آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی میں مندر میں توڑ پھوڑ پر توہین مذہب کے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل
کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ہندو مندر کی بےحرمتی کے الزام میں گرفتار ملزم کو 28 دسمبر تک ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
منگل کو عیدگاہ پولیس نے ملزم کو پہلے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جہاں پر سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اقلیتی برادری کی عبادت گاہ پر حملہ دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے، جس پر عدالت نے ملزم کا ریمانڈ انسداد دہشت گردی کی عدالت سے لینے کی ہدایت کی تھی۔
مندر کی بےحرمتی کا واقعہ کراچی کے علاقے نارائن پورہ میں پیر کی شام پیش آیا تھا جہاں ایک شخص نے مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ علاقے کے مکینوں نے اس شخص کو پکڑ کے پولیس کے حوالے کیا تھا۔
کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق نارائن پورہ میں ہندو کمیونٹی کی جانب سے اس واقعے پر دھرنا بھی دیا گیا اور منگل کو صوبائی وزیر اقلیتی امور گیان چند ایسرانی نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو انصاف کی یقین دہانی کرائی اور بتایا کہ واقعے میں ملوث ملزم گرفتار ہو چکا ہے اور مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اس مقدمے کی کارروائی پر نظر رکھے گی اور ملزم کو سخت سے سخت سزا دلوائی جائے گی۔
پیر کی شام پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ عید گاہ تھانے میں مکیش کمار نامی شخص کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں مکیش کمار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ جوگ مایا نامی مندر میں پوجا کرنے گئی تھیں کہ اچانک سوا آٹھ بجے کے قریب ایک ہتھوڑا بردار شخص مندر میں داخل ہوا اور وہاں رکھی ہوئی جوگ مایا مورتی کے سر پر ہتھوڑا مارا جس پر ان کی بیوی نے شور مچایا اور اسے سن کر وہ خود اور محلے کے لوگ مندر میں آئے اور اس شخص کو مورتی پر ہتھوڑا مارتے ہوئے پکڑ لیا۔
مدعی کے مطابق علاقے کی پولیس بھی اس دوران موقع پر آ گئی اور اس شخص کو اپنے تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے اس شخص کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایس ایس پی سٹی مظہر نواز کا کہنا ہے کہ 'علاقہ مکینوں نے مشتبہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا لیکن پولیس موقع پر پہنچ گئی۔'
کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مقامی لوگ عمارتیں توڑنے میں استعمال ہونے والا ایک بڑا ہتھوڑا لے کر تھانے پہنچے جہاں انھوں نے احتجاج بھی کیا اور پولیس کو بتایا کہ وہ یہ ہتھوڑا دینے آئے ہیں، پولیس حکام نے انھیں انصاف کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد وہ منتشر ہو گئے۔
دریں اثنا 25 سالہ اس نوجوان کی بھی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں لوگ اس سے سوال کر رہے ہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’یہ نوجوان بیروزگار ہے اور بظاہر اس کی ذہنی حالت بھی ٹھیک ہے، اس کا کہنا ہے کہ وہ خدا کے مشن پر ہے۔‘
خیال رہے کہ یہ کراچی میں مندر میں تور پھوڑ کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل، گذشتہ برس نومبر میں کراچی کی لی مارکیٹ کے نزدیک سیتل داس کمپاؤنڈ میں قائم مندر میں بھی چند افراد کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
رواں برس جولائی میں صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں مشتعل ہجوم نے بھونگ نامی علاقے میں واقع مندر پر دھاوا بول دیا تھا۔ حملہ آوروں نے مندر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی اور وہاں نصب مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔ اس واقعے پر چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے بھی نوٹس لیا گیا تھا اور 50 کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اسی طرح صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک میں بھی گذشتہ برس دسمبر میں مندر پر حملے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں مشتعل مظاہرین نے ہندوؤں کے مقدس مقام میں ایک سمادھی کی توسیع کے خلاف ہلہ بول کر مندر کی توسیع کو روک دیا تھا اور اس موقع پر مندر کو شدید نقصان بھی پہنچایا تھا۔
پاکستان کے قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین چیلا رام کیولانی کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ تمام اقلیتی برادری میں خوف اور دکھ کا سبب بنا ہے، اس طرح کے واقعات پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک بیان میں چیلا رام نے کہا کہ ’جب تک ملوث افراد کو سزا نہیں ہو گی ایسے واقعات کو روکا نہیں جا سکتا۔‘
مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی کھیل داس کوہستانی نے ایک بیان میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’معلوم نہیں اس شر انگیزی اور مذہبی عبادت گاہ پر حملے سے کیا ملتا ہے، کوئی مذہب اس عمل کی اجازت نہیں دیتا پھر ہمارے ساتھ بار بار ایسا کیوں ہوتا ہے۔'