آرمی پبلک سکول پر حملے کے سات سال: ’کیا شہید بچوں کے والدین آپ سے انصاف کی مزید امید لگائیں؟‘

پشاور کے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) میں 16 دسمبر 2014 کو حملہ آوروں نے گھس کر 144 بچوں کو ہلاک کیا جس کے بعد سے ہر سال اس تاریخ کو پاکستانی سوشل میڈیا پر صرف اے پی ایس کا ہی موضوع ٹرینڈ کر رہا ہوتا ہے۔

صارفین اس واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہوتے ہیں یا ان کی بہادری کو سلام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں صارفین اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اس سانحے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

آج بھی وزیر اعظم کی جانب سے صبح ٹویٹ کی گئی کہ پاکستان نے کامیابی سے دہشتگردی کو پچھاڑا اور انھوں نے مزید کہا کہ 'میں اپنا عزم دہراتا ہوں کہ غازیوں اور شہید بچوں کے والدین کو مایوس نہیں کریں گے۔ تشدد اور اسے بطور ہتھیار برتنے والوں کے لیے بالکل کوئی گنجائش نہیں۔'

اسی طرح وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی ٹویٹ کی کہ 'ہم یہ کبھی نہیں بھول سکتے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو۔۔۔'

صحافی اجمل جامی لکھتے ہیں کہ 'آج اس تکلیف دہ سانحہ کی یاد دہانی ہے جو ہماری یاداشتوں میں ہمیشہ کے لیے کندہ ہے۔۔۔۔'

حکومتِ پاکستان کے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی یہ پیغام دیا گیا کہ 'پاکستان اے پی ایس کے حملے کو بطور قومی سانحہ یاد کرتا ہے جس نے پوری قوم کو دہشتگردی کے ناسور کے خلاف متحد کر دیا تھا۔'

اسی طرح کی ٹویٹ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی جانب سے کی گئی جس میں انھوں نے لکھا کہ 'ہم نے سات برس قبل یہ وزنی ترین کفن اٹھائے تھے اور دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں ہے جس نے اتنی بڑی قربانی دی اور ہم یہ کبھی بھی نہیں بھول سکتے۔'

لیکن جہاں ایک جانب دعائیہ کلمات اور پیغامات کی بھرمار ہے، وہیں کئی ایسے صارفین ہیں جو حکومتی بیانیے پر تنقید کرتے نظر آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صارف ولید طارق نے عمران خان کی ٹویٹ کے جواب میں کہا کہ 'کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ تحریک طالبان سے بات نہیں کریں گے؟ آپ تو اسلام آباد میں اس وقت دھرنا دیے ہوئے تھے جب یہ اس صوبے میں ہوا تھا جہاں آپ کی حکومت تھی۔'

ایک اور صارف عطا الرحمان نے بھی اسی بات کو دہراتے ہوئے لکھا کہ 'پچھلے آٹھ سال سے صوبے میں آپ ہی کی حکومت اور تین سال سے آپ وزیراعظم ہیں، کیا شہید بچوں کے والدین آپ سے انصاف کی مزید امید لگائیں؟'

مصنفہ مہر حسین نے شیریں مزاری کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ 'اس سے زیادہ کھوکھلا پیغام نہیں ہو سکتا۔ ان قاتلوں کو جیل ہونی چاہیے تھی، نہ کہ ان سے دوستی اور معافی کی پیشکش۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں۔'

ایک اور صارف نے پاکستانی طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ 'کبھی نہ بھولنے کا مطلب کیا ہے؟ صرف لفاظی ہی ہے یا کوئی سبق بھی سیکھا ہے؟ ہم نے احسان اللہ احسان کو جانے دیا، ٹی ایل پی پر سے پابندی ختم کر دی، اے پی ایس کے قاتلوں اور ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیے۔۔۔ تو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دوبارہ نہیں ہوگا'۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کی دس تاریخ کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو آرمی پبلک سکول پر حملے کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا تھا۔

اس سماعت میں ملک کے وزیر اعظم عمران خان خود پیش ہوئے تھے اور انھوں نے کہا تھا 'کوئی بھی مقدس گائے نہیں اور عدالتی حکم پر کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی ہوگی۔'

آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے تشکیل پانے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کو 'سکیورٹی کی ناکامی' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس واقعے نے ملک کے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اس سماعت کے دوران وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ذمہ داری کے حوالے سے سوال پر کہا تھا کہ وفاق میں ان کی حکومت نہیں تھی اور صوبائی حکومت صرف لواحقین کو معاوضہ دے سکتی تھی جو کہ خیبرپختون خوا نے دیا تھا۔