احسن اقبال اور دیگر لیگی رہنماؤں کی گرین لائن پراجیکٹ کا افتتاح کرنے کی کوشش، رینجرز سے مڈبھیڑ

،تصویر کا ذریعہSocial Media
پاکستان میں مختلف حکومتوں کی جانب سے ایک ہی منصوبے کا دوبارہ افتتاح کرنا اور اسے 'اپنا' پراجیکٹ قرار دینا کوئی نئی بات نہیں۔
تاہم اب کراچی میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ پیش آیا ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما گرین لائن بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح کرنے پہنچ گئے جس کا وزیرِ اعظم عمران خان نے جمعے کو باقاعدہ افتتاح کرنا ہے۔
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے گرین لائن بی آر ٹی منصوبے کا اعلان سنہ 2014 میں کیا تھا۔
تب سے اب تک پاکستان میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ اب پاکستان تحریکِ انصاف کے دور میں فعال ہونے جا رہا ہے۔
مگر جمعرات کو مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال، سابق وزیرِ خزانہ اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر اس منصوبے کا افتتاح کرنے کے لیے پراجیکٹ کے ناظم آباد نمبر 7 میں واقع سٹیشن پہنچ گئے۔
پھر کیا ہوا؟
اس واقعے کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی کوشش تھی کہ وہ اس منصوبے کا علامتی طور پر افتتاح کر لیں۔
نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کے نامہ نگار انجم وہاب نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم لیگ ن والے ایک روز قبل ہی اپنے اس منصوبے کا اعلان کر چکے تھے اور جمعے کو وزیرِ اعظم نے بھی یہاں پر آنا ہے۔
غالباً اس لیے سکیورٹی حکام پہلے ہی چوکس تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انجم وہاب نے بتایا کہ اس سے کچھ دیر قبل ہی وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر اور گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی نمائش چورنگی سے گرین لائن کی آزمائشی بس میں سفر کرتے ہوئے حیدری سٹاپ پر پہنچے تھے۔
اس کے بعد دوپہر کو احسن اقبال، محمد زبیر اور مفتاح اسماعیل کی قیادت میں بیسیوں مسلم لیگی کارکن نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے رہنماؤں کی قیادت میں میٹرو بس سٹیشن تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے مگر سکیورٹی اہلکار اس صورتحال کے لیے تقریباً تیار ہی تھے۔
اب مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے وہ صرف ایک علامتی رِبن کاٹنا چاہتے تھے اور اُن کا سٹیشن میں داخلے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
لیکن ویڈیوز میں ان کارکنوں کو سٹیشن کی سیڑھیوں کے دہانے پر بھی دیکھا جا سکتا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
جب سیاسی کارکنوں کو پیچھے دھکیلا جا رہا تھا تو مبینہ طور پر ڈنڈا بردار رینجرز اہلکاروں کے ڈنڈے لگنے سے احسن اقبال کی انگلیوں پر بھی زخم آئے۔
بعد کی ویڈیوز میں احسن اقبال اور رینجرز اہلکاروں کو الجھتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انگلیوں پر آئے زخم بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں دکھاتے ہوئے احسن اقبال نے فخر سے کہا کہ کراچی کی ترقی اور گرین لائن کے افتتاح میں اُن کا ’خون بھی شامل ہو گیا ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہDunya News
احسن اقبال خود پر ہونے والے 'ریاستی تشدد' کے خلاف بول چکے تو محمد زبیر نے وزیرِ اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس پراجیکٹ کا وہ افتتاح کرنا چاہتے تھے، وہ تو ہو چکا، اب اُن کو آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
واقعے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہییں۔
اور پھر مفتاح اسماعیل نے جہاں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر پراجیکٹ کے لیے کوئی فنڈز نہ دینے کا الزام عائد کیا تو وہیں پاکستان تحریک انصاف کو '125 ارب' روپوں میں پشاور بی آر ٹی مکمل کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے فوراً ہی سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ’تھینک یو نواز شریف‘ ٹرینڈ کرتا رہا جس میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان جمعرات کو ہونے والے واقعے پر پی ٹی آئی کو موردِ الزام ٹھہراتے رہے۔
مگر پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ساتھ ایک علیحدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ دور میں صرف ٹریک کی تیاری سے آگے کچھ نہیں ہوا جبکہ بسوں کی خریداری سے لے کر پراجیکٹ کے فعال ہونے تک تمام آپریشنز پی ٹی آئی دور میں مکمل ہوئے۔
سوشل میڈیا صارفین کا ردِ عمل
اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا جس میں دونوں ہی جماعتوں کے حامی ایک دوسرے کے خلاف تنقید کرتے نظر آئے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’سینیئر سیاست دان احسن اقبال کو توجہ حاصل کرنے والے ’سٹنٹس‘ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ایک اور صارف فیضان خان نے لکھا کہ یہ تصویر بتاتی ہے کہ ہماری ترقی کیسے روکی گئی اور ایک شخص کو انچارج بنانے کے لیے ترقی کرتے پاکستان کو کیسے روکا گیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
تاہم کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے اس صورتحال کو بھی ایک مزاحیہ پیرائے میں بیان کیا۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار بھی اگست 2016 میں رینجرز کے ساتھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں۔ غالباً اسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسد نامی صارف نے لکھا کہ ’فاروق بھائی آج احسن اقبال کے ساتھ ہونے والے واقعے کو دیکھ کر سوچ رہے ہوں گے جب میں ان کو بتاتا رہا کہ یہ حل نہیں تو انھوں نے مانا نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter











