ہزارہ ایکسپریس وے: عمران خان کے افتتاح سے قبل نواز شریف کو ’خراج تحسین پیش کرتے‘ بینرز کہاں سے آئے؟

بینر
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

ہزارہ ایکسپریس وے کے افتتاح سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے جماعت کے قائد میاں نواز شریف کو ’خراج تحسین پیش کرنے والے‘ بینرز اور بورڈز کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ان بورڈز پر ’ہزارہ کے عوام کو موٹروے کا تحفہ دیا، شکریہ نواز شریف تیرا شکریہ‘ کے الفاظ درج تھے اور ساتھ ہی سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی تصاویر بھی موجود تھیں۔

اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی مرتضیٰ عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بینرز اور بورڈز پارٹی کارکنوں نے رات کی تاریکی میں چھپ کر نہیں بلکہ دن کی روشنی میں لگائے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد کے دفتر کے مطابق ان بینرز کو لگانے کے حوالے سے باقاعدہ اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اس بارے میں مرتضیٰ عباسی کا کہنا تھا کہ ’یہ بینرز اور بورڈز اُن مختص کردہ جگہوں پر لگائے گئے تھے جو ڈسٹرکٹ کونسل اور شہری حکومتوں نے نجی کمپنیوں اور مختلف افراد کو ٹھیکے پر دے رکھے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’یہاں رقم ادا کر کے کوئی بھی اپنے اشتہارات لگوا سکتا ہے، اس وجہ سے انتظامیہ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

بینر

مرتضیٰ عباسی نے دعوی کیا کہ جب میاں نواز شریف اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ رہے تھے تو عمران خان نے ایبٹ آباد کے گورنر ہاوس میں بیٹھ کر اس کی مخالفت کی تھی۔

اس تنازعے کے حوالے سے جب کمشنر ہزارہ ظہیر السلام سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے بینرز اور بورڈز کے بارے میں نہیں پتا، کس نے اتارے اور کیا ہوا مجھے نہیں معلوم، یہ سیاسی باتیں ہیں۔‘

تاہم ڈسڑکٹ کونسل ایبٹ آباد اور تحصیل میونسپل کمیٹی ایبٹ آباد کے ذرائع کے مطابق نجی بورڈز کے حوالے سے اجازت دیتے وقت واضح طور پر یہ شرط عائد کی جاتی ہے کہ ان بورڈز پر انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کسی قسم کے سیاسی اشتہارات نہیں لگائے جائیں گے۔

اس میں یہ شرط بھی ہوتی ہے کہ ان بورڈز کو حکومت مخالف اشتہارات، مذہبی منافرت وغیرہ کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بورڈ پر اشتہار نصب کرنے سے پہلے شرائط پر دستخط کیے جاتے ہیں جس کے بعد حتمی اجازت دی جاتی ہے۔

لائن

ہزارہ ایکسپریس وے کی تعمیر پر خوشی بھی، خدشات بھی

وزیرِ اعظم عمران خان پیر کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت پنجاب کے علاقے حسن ابدال سے لے کر تھاکوٹ تک 180 کلومیٹر زیرِ تعمیر ہزارہ ایکسپریس وے (ایم-15) کا افتتاح کریں گے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کے کمشنر سید ظہیر السلام نے بی بی سی کو کہ بتایا کہ پیر کو شاہ مقصود سے مانسہرہ تک بننے والی روڈ کا افتتاح کیا جائے گا۔

اس سڑک کے بننے سے اسلام آباد، راولپنڈی سے وادی کاغان کا سفر صرف چار سے پانچ گھنٹے کا رہ جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل حسن ابدال سے شاہ مقصود، ہری پور تک روڈ گذشتہ سال عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔

سید ظہیر السلام کے مطابق مانسہرہ تک روڈ کے افتتاح سے عوام کو ٹریفک جام سے نجات حاصل ہو گی جبکہ علاقے کے اندر سیاحت میں بھی اضافہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ہزارہ ایکسپریس وے، سی پیک، پاک چین اقتصادی راہداری
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق اس ایکسپریس وے کی تعمیر سے حسن ابدال اور ہزارہ ڈویژن کی آبادی کو فائدہ ہوگا جبکہ سفر کے اوقات میں کمی ہوجائے گی، مگر اس بات سے سب متفق نظر نہیں آتے

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترجمان محمد مصطفیٰ کے مطابق اس کی تعمیر کا تخمینہ تقریباً 137 ارب روپے ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس کا مانسہرہ سے تھاکوٹ جانے والا دوسرا حصہ فروری 2020 میں مکمل کر لیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے ماہرین کی مشترکہ کاوشوں سے تیار ہونے والی اس سڑک میں دو جدید ترین ٹنل، نو فلائی اوور اور 47 پل تعمیر کیے گئے ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ یہ دنیا کا خوبصورت ترین ایکسپریس وے ہو گا جس کے اردگرد کی خوبصورتی دیکھ کر لوگ بار بار یہاں سفر کرنے کی خواہش کریں گے۔

پاکستان اور چین کے تعلقات پر نظر رکھنے والے صحافی زبیر ایوب کے مطابق شمالی علاقہ جات میں شاہراہ قراقرم اپنی تعمیر سے بھی سالوں پہلے ہی سے سلک روٹ یا بین الاقوامی روٹ تھا، جو اس خطے میں چین کے ساتھ سیاسی، سماجی، کاروباری اور دیگر رابطوں کا بڑا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

1960 اور 1970 کی دہائی میں چین اور پاکستان نے مل کر شاہراہ قراقرم بنائی، جسے چین نے اپنی کاروباری نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا۔

ان کے مطابق اب بھی چین نئے ہزارہ ایکسپریس وے کو اپنے کاروباری مقاصد اور رابطوں کے لیے استعمال کرے گا۔

ہزارہ ایکسپریس وے، سی پیک، پاک چین اقتصادی راہداری
،تصویر کا کیپشنکارکن ہزارہ ایکسپریس وے پر کام میں مصروف

پاکستان کے ساتھ ملحق چین کے جنوب میں واقع مسلمان اکثریتی صوبوں میں چین نئے صنعتی شہر تعمیر کر رہا ہے۔ اسی طرح ان علاقوں سے اگر مصنوعات کو دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے چین کی بندرگاہ تک پہنچائی جائیں تو کوئی چار ہزار کلومیٹر سے زائد راستہ بنتا ہے جبکہ پاکستان کے راستے گوادر پورٹ تک صرف 2300 کلومیٹر راستہ بنتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ روٹ چین کے لیے کتنا فائدہ مند ہے۔

’معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی توقع‘

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترجمان محمد مصطفیٰ کے مطابق ہزارہ ایکسپریس وے کا منصوبہ سی پیک منصوبوں میں ایک اہم ترین منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کی مرکزی شاہراہ ہو گی جس پر بین الاقوامی ٹریفک سفر کرے گی۔

آغاز ہی سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس پر روزانہ 10 ہزار گاڑیاں سفر کریں گی جبکہ سال 2020 میں توقع ہے کہ اس پر روزانہ 28 ہزار گاڑیاں سفر کریں گی۔ اس منصوبے کی بدولت مختلف مد میں 38 ارب روپیہ کی سالانہ بچت ہو سکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا براہ راست فائدہ ہزارہ ڈویژن اور پنجاب میں موجود حسن ابدال کی 70 لاکھ آبادی کو نئے روزگار اور معاشی سرگرمیاں زیادہ ہونے کی صورت میں ہو گا، بلکہ اس سے اسلام آباد سے مانسہرہ کا سفر کم ہو کر دو سے ڈھائی گھنٹے تک رہ جائے گا، جبکہ اسلام آباد سے وادی کاغان جانے کا راستہ بھی کم ہو کر چار سے پانچ گھنٹے تک ہو گا۔

’سہولت، مگر سب کے لیے نہیں‘

صحافی زبیر ایوب کے مطابق حویلیاں کے قریب ایک صنعتی ایریا تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے ٹرانسپورٹ، سیاحت اور اشیا کی خرید و فروخت کے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

تاہم ایبٹ آباد کے تاجر اس بات سے مکمل طور پر متفق نہیں ہیں۔

مقامی تاجر رہنما اور کاروباری شخصیت محمد اشفاق کا کہنا تھا کہ سی پیک اور ہزارہ ایکسپریس وے کی تعمیر اور اس کی افادیت پر تو کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اس کی تعمیر سے ہری پور، ایبٹ آباد اور مقامی علاقوں کی کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد ایک گرمائی علاقہ ہے۔ یہاں پر مقامی کاروباری افراد کو اس وقت کاروبار ملتا ہے جب سیاح اور سیزن کے دوران رہائش اختیار کرنے والے لوگ آتے ہیں اور پھر دوسرے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ مگر ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران تو اس کا خیال ہی نہیں رکھا گیا ہے۔

ایبٹ آباد شہر کے لیے کوئی بھی مناسب انٹرچینج نہیں ہے، جس سے مقامی کاروباری افراد کو سخت نقصان کا اندیشہ ہے۔

ہزارہ ڈویژن کی مقامی آبادیوں نے ایکسپریس وے کے کھلنے پرخوشی کا اظہار کیا ہے۔ روزانہ حویلیاں سے ایبٹ آباد سفر کرنے والی استانی انیلہ بی بی کا کہنا تھا کہ کہنے کو تو ڈیوٹی اوقات آٹھ بجے شروع ہوتے ہیں اور دو بجے چھٹی ہوتی ہے، مگر ٹریفک اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ صبح ہمیں سکول وقت پر پہنچنے کے لیے چھ بجے گھر سے نکلنا پڑتا ہے اور چھٹی کے بعد کہیں چار، پانچ بجے گھر پہنچتے ہیں۔

ہزارہ ایکسپریس وے، سی پیک، پاک چین اقتصادی راہداری

،تصویر کا ذریعہGoogle

،تصویر کا کیپشنحسن ابدال سے شاہ مقصود تک ہزارہ ایکسپریس وے پہلے مکمل کر لیا گیا تھا جبکہ شاہ مقصود سے مانسہرہ تک کی سڑک کا آج افتتاح کیا جا رہا ہے

انھوں نے امید ظاہر کی کہ ایکسپریس وے کھلنے کے بعد ٹریفک کا بہاؤ کم ہو گا اور ہماری بھی زندگی کسی معمول کے مطابق چل سکے گی۔

کاغان ناران ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر سیٹھ مطیع الرحمٰن نے ایکسپریس وے کی تعمیر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایبٹ آباد، مانسہرہ شہر میں ٹریفک کے رش اور بلاک ہونے کی وجہ سے اسلام آباد سے آٹھ سے 10 گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا تھا مگر اب یہ سیاح سہولت کے ساتھ مانسہرہ دو سے ڈھائی گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں اور مانسہرہ سے ڈھائی سے تین گھنٹے میں ناران تک پہنچ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی سیاحوں نے تو کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام میں پھنسے رہنے کی وجہ سے دوبارہ رخ کرنے سے بھی توبہ کر لی تھی اور روڈ کی یہ سہولت ہونے کے بعد امید ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیاح علاقے کا رخ کریں گے جس سے مقامی روزگار اور ترقی میں اضافہ ہو گا۔