گوادر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ویڈیو: پیسوں کی تقسیم پر تبصرے لیکن اصل معاملہ ہے کیا؟

گوادر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے چند افراد میں پیسوں کی تقسیم کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی ماضی میں فیض آباد دھرنے کے دوران ایک مذہبی جماعت کے مظاہرین میں پیسوں کی تقسیم کے واقعے سے مماثلت کے ساتھ ہی ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ پیسے کس کو اور کیوں دیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گوادر کو حق دو کے نام سے گذشتہ ایک ماہ سے جاری دھرنے کا اختتام گذشتہ روز ہوا جب دھرنے کے قائد مولانا ہدایت الرحمان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر قدوس بزنجو کے درمیان ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ حکومت کو مظاہرین کے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا۔

لیکن اس کے تھوڑی ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کو چند افراد میں پانچ پانچ ہزار روپے تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا جس پر کافی تنقید ہوئی۔

پیسوں کی تقسیم کی ویڈیو میں ہو کیا رہا ہے؟

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر قدوس بزنجو کی وائرل ویڈیو میں انھیں ایک نارنگی رنگ کی ایک کرسی پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ویڈیو میں سرکاری حکام کے علاوہ گوادر کو حق دو دھرنے کے قائد مولانا ہدایت الرحمان بھی نظر آرہے ہیں۔

اس ویڈیو میں وزیر اعلیٰ کے سامنے چند خواتین ہیں، جن سے میر قدوس بزنجو بلوچی زبان میں بات کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ایک شخص وزیر اعلیٰ کو متوجہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ 'قدوس صاحب سٹوڈنٹس، بلوچستان یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ کے بارے میں۔'

لیکن وزیر اعلیٰ کی مکمل توجہ خواتین کی جانب ہے اور وہ اپنے ایک معاون کو کچھ کہتے ہیں، جس پر وزیر اعلیٰ کا معاون پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ نکال کر انھیں دیتے، جو قدوس بزنجو کے سامنے موجود خواتین میں تقسیم کرتے ہیں۔

بعض کو پانچ پانچ ہزار کا ایک نوٹ جبکہ چند کو پانچ پانچ ہزار روپے کے دو نوٹ دیے جاتے ہیں۔ اس دوران وزیر اعلیٰ سامنے موجود ایک بچے کو بھی پانچ ہزار روپے کا نوٹ دیتے ہیں۔

اس ویڈیو میں وزیر اعلیٰ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ یہ رقم ان کی جانب سے اپنی بہنوں کے لیے ہے، جس پر ایک خاتون ان کا شکریہ ادا کرتی ہیں جبکہ ایک اور خاتون یہ کہتی ہیں کہ وہ پیسوں کے لیے نہیں آئی ہیں۔

ایک خاتون یہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ ایک وزیر اعلیٰ ہم خواتین کے سامنے بیٹھے ہیں۔ ایک اور خاتون جو غالباً گوادر کا حوالہ دیتے ہوئی کہتی ہیں کہ ہمارا ملک برباد ہوگیا ہے اس کو بنا دو۔

سوشل میڈیا پر رد عمل: 'مولانا یہ کیا ہو رہا ہے؟'

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد اس واقعے کو ماضی میں فیض آباد میں ایک مذہبی جماعت تحریک لبیک کے دھرنے کے وقت فوجی حکام کی جانب سے مظاہرین میں پیسوں کی تقسیم کے واقعے سے جوڑا گیا۔

مائی مدرلینڈ کے نام سے ایک صارف نے لکھا کہ 'فیض آباد دھرنا پارٹ ٹو۔ لیکن پیسے دینے والا وردی والا نہیں بلکہ سول آدمی ہے۔ اس دفعہ وردی والے چھپ گئے ہیں شاید۔'

واضح رہے کہ فیض آباد دھرنے میں پیسوں کی تقسیم کی ویڈیو اس وقت سامنے آئی تھی جب دھرنا ختم کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ رقم مظاہرین کو واپسی کے لیے حکومت کی جانب سے دی گئی۔

سوشل میڈیا پر زیادہ تر صارفین نے اس عمل پر افسوس کا اظہار کیا۔

فیصل کھوسو کہتے ہیں 'وہ نہ مہمان ہے اور نہ میزبان۔۔ ان کے پاس وزیر اعلیٰ کا عہدہ ہے ۔یہ دیکھ کرافسوس ہوتا ہے کہ وہ پانچ ہزار میں لوگوں کو خرید رہا ہے۔'

ایک اور صارف عندلیب گچکی نے لکھا کہ لگتا ہے کہ آپ بھیک لینے کے اتنے عادی ہوچکے ہو کہ دینے والے اور لینے والے کا فرق بھول چکے ہو جو کہہ رہے ہیں کہ بھیک نہیں ہے اپنے جیب سے نکال رہا ہے۔

تاہم مکران ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک صارف نے لکھا کہ یہ بھیک نہیں ہے بلکہ اپنی جیب سے کوئی اپنے بچوں اور بزرگوں کو دے تو یہ تحفہ ہوتا ہے۔

ایک صارف عابد میر نے نوٹ بانٹنے کی اس ویڈیو کو ٹیگ کرتے ہوئے صرف اتنا سوال اٹھایا کہ 'مولانا یہ کیا ہورہا ہے؟'

'دھرنا اور احتجاج چند روپوں کے لیے نہیں تھا'

گوادر کو حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان نے اس ویڈیو پر ہونے والی تنقید کے رد عمل میں اس تاثر کو رد کیا ہے کہ دھرنے کے مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کے لیے حکومت سے پیسے لیے۔

انھوں نے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ بلوچستان دھرناگاہ سے نکل رہے تھے تو چند خواتین کو دیکھ کر ان کے پاس چلے گئے، جہاں ان کے لیے ایک کرسی لائی گئی۔ اِن خواتین سے بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ نے انھیں پیسے دیے جو ایک اتفاقیہ واقعہ تھا، جس کا دھرنے سے کوئی تعلق نہیں۔

مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق 'لوگوں کا دھرنا اور احتجاج ان چند روپوں کے لیے نہیں تھا۔' انھوں نے مزید کہا کہ جب لوگوں کو عوام کی کامیاب جدوجہد پر تنقید کے حوالے سے کچھ نہیں ملا تو انھوں نے ایک چھوٹی سے چیز کو ایشو بنادیا۔

مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق 'ہماری جدوجہد لوگوں کے بنیادی حقوق اور مسائل کے لیے تھی لیکن بعض لوگ نان ایشوزکو ایشو بنا کر اس کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں'۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے دھرنے کے مظاہرین کے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے ایک مہینے کی مہلت مانگی گئی ہے۔

'ایک مہینے تک عملدرآمد کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو پھر اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔'