ گئی۔
امیر خان کہتے ہیں کہ پولیس کی ٹیم کے ہمراہ ملزم بھی موجود تھا اور اس نے ایک گھر کی نشاندہی کی جہاں ہم گئے۔
پولیس نے ملزم کے انکشاف پر مقتولہ کی نعش لکی مروت کے علاقہ پیزو سے برآمد کر لی۔
'وہ پہاڑ کے دامن میں پتھروں سے بنا ایک گھر تھا جو اس وقت خالی تھا۔ ملزم کی نشاندہی پر ہم ایک کمرے میں گئے جس کے فرش کے نیچے مقتولہ کو دفن کیا گیا تھا۔'
انھوں نے بتایا کہ ہمیں اس پورے عمل میں دو سے ڈھائی گھنٹے لگے جس دوران فرش کو کھودا گیا۔
'دو سے ڈھائی گھنٹے لگے اور گڑھا چار فٹ سے زیادہ گہرا تھا اور لاش گل سڑ چکی تھی۔'
ایس ایچ او پیزو نے مزید کہا کہ اس علاقے میں رواں سال 165 قتل ہوئے ہیں اور کئی واقعات میں گھروں میں گرینیڈ تک پھینکے گئے لیکن انھوں نے اتنے ظالمانہ انداز میں قتل کبھی نہیں دیکھا۔
ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ جہاں سے وجیہہ سواتی کی لاش ملی ملزم کی پہلی بیوی کا آبائی علاقہ ہے اور یہیں اس کا اپنا ننھیال بھی ہے، تاہم یہ گھر جہاں سے لاش ملی وہ اسے کے ایک نوکر کا ہے اور اسے بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ایف بی آئی اہلکاروں کی تحقیق کے لیے پاکستان میں موجودگی
دوسری جانب برطانیہ میں مقتولہ کے دو نوعمر بیٹوں سے ایف بی آئی کے اہلکاروں نے ملاقات کی اور اس کیس کی تفتیش میں مدد کا ایک بار پھر یقین دلایا۔ انھوں نے بچوں کو ادارے کی جانب سے ان کی والدہ کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
ایف بی آئی کے اہلکار کی گذشتہ جمعے کے بعد مقتولہ کے بچوں جن کی عمریں دس اور پندرہ برس کے ہیں سے دوسری ملاقات تھی۔
سوگوار خاندان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ کے بڑا بیٹا عبداللہ جس نے والدہ کی گمشدگی کی ایف آئی آر کٹوائی تھی امریکہ سے برطانیہ پہنچ رہا ہے۔
عبداللہ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ان کی والدہ کو یا تو امریکہ میں جہاں وہ رہائش پذیر ہیں وہاں دفن کیا جائے یا پھر کینیڈا میں اس قبرستان میں سپر خاک کیا جائے جہاں اُن کے والد اور مقتولہ کے پہلے شوہر ڈاکٹر مہدی سپرد خاک ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے نے بھی اپنی معلومات پنجاب پولیس کے ساتھ شئیر کیں تھیں جبکہ کیس کی تفتیش کے حوالے سے پولیس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔
خیال رہے کہ اس کیس کی معلومات اور پوچھ گچھ کے لیے پاکستان میں امریکی ایف بی آئی کی ٹیم کے اہلکار پاکستان میں ہی موجود ہیں۔
خاندان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے کی جانب سے ابھی مقتولہ کی لاش کی منتقلی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
ملزم کا بیان اعترافی لیکن سوالات ابھی بھی باقی
اتوار 26 دسمبر کو جب ملزم کو عدالت میں لایا گیا تو ان کو کچھ لوگوں کے ساتھ ملنے کی اجازت دینے پر وجیہہ سواتی کے کیس کی پیروی کرنے والی وکیل شبنم اعوان نے مخالفت کی اور اسے قانون کے منافی قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہSHABNAM AWAN
ان کا کہنا ہے کہ ملزم کو ماسوائے اس کے وکیل کے کسی اور دوست یا عزیز سے دوران تفتیش ملنے کی اجازت دینا درست نہیں۔
خیال رہے کہ ملزم کو واقعے کے دو ماہ بعد گرفتار کیا گیا۔
اس سے قبل سنیچر کو جب پولیس نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ وجیہہ کو 16 اکتوبر کو ہی اس کے سابق شوہر رضوان حبیب نے راولپنڈی میں قتل کر دیا تھا اور لاش کو لکی مروت لے گیا تھا تو ساتھ یہ بھی بتایا کہ ابھی تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
اس پریس کانفرنس میں میڈیا کو زیادہ تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور بہت سے سوالات اب بھی باقی ہیں لیکن اس قتل کی تصدیق کیے جانے کے کچھ دیر بعد ہی وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس کو اہم پروفائل کیس کا سراغ لگانے پر شاباش دی۔
اس کیس میں مقتولہ کے ایک قانونی مشیر مرکزی ملزم کی گرفتاری سے پہلے ہی عبوری ضمانت پر ہیں۔ جبکہ پولیس نے اب رضوان حبیب کے والد اور ایک نوکر کو بھی گرفتار کر رکھا ہے جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اس قتل اور لاش کی تدفین میں ان کی معاونت کی تھی۔
وجیہہ سواتی کون ہیں؟
46 سالہ وجیہہ سواتی کا تعلق پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ امریکہ میں گذشتہ کئی برسوں سے رہائش پذیر تھیں اور اس بار فقط چار روز کے لیے پاکستان آئی تھیں۔
ان کے تین بیٹے ہیں جن میں سے بڑا بیٹا 22 سال کا ہے اور اس وقت امریکہ میں رہائش پذیر ہے جبکہ دو بیٹے جن کی عمریں بالترتیب 15 اور دس برس ہیں، عارضی طور پر اپنی خالہ کے گھر برطانیہ میں مقیم ہیں۔
وجیہہ کی وکیل شبنم اعوان کا کہنا ہے کہ مغویہ تقریباً ہر سال پاکستان آتی تھیں ان کے پہلے شوہر کو جو کہ ایک ہارٹ سپیشلسٹ تھے پاکستان میں سنہ 2014 میں مبینہ ٹارگٹ کلنگ میں قتل کیا گیا تھا۔
وکیل شبنم اعوان نے بتایا کہ وجیہہ اپنے شوہر کا آلات جراحی کا کاروبار بھی سنبھالتی ہیں اور پراپرٹی سیکٹر میں انویسٹ کرتی رہتی تھیں۔ انھوں نے بزنس ایڈمسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا۔
وجیہہ اور رضوان کے درمیان میں کیا جھگڑا تھا؟
ایڈووکیٹ شبنم اعوان کے مطابق وجیہہ کی رضوان سے پہلی ملاقات یو اے ای میں ایک بروکر کی حیثیت سے ہوئی۔
وجیہہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ہمیں پہلے نہیں معلوم تھا کہ میاں بیوی میں کیا جھگڑا ہے کیونکہ انھوں نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی تھی اور اس کے بعد سے خاندان والوں سے ان کا رابطہ کم رہا تھا۔
وجیہہ کے بہنوئی مقصود احمد کے مطابق وجیہہ چند روز کے لیے سات سال بعد ہم سے ملنے انگلینڈ آئی تھیں اور پھر اس نے کچھ دن گزرنے کے بعد ہمیں بتایا تھا کہ رضوان نے ان کے پیسوں سے گھر لے کر انھیں کہا تھا کہ تین ماہ بعد تمھارے نام کر دوں گا لیکن پھر گھر نام نہیں کروایا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'ہمیں وجیہہ نے بتایا کہ رضوان نے اس کے پیسوں سے خریدی گئی گاڑیاں بھی اپنے نام کروائیں تھیں اور مبینہ طور پر ستمبر 2020 میں ہنگو میں اسے کوئی دوا دے کر قتل کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔'
اہلِ خانہ کی جانب سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق مغویہ کی رضوان سے طلاق ہو چکی تھی جو ان کے دفوسرے شوھر تھے تاہم رضوان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی ان کی بیوی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہماری غلطی ہے کہ ہم نے رضوان پر اعتبار کیا اور وجیہہ کو پاکستان بھجوایا۔
وجیہہ سواتی کی گمشدگی کا معمہ ہے کیا؟
ڈیڑھ مہینے کی تفتیش کے بعد پولیس حکام نے وجیہہ کی گمشدگی کے حوالے سے عدالت میں ہونے والی نویں سماعت پر 22 دسمبر کو بتایا تھا کہ کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے اور وجیہہ سواتی کے 'سابق' شوہر اور ملزم رضوان حبیب کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انھیں چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
پولیس نے یہ دعویٰ کیا کہ ملزم کی گرفتاری کو زیر التوا رکھا گیا تھا کیونکہ ان کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کا عمل جاری تھا۔
وجیہہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو وہ لاپتہ ہو گئی تھیں، لیکن ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر دو نومبر کو درج کی گئی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر کاٹنے میں بہت ٹال مٹول سے کام لیا تھا۔
یہ ایف آئی آر ان کی پہلی شادی سے ہونے والے 22 سالہ بیٹے عبداللہ نے لکھوائی تھی جو امریکہ میں مقیم ہیں۔
درخواست میں انھوں نے اپنے سوتیلے والد رضوان حبیب پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ان کی والدہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا ہے۔
ایف آئی آر راولپنڈی کے تھانہ مورگاہ میں یہ رپورٹ درج کی گئی اور عبداللہ چونکہ بیرون ملک مقیم ہیں اس لیے انھوں نے اپنی وکیل شبنم اعوان کے ذریعے یہ رپورٹ درج کروائی۔
وجیہہ کی گمشدگی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے پنڈی بینچ کے جسٹس شاہد محمود عباسی کی عدالت میں رٹ پٹیشن کی سماعت ہوئی تو عدالت نے پولیس کی سرزنش کی اور انھیں 30 دسمبر تک مہلت دی تھی۔
ان کی وکیل شبنم نواز کہتی ہیں کہ 'وجیہہ کے بیٹے عبداللہ نے ان کی گمشدگی کے تیسرے روز امریکی سفارتخانے اور وزیراعظم کی جانب سے موجود شکایات کے پورٹل اور پولیس پورٹل پر اپنی شکایت دے دی تھی۔'
'میرا کزن ایان تو واپس برطانیہ پہنچ گیا لیکن میری والدہ نہیں آئیں'
ایف آئی آر کے مطابق عبداللہ نے بتایا ہے کہ ان کی والدہ 16 اکتوبر کو پاکستان آئی تھیں۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ 15 برس کا بھانجا ایان بھی آیا تھا۔
وجیہہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ایان کو سکول سے چھٹیاں تھیں اس لیے اس نے اپنے والدین سے کہا کہ میں نانی سے ملنے پاکستان جانا چاہتا ہوں۔ تاہم وجیہہ اپنے دونوں بیٹوں کو اپنی بہن اور ایان کی والدہ کے پاس چھوڑ آئی تھیں۔
عبداللہ کے مطابق 22 اکتوبر کی رات کو ان کی والدہ کی پاکستان سے برطانیہ واپسی کی فلائٹ تھی۔
'میرا کزن ایان تو واپس برطانیہ پہنچ گیا لیکن میری والدہ نہیں آئیں۔'
وہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ کے پاس ہی ان کے کزن کا پاسپورٹ تھا اور ان کی والدہ کے مبینہ اغوا کے بعد ان کے کزن کو نئے سفری دستاویزات بنوانے پڑے۔
عبداللہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ انھیں اور ان کے بھائی کو چھوڑ کر کچھ روز کے لیے پاکستان گئی تھیں جس کی وجہ اپنے 'سابق' شوہر رضوان حبیب کے ساتھ جائیداد اور دیگر تنازعات کو حل کرنا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق پندرہ برس کے ایان اور وجیہہ سواتی کو رضوان حبیب اپنے ساتھ ڈی ایچ اے راولپنڈی میں رہائش گاہ پر لے کر گئے اور وہاں جا کر انھیں مبینہ طور پر کوئی نشہ آور چیز پلائی۔
وہ کہتے ہیں کہ ایان کو ہوش آیا تو وجیہہ سواتی وہاں موجود نہیں تھیں۔ مبینہ طور پر گھر کے ملازمین نے بچے کو کمرے میں بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا۔
عبداللہ نے پولیس کو درج کروائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ 'مجھے یقین ہے کہ رضوان حبیب نے میری والدہ کو جائیداد اور ان کی زندگی لینے کے لیے اغوا کیا ہے۔'
انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ میری والدہ کا کسی بھی قسم کا ذہنی یا جسمانی استحصال کر سکتے ہیں اور ملزم رضوان نے انھیں اور ان کی خالہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر معاملے کو پولیس کے پاس لے کر گئے تو وہ میری والدہ کو قتل کر دیں گے۔
عبداللہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ لاپتہ ہونے کے بعد سے والدہ سے فون پر کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
اس درخواست میں انھوں نے اپنے سگے والد ڈاکٹر علی مہدی کا ذکر بھی کیا ہے جو پاکستان میں سنہ 2014 میں قتل کر دیے گئے تھے۔
پولیس نے ایف آئی آر کاٹنے میں تاخیر کیوں کی؟

،تصویر کا ذریعہRAWALPINDI POLICE
راولپنڈی پولیس میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن غضنفر علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی اور ایسا کہنا بالکل بے جا ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'یہ واقعہ خاندان کے مطابق 16 اکتوبر کو ہوا ہے۔ ہمیں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور جیسے ہی اطلاع دی گئی ہم نے ایف آئی آر درج کی۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'پولیس نے جس درخواست گزار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کی ہے وہ عبداللہ علی ہیں جو کہ امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اور ان سے تو پولیس نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ پاکستان آئیں گے تو درخواست درج ہو گی۔'
ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے اندر رٹ پٹیشن دائر ہے جس میں مسلسل پولیس حکام پیش ہو رہے ہیں اور عدالت کو آگاہ کر رہے ہیں۔
لیکن وکیل شبنم اعوان کہتی ہیں کہ جب اہلِ خانہ نے ان سے رابطہ کیا تو اس سے پہلے 19 تاریخ کو مغویہ وجیہہ کے بیٹے عبداللہ علی وزیراعظم کے پورٹل اور امریکی سفارتخانے اور سی پی او کے پورٹل پر اطلاع کر چکے تھے۔
وکیل شبنم اعوان کے مطابق 22 تاریخ سے انھوں نے خود ایف آئی آر درج کروانے کے لیے کوششیں شروع کیں۔
'اسلام آباد کی پولیس نے ہمیں ٹالا اور پھر کہا کہ ڈی ایچ اے جس گھر سے وہ غائب ہوئیں وہ اسلام آباد میں نہیں آتا پھر ہم تھانہ مورگاہ گئے۔ وہ بھی مقدمہ درج نہیں کر رہے تھے، ایک کہتا تھا ہمارے تھانے کی حدود نہیں دوسرا کہتا تھا ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں۔'
وہ کہتی ہیں کہ جب تھانہ مورگاہ والے مقدمہ نہیں درج کر رہے تھے تو ہم نیشنل کمیشن آف سٹیٹس آف وویمن کی نیلوفر بختیار کے پاس گئے۔
'اسی دوران ہم نے رٹ آف ہیبس کورپس (حبس بے جا میں رکھنے سے متعلق درخواست) جمع کروائی۔‘
برطانیہ میں وجیہہ کے بہنوئی مقصود احمد نے دعویٰ کیا کہ 'جب وجیہہ 16 تاریخ رضوان حبیب کی رہائش گاہ سے لاپتہ ہو گئیں اور ان کا پندرہ برس کا بیٹا ایان بھی بمشکل اس گھر سے باہر نکلا تو فوری طور پر تو اس بچے کو وطن واپس لانے کے انتظامات کیے گئے۔'
مقصود احمد کہتے ہیں کہ وجیہہ کی پاکستان میں مقیم بہن عمارہ نے رضوان کو فون کیا تو اس وقت اس نے بتایا کہ وہ وجیہہ کے ساتھ باہر نکلا ہے اور وہ دیر سے لوٹیں گے۔ عمارہ نے ہی ایان کو ان کی نانی کے گھر پہنچایا، جہاں سے ان کی واپسی کے انتظامات کیے گئے۔
کیس میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟
گمشدگی کے واقعے کے دو ماہ بعد جب ایف بی آئی اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے تو یہ کیس ایک اہم مقدمے کے طور پر دکھائی دے رہا ہے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن غضنفر نے ملزم کی گرفتاری کے بعد بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ 'اس حوالے سے یہ ایک مشکل کیس ضرور ہے کیونکہ اس میں مرکزی ملزم کے بارے میں کوئی ڈائریکٹ شہادت نہیں تھی۔ مثال کے طور پر کوئی عینی شاہد نہیں کہ وہ بتا سکے کہ خاتون کو ملزم نے اغوا کیا ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ تحقیقات میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی عینی شاہد نہیں ہے اگر وہ ہوتا تو ہمیں پتہ چل جاتا کہ کس وقت یہ واقعہ ہوا ہے اور ہم شواہد اکھٹے کر لیتے اور تحقیقات میں مدد ملتی۔
ایس ایس پی غضنفر کے مطابق دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ تحقیقات میں واقعے کے جتنی جلدی بعد پولیس کو اطلاع مل جائے اتنا ہی اچھا ہوتا ہے تاکہ پولیس جائے وقوع سے شواہد اکھٹے کر لے۔
انھوں نے کہا کہ 'اگرچہ ایسا نہیں کہ یہ کیس ٹریس نہیں ہو سکتا لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر واقعے کے فوری بعد ایف آئی آر درج کروائی جاتی تو پولیس مغویہ کو بازیاب کروا چکی ہوتی۔'

،تصویر کا ذریعہMaqsoood Ahmed
وجہیہ کی وکیل کی یہ بھی شکایت ہے کہ پولیس نے مزم کو طویل عرصے تک چھوٹ دی تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ 'جب سے ایف آئی آر درج ہوئی ہے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر رضوان حبیب کو پوچھ گچھ کے لیے بلوایا جاتا رہا ہے۔'
حکام کا کہنا ہے کہ 'سوشل میڈیا اکاؤنٹ، ایڈریس، فون نمبر، سی سی ٹی وی فوٹیج جس قدر مل سکتی تھی ان کی بنیاد پر مرکزی ملزم کو بار بار بلوایا گیا ایسا نہیں کہ ملزم کو آزاد چھوڑا گیا تھا۔'
اس سوال پر کہ جب اس مقدمے میں خاتون کے خاندان کی جانب سے رضوان حبیب کے خلاف درخواست دی گئی تھی تو پولیس نے اس کی گرفتاری میں تاخیر کیوں کی ایس ایس پی انوسٹی گیشن غضنفر علی شاہ نے کہا کہ 'مرکزی مشتبہ ملزم سے فوری طور پر پوچھ گچھ کی گئی تھی لیکن اعلیٰ عدالتوں کے پہلے ہی یہ احکامات آ چکے ہیں کہ جب تک کسی ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد نہ ہوں تب تک اسے گرفتار نہ کریں۔'
ان شواہد کے بارے میں سوال پر ایس ایس پی انویسٹگیشن کا موقف تھا کہ 'ابھی یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ہمارے پاس کیا شواہد ہیں جن کی بنیاد پر ہم نے رضوان کو گرفتار کیا۔ اس گھر کو کرائم سین کے طور پر لے کر وہاں سے جو شواہد لینے تھے وہ اکھٹے کیے ہیں۔'
غضنفر علی شاہ کا کہنا ہے کہ 'مرکزی ملزم تو یہ (رضوان حبیب) شروع سے ہی تھے اس لیے اس دوران ہم نے ان کو چیک کیا کہ انھوں نے اس روز کیا بیانات دیے۔ انھیں ہم نے کراس چیک کیا اور ان کی گرفتاری بھی جاری تحقیقات کی بنا پر ہوئی ہے۔'
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس میں نامزد ملزم کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا تھا جبکہ ایک اور ملزم نے پہلے ہی ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔







