آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہزاد اشرف: سنگاپوری جہاز کے پاکستانی کپتان جو سمندر میں پھنسے انڈونیشین ماہی گیروں کو بچانے پہنچ گئے
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
آبنائے ملاکا کے بین الاقوامی سمندر میں تین انڈونیشیائی ملاح گذشتہ 12 گھنٹوں سے زائد وقت سے اپنی تباہ حال کشتی کے باقی ماندہ حصوں سے اپنی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں دو سگے بھائی ہیندرا سپہ پوترا اور مصلاہدا کے علاوہ پراسیٹو شامل تھے۔
گیارہ دسمبر کی صبح پانچ بجے جب انڈونیشیا کی سمندری حدود میں ان کی کشتی تباہ ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ انھیں جلد ہی مدد میسر آ جائے گی مگر 12 گھنٹے تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔
اس دوران وہ انڈونیشیا کی سمندری حدود سے کشتی کے باقی ماندہ تختوں کی مدد سے سفر کرتے کرتے انڈونیشیا کی سمندری حدود کے قریب بین الاقوامی سمندر میں پہنچ گئے تھے۔ تختے ان کے کنٹرول میں نہیں تھے، بس سمندر کی لہریں جہاں لے کر جا رہی تھیں، وہ اسی طرف سفر کرنے پر مجبور تھے۔
وہ جوان مگر تجربہ کار ماہی گیر ہیں سو وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑتے رہے۔ کبھی ان کی امید بن جاتی اور کبھی ٹوٹ جاتی تھی۔ اس دوران رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔ یہ تینوں ماہی گیر سمندر اور رات کے اندھیرے کے خطرات اچھی طرح جانتے تھے۔
وہ تینوں امید کا دامن نہیں چھوڑ رہے تھے مگر حقیقت یہ تھی کہ اگر مزید کچھ دیر مدد دستیاب نہ ہوتی تو خطرات بہت زیادہ بڑھ سکتے تھے۔ اس وقت وہ صرف مدد ہی کی امید کر رہے تھے کہ ایسے میں انھیں یک دم ہی روشنی میں چمکتا ہوا لائف بوائے رِنگ نظر آتا ہے۔
ماہی گیروں کی کشتی طوفان کی شکار ہوئی
تینوں ماہی گیروں نے خود کو بچانے والے بحری جہاز کوٹا سنگا پر عملے اور انڈونیشیائی سفارت کار کیپٹن سپنڈی ایم ایم ٹی آر کو اپنی کہانی سنائی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ 10 دسمبر کی رات 11 بجے انڈونیشیا کے ساحلی علاقے سے اپنی کشتی پر نکلے تھے اور ساری رات اپنے کام میں مصروف رہے۔ صبح پانچ بجے کے قریب ان کی کشتی طوفان کی شکار ہو گئی تھی۔ کشتی نے پہلے ہچکولے لیے، پھر منھ زور لہروں کا مقابلہ نہ کر کے ٹوٹ پھوٹ گئی۔
ماہی گیروں کے مطابق کشتی تباہ ہوئی تو ایک لمحے کو خیال آیا کہ یہ طوفان اُنھیں بھی اپنے ساتھ لے جائے گا مگر تینوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دے کر حوصلہ دیا اور کشتی کے تختے قابو کرنے لگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ طوفان کس وقت ختم ہوا، سمندر کتنی دیر تک بپھرا رہا، یہ تو یاد نہیں۔ بس طوفان کے دوران وہ یہ ہی سوچتے رہے کہ وہ بچ پائیں گے کہ نہیں، مگر تھوڑی دیر بعد سمندر پُرسکون ہو گیا تو وہ کشتی کے تختوں پر سمندر کی لہروں پر تیرتے رہے۔
اس موقع پر اُنھوں نے اپنے خاندان والوں کو یاد کیا اور بیتے ہوئے واقعات بیان کرتے ہوئے ایک دوسرے کی ہمت بڑھاتے رہے۔ اُن کا خیال تھا کہ سمندر میں جلد ہی مدد مل جائے گی۔
شروع کے چند گھنٹے تو وہ مدد کا انتظار کرتے رہے، بھوک پیاس ختم ہو چکی تھی۔ بس بات کرتے تو ایک ہی بات کرتے کے چلو ابھی کوئی گزرنے والا جہاز مدد کو آ جائے گا مگر اسی مدد کے انتظار میں صبح سے دوپہر اور دوپہر سے شام ہو گئی۔
شام بڑی تیزی سے رات میں تبدیل ہو رہی تھی۔ اب وہ کچھ گھبرانے لگے تھے اور ساتھ میں سوچ رہے تھے کہ پاس سے کوئی جہاز کیوں نہیں گزر رہا اور کیوں مدد نہیں پہنچ رہی تھی۔ رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ ایسے میں یک دم ہی اُنھیں روشنی نظر آئی۔ یہ روشنی تھی تو لائف بوائے رِنگ کی، مگر یہ اُن کے لیے اُمید کی کرن بھی تھی۔
جب پاکستانی کپتان نے مدد کرنے کا فیصلہ کیا
پاکستان سے تعلق رکھنے والے کیپٹن محمد شہزاد اشرف بین الاقوامی جہاز راں کمپنی پیسفک انٹرنیشنل لائنز سنگاپور کے جہاز کوٹا سنگا کے کپتان ہیں۔ انھوں نے اس سال نومبر میں اپنا سفر نائیجیریا سے شروع کیا تھا اور ان کی منزل سنگاپور تھی۔
یہ 11 دسمبر کی شام کوئی چھ بجے کا وقت تھا۔ وہ بین الاقوامی پانیوں میں آبنائے ملاکا میں سفر کر رہے تھے۔ اس وقت انھیں بین الاقوامی وائرلیس سسٹم کے ذریعے سے پیغام ملا کہ بین الاقوامی سمندر میں انڈونیشیا کی سمندری حدود کے قریب تین افراد کو خطرے میں گھرا دیکھا گیا ہے، انھیں فی الفور مدد کی ضرورت ہے اور جو بھی ان کو مدد فراہم کر سکتا ہے، وہ اس طرف روانہ ہو جائے۔
کیپٹن شہزاد بتاتے ہیں کہ جب یہ پیغام ملا اور ہم نے اپنے مقام اور مدد کے منتظر تین لوگوں کے مقام جس کی نشان دہی کی گئی تھی کا جائزہ لیا، تو اس کے بعد اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ اُنھیں ان کی مدد کرنی چاہیے۔ ’بین الاقوامی سمندری قوانین کے علاوہ انسانیت کے ناطے یہ ہم پر فرض ہے، مگر اس کے لیے مجھے بہرحال روایتی اجازت کی ضرورت تھی۔‘
کیپٹن شہزاد کہتے ہیں کہ ’اس کے بعد سب سے پہلے میں نے اپنی کمپنی کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا، ان کو صورتحال بتائی اور بتایا کہ کوٹا سنگا ان لوگوں کی زندگیاں بچانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ساری صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مجھے اجازت ملی تو میں نے فی الفور ریسیکو آپریشن کا آغاز کر دیا۔‘
خیال رہے کہ ملاح برسوں اپنی زندگیاں سمندر میں گزار دیتے ہیں، مختلف مشکلات سے لڑتے ہیں، مگر کسی بھی ملاح کو سمندر میں کسی کی زندگی بچانے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے کیپٹن محمد شہزاد اشرف یہ موقع کھونا نہیں چاہتے تھے۔
ماہی گیروں کی جان کیسے بچائی گئی؟
شہزاد اشرف کہتے ہیں کہ اُنھوں نے اجازت ملنے کے بعد جہاز کا رخ موڑنے کی ہدایات دیں، اس کے بعد عملے کو تیاریاں کرنے اور تیار رہنے کی ہدایات دیں، جس پر عملے کے کوئی 12 لوگوں نے آپریشن کی تیاریاں کرنی شروع کر دی تھیں۔
پھر اُنھوں نے اپنے جہاز اور عملے کے لیے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا۔ ’جس مقام پر ہم سفر کررہے تھے وہ ایک مصروف روٹ تھا۔ اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ ہم کسی جہاز سے ٹکرا نہ جائیں۔ اسی طرح رات کا اندھیرا بھی گہرا ہوتا جا رہا تھا اور سمندر میں حد نگاہ محدود ہوتی جا رہی تھی۔ یہ سب سے بڑا خطرہ تھا۔‘
’اس بات کا بھی خطرہ تھا کہ ہمارے کسی عملے کو نقصان نہ پہنچ جائے کیونکہ سمندر کا کوئی بھروسہ تو نہیں ہوتا۔ اس طرح دوسرے خطرات کا جائزہ لے کر اپنا منصوبہ بنایا گیا جس کا بہرحال دارومدار صورتحال پر تھا۔‘
کیپٹن شہزاد کے مطابق ’جب ہم جہاز موڑ رہے تھے تو تین اور جہازوں نے بھی یہ پیغام جاری کیا تھا کہ وہ بھی تین ماہی گیروں کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے بھی اپنا رخ اس طرف موڑ دیا تھا مگر ہمارا فاصلہ اس مقام سے کم تھا اس لیے ہم وہاں تک ان سے پہلے پہنچ گئے تھے۔‘
چنانچہ وہ تینوں جہاز کسی ممکنہ خطرے کی صورت میں کیپٹن شہزاد کے جہاز کی مدد کے لیے الرٹ ہو گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی تقریباً سات، ساڑھے سات بجے کے قریب اس مقام پر پہنچے جس کی نشان دہی ہوئی تھی۔ ’ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ اندھیرے کا تھا۔ اگر مزید اندھیرا پھیل جاتا تو ان تینوں کے لیے بھی خطرات بڑھ سکتے تھے۔‘
کیپٹین شہزاد کا کہنا تھا کہ ’ہم نے وہاں جا کر ان کو دو طریقوں سے امداد فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جس میں پہلے مرحلے پر ہم نے سوچا کہ لائف بوائے رِنگ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ 40 میٹر رسی بندھی ہوئی تھی اور ساتھ میں بتیاں بھی لگی ہوئی تھیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت منصوبہ بنایا گیا کہ اگر ماہی گیر اس قابل نہ ہوئے کہ وہ لائف بوائے رِنگ کو پکڑ نہ سکیں اور جہاز کی سیڑھی نہ چڑھ سکے تو ہم لائف بوٹ استعمال کریں گے۔ جب لائٹس کے ساتھ لگی ہوئی لائف بوائے رِنگ سمندر میں پھینکی گئی تو انھوں نے وہ دیکھ کر اس کو پکڑ لیا اور ہم ان کو کھینچ کر جہاز کی سیڑھیوں تک لے آئے۔‘
’ہم نے تقریباً چھ بجے ان کی مدد کا فیصلہ کیا تھا اور تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہم نے تینوں کو مدد فراہم کر کے محفوظ کر دیا جس پر ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، کہ انسانی زندگی بچانے میں ہمارا حصہ بھی شامل ہو گیا تھا۔‘
تباہ ہو چکی کشتی کی باقیات پر 12 گھنٹے سے زائد وقت گزارنے کے باوجود بھی ان تینوں بہادر ملاحوں نے ہمت نہیں ہاری تھی۔
بہادر ماہی گیروں نے موت کو شست دے دی
کیپٹن محمد شہزاد اشرف کا کہنا تھا کہ ’ہمارا خیال تھا کہ اگر انھوں نے لائف بوائے رِنگ پکڑ بھی لیے تو شاید ان کے لیے سیڑھیاں چڑھنا ممکن نہ ہوتا مگر انھوں نے خود ہی سیڑھیاں چڑھ کر زندگی اور موت کی جنگ میں موت کو شکست دے دی تھی۔ ہم لوگ بھی تینوں انڈونیشیائی ماہی گیروں کی ہمت اور بہادری پر حیران و پریشان اور پُرجوش تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تینوں ملاح جہاز پر پہنچ کر وہ بہت خوش تھے اور ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔
’وہ ہمارا شکریہ ادا کر رہے تھے اور ہم ان کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ ان میں دو سگے بھائی اور ان کا ایک ساتھی تھا۔ ظاہر ہے وہ خوفناک حالات کا مقابلہ کر کے آئے تھے سو ہم نے اُن کا طبی معائنہ کیا اور آرام اور خوراک فراہم کی تھی۔‘
کیپٹین شہزاد کا کہنا تھا کہ ’صرف اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ انھوں نے اپنا سفر انڈونیشیا سے شروع کیا تھا اور اب وہ انڈونیشیا کے قریب بین الاقوامی حدود میں تھے۔ ہم نے بین الاقوامی رابطے کر کے اپنا رخ ملائیشیا کی جانب کر لیا جہاں پر کمپنی نے انڈونیشیا کے سفارت خانے سے رابطہ قائم کیا تھا۔‘
انڈونیشیا کے سفارت کار کیپٹن سپنڈی ایم ایم ٹی آر جہاز پر آئے اور ضابطے کی تمام کارروائی مکمل کر کے اپنے شہریوں کو اپنے ساتھ لے گئے اور کیپٹن شہزاد اور اُن کے عملے نے تینوں ماہی گیروں کو جاتے ہوئے ملاحوں کو اُن کی بہادری پر خوب سراہا۔
کوٹا سنگا کے کپتان اور عملے کو خراجِ تحسین
ملائیشیا میں موجود انڈونیشین سفارت خانے کے ٹرانسپورٹ اتاشی کیپٹن سپنڈی ایم ایم ٹی آر نے کوٹا سنگا کے پاکستانی کپتان محمد شہزاد اشرف کو تین انڈونیشین ماہی گیروں کو کھلے سمندر میں مدد فراہم کر کے جان بچانے پر سووینیئر پیش کرنے کے علاوہ اُنھیں اور ان کے عملے کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین کیا۔
کیپٹن سپنڈی ایم ایم ٹی آر کے مطابق تینوں ماہی گیروں نے جان بچائے جانے سے پہلے 12 گھنٹے سے زائد وقت تک انتہائی مشکل حالات کا مقابلہ کیا تھا۔ ان کی کشتی طوفان میں تباہ ہو گئی تھی جب کہ وہ کشتی کے ملبے کا سہارا لے کر جدوجہد کرتے رہے تھے۔
ایسے میں اگر کوٹا سنگا کے کپتان پاکستانی کیپٹن محمد شہزاد اشرف اور ان کا عملہ نہ پہنچتا تو نہ جانے کیا ہو جاتا۔ صرف تین انسانوں کو نہیں بلکہ ان کے ساتھ جڑے کئی لوگوں کو سانحے سے محفوظ رکھا گیا ہے۔
کیپٹین سپنڈی ایم ایم ٹی آر کا کہنا تھا کہ تینوں ماہی گیر ملائیشیا میں انڈونیشیائی سفارت خانے کے پاس محفوظ ہاتھوں میں موجود ہیں، اور اس وقت وہ قرنطینے میں ہیں، قرنطینہ ختم ہونے کے بعد ان کو انڈونیشیا روانہ کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں نے مشکل حالات کا سامنا کیا ہے جس کے اثرات ان پر موجود ہیں، چنانچہ کچھ دن تک انھیں ان کی صحت کی خاطر میڈیا سے دور رکھا جائے گا۔