ڈالر کی خریداری پر حد مقرر کرنے کا اقدام: کیا ڈالر کی ذخیرہ اندوزی و سمگلنگ کو روک پائے گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملک میں کام کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی شخص یومیہ دس ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ اور سالانہ ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کی نقد یا ترسیلات زر کی صورت میں خریداری نہ کرے۔
مرکزی بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری پر ایک خاص حد سے زیادہ خریداری پر پابندی اس وقت لگائی گئی ہے جب ملک میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
روپے کی قدر میں یہ کمی موجودگی سال میں مئی کے مہینے میں شروع ہوئی اور اس میں گراوٹ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت انٹر بینک میں ایک ڈالر کی پاکستانی روپے میں قیمت 178 روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور اوپن مارکیٹ میں اس ایک ڈالر 181 پاکستانی روپوں میں فروخت ہو رہا ہے۔
سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری پر پابندی پر ماہرین اسے امریکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کا اقدام قرار دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے اس کرنسی کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے اور افواہ سازی کی بنیاد پر اس کی قدر میں مزید اضافے کے امکان کی وجہ سے سرمایہ کار اس کی خریداری کر کے اس کی ذخیرہ اندوزی کر سکتے ہیں جس کی روک تھام سٹیٹ بینک چا رہا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ڈالر کی بڑھتی قیمت پر کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا جس کے لیے مرکزی بینک کو درآمدات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے جو ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
سٹیٹ بینک کا اقدام کیا ہے؟
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب جاری کیے جانے والے اعلامیے کے مطابق بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے افراد کو زرمبادلہ کی فروخت کا نظم و نسق چلانے والے ضوابط میں ترمیم کی ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص یومیہ نقد یا بیرونی ترسیلات زر کی شکل میں 10,000 امریکی ڈالر اور کیلنڈر سال میں 100,000 امریکی ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں اس کے مساوی) سے زائد کی خریداری نہیں کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینک کے مطابق خریداری کی یہ حد زرمبادلہ کے لیے فرد کی ذاتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی ہے۔
بینک کے مطابق یہ اقدام ڈالر کی خریداری کو دستاویزی اور اس میں شفافیت بڑھانے اور زرمبادلہ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے اور یہ اقدام سٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے دیگر اقدامات کا تسلسل ہے جس کا مقصد عوام کی حقیقی ضروریات پوری کرنے کے متعلق مارکیٹ کی صلاحیت متاثر کیے بغیر ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے سٹے بازی پر مبنی خریداری اور فروخت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایکسچینج کمپنیاں 1,000 امریکی ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں مساوی) سے زائد کی فروخت پر سپورٹنگ دستاویزات حاصل کریں گی جس سے لین دین کا مقصد کا ظاہر ہو اور یہ کمپنیاں اتھارٹی لیٹرز پرلین دین نہیں کریں گی۔
ہدایات میں مزید زور دیا گیا ہے کہ ایکسچینج کمپنیاں صرف کمپنی کی مجاز آوٹ لیٹس پر لین دین انجام دیں گی اور صارفین کو ڈلیوری کی خدمات فراہم نہیں ہوں گی۔
ڈالر خریداری پر حد مقرر کرنے کا مقصد کیا ہے؟
سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی ایک مقررہ حد سے زیادہ خریداری پر پابندی کے اقدام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے بی بی سی اردو کو بتایا ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ذریعہ بن چکا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ انفرادی طور پر ڈالر کی دھڑا دھڑ خریداری ہو رہی ہے اور اس کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا یہ بات فطری ہے کہ جہاں اچھا نفع مل رہا ہو وہاں سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور اس وقت ڈالر کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔
ظفر پراچہ نے کہا تاہم مرکزی بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں پر سٹے بازی کی بات ناقابل فہم ہے کیونکہ کمپنیوں کے پاس اتنی بڑی تعداد میں ڈالر نہیں ہوتے کہ وہاں سے خریداری کر کے امریکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی کی جائے۔ انھوں نے بتایا کمرشل بینکوں کے پاس ڈالر زیادہ ہوتے ہیں۔
ظفر پراچہ نے بتایا ایکسچینج کمپنیاں انفرادی طور پر ڈالر کی خرید و فروخت کرتی ہیں یعنی وہ کسی فرد سے ڈالر خریدتی اور اسے فروخت کرتی ہیں۔
ڈارسن سکیورٹیز میں معاشی امور کے تجزیہ کار یوسف سعید نے اس سلسلے میں بتایا کہ سٹیٹ بینک کے اقدام کا مقصد ایکسچینج کمپنیوں میں ڈالر کی خرید و فروخت کو دستاویزی صورت اور اس میں زیادہ شفافیت لانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس شعبے میں افواہوں پر کام ہوتا ہے جس کی وجہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو ڈالر میں سرمایہ کاری زیادہ پرکشش نظر آرہی ہے۔
یوسف نے کہا دنیا میں زمین، سونے اور حصص مارکیٹ میں سرمایہ کاری ہوتی ہے تاہم پاکستان میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے سرمایہ کار اس میں بھی پیسے لگاتے ہیں تاہم پاکستان میں انفرادی طور پر فاریکس مارکیٹ میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی ہے۔
ڈالر کی خریداری پر حد لگانے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری پر حد مقرر کرنے اور اس کے اثرات پر بات کرتے ہوئے ظفر پراچہ نے کہا کہ اس اقدام سے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کا سدباب تو ہوگا تاہم اس سے گرے مارکیٹ کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوگا۔
گرے مارکیٹ حوالہ اور ہنڈی کی مارکیٹ ہے کیونکہ جب خریدار ایک حد سے زیادہ ڈالر قانونی چینل سے نہیں خرید پائیں گے تو گرے مارکیٹ کی جانب جائیں گے۔ انھوں نے کہا اس وقت بھی گرے مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں زیادہ ہے۔
یوسف سعید نے بتایا کہ اس اقدام سے ڈالر کی افغانستان کو اسمگلنگ کی روک تھام میں بھی مدد ملے گا جہاں ڈالر کی کمی کی وجہ سے پاکستان سے امریکی کرنسی کی خریداری کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیے
پراچہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے سے پہلے دس سے پندرہ لاکھ امریکی ڈالر یومیہ جا رہے تھے تاہم پھر اس میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا جب ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر افغانستان سمگل ہونا شروع ہوگئے تھے۔
تاہم سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری کے لیے بائیو میٹرک کی شرط لاگو ہونے کے بعد ڈالر کی سمگلنگ میں کمی دیکھنے میں آئی۔ انھوں نے کہا ڈالر کی خریداری پر حد مقرر کرنے سے اس کی سمگلنگ میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
ڈالر کی خریداری پر حد مقرر کرنے سے کیا روپے کی قدر میں بہتری آئے گا؟
سٹیٹ بینک کی جانب سے انفرادی طور پر ڈالر کی خریداری پر ایک خاص حد مقرر کرنے سے روپے کی قدر میں بہتری کے امکان پر بات کرتے ہوئے یوسف سعید نے کہا ملک میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ پاکستان کا بڑھتا ہوا درآمدی بل ہے جو جاری کھاتوں اور توازن میں عدم توازن پیدا کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موجودہ مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں ملک کا درآمدی بل 33 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا جو گذشتہ سال کے اس عرصے میں ساڑھے 19 ارب ڈالر تھا جس میں تقریبا 70 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یوسف نے کہا ڈالر کی خریداری پر حد مقرر کرنے سے ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کا سدّباب تو ممکن ہے تاہم ڈالر کی قدر بڑھنے کی وجہ مکمل طور پر مختلف ہے ۔
انھوں نے کہا آئی ایم ایف سے ڈالر نہ آنے کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی پاکستان میں فارن فنڈنگ نہیں ہو رہی جب کہ درآمدات کی وجہ سے ڈالر بہت زیادہ باہر جا رہے ہیں اور یہ صورت حال ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
انھوں نے کہا سٹیٹ بینک کی جانب سے درآمدی اشیا پر کیش مارجن میں اضافے کے ساتھ حکومت کی جانب سے درآمدی چیزوں پر ٹیکس بڑھانے کے لیے منی بجٹ اسی مقصد کے لیے ہیں کہ امپورٹ بل کو کم کر کے ڈالر پر دباؤ کم کرنا ہے۔
ظفر پراچہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ سٹیٹ بینک کے تازہ ترین اقدام ڈالر کی قیمت پر فوری طور پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔ انھوں نے کہا ڈالر کی قیمت کا تعین انٹر بینک کا ریٹ ہے کرتا ہے جہا ں سے امپورٹ کے لیے ادائیگی ہوتی ہے اور اسی پر اوپن مارکیٹ میں بھی ریٹ میں ردو بدل ہوتا ہے۔













