پریا نتھا دیاودھنہ: سیالکوٹ واقعے میں ہلاک ہونے والے سری لنکن شہری کی میت کس انداز میں واپس بھیجی گئی؟َ

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

’ہم سب یہاں وزیر اعظم کی ہدایات پر موجود ہیں اور ان کے تابوت کو کفن میں لپیٹ کر بھیجا جا رہا ہے تاہم کسی اور اعزاز کا اعلان اگر کرنا ہوا تو وہ وزیر اعظم خود کریں گے۔‘

یہ کہنا تھا وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی کا جو توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے سری لنکن شہری کی میت کو سری لنکا روانہ کرنے کے موقعے پر لاہور ایئرپورٹ موجود تھے۔

لاہور ایئرپورٹ پر پریا نتھا دیاودھنہ کی میت کو واپس بھیجنے کے وقت ان کے تابوت کو سفید چادر میں لپیٹا گیا تھا جبکہ اس پر پیلے اور سفید رنگ کے پھول رکھے گئے تھے۔

یاد رہے کہ سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں بطور مینیجر کام کرتے تھے اور انھیں تین دسمبر کو ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔

گذشتہ شب سوشل میڈیا پر سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کے تابوت کی ایک تصویر وائرل ہوئی۔ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ لکڑی کا ایک تابوت زمین پر رکھا گیا اور اس پر لکھا تھا کہ 'سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کی انسانی باقیات۔'

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کے بارے میں بات کرتے ہوئے طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ’یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ہم نے ایسے ہی تابوت میں انھیں روانہ کر دیا ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ تصویر اس وقت لی گئی جب ائیر پورٹ پر ان کے تابوت کو کفن میں لپیٹا جا رہا تھا۔‘

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کی میت کے تابوت کی تصویر پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ اس بہیمانہ قتل کے واقعے کی بعد کیا پاکستان سری لنکن شہری کو اس انداز میں ان کے ملک روانہ کرے گا۔

جبکہ کئی لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ اس ظلمانہ واقعے کے بعد پریانتھا کو کم از کم عزت و احترام کے ساتھ سرکاری اعزاز کے ساتھ رخصت کیا جائے تاکہ ان کے اہل خانہ کو ہم یہ بتا سکیں کہ ہم بحیثیت قوم شرمندہ ہیں۔

سری لنکن شہری کی میت کس انداز میں واپس بھیجی گئی؟

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تابوت کی تصویر کی حقیقت کیا ہے اور مقتول سری لنکن شہری کی میت کو کس انداز میں ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔

اس بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے اعلیٰ عہدے دار کا کہنا تھا کہ سری لنکن شہری کا پوست مارٹم سیالکوٹ میں ہی کیا گیا جس کے بعد ان کے جسم کی باقیاب کو تابوت میں ڈال کر مردہ خانے میں رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سرد خانے میں میت کی شناخت کے لیے اس پر نام لکھا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ تصویر میں نظر آنے والے تابوت کو اتوار کی رات لاہور ائیرپورٹ پر لایا گیا اور غالبا وہاں ہی یہ تصویر ائیرپورٹ عملے نے اتاری۔ انھوں نے مزيد بتایا کہ 'سری لنکن شہری کی میت کے تابوت کو تبدیل نہیں کیا گیا جبکہ اسے ایک سفید چادر یعنی کفن میں لپیٹا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'ہمارا ارادہ تھا کہ ہم اسے سری لنکن جھنڈے میں لپیٹ کر بھیجیں لیکن سری لنکن سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے ہاں اس طرح نہیں ہوتا اس لیے آپ سفید چادر میں لپیٹ دیں۔'

انھوں نے سری لنکن شہر کی میت کے تابوت کو عزت و احترام سے بھجوائے جانے کے متعلق مزید بتایا کہ 'ہم نے میت کی عزت تکریم کے لیے یہ اجازت بھی مانگی کہ کیا ہم تابوت پر گلاب کی پتیاں ڈال سکتے ہیں تو سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا کہ لال گلاب مت ڈالیے گا کیونکہ وہ ہمارے ہاں شادیوں پر استعمال کیے جاتے ہیں، آپ پیلے رنگ کے پھول ڈال سکتے ہیں۔ جس کے بعد ہم نے اسی انداز میں سب کچھ کیا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ سری لنکن شہری کی میت کے تابوت کو سری سے آنے والی پرواز پر ہی بذریعہ کارگو بھیجا جائے گا جو سوموار کو پاکستان سے دن کے ساڑھے بارہ بجے اڑان بھرے گی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ میں خود ائیرپورٹ پر موجود ہوں اور میرے ساتھ وزیر برائے اقلیتی امور اعجاز مسیح بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کی میت کو اعزاز کے ساتھ روانہ کرنے کے لیے وزارت داخلہ کے افسران اور ڈپلومیٹ بھی یہاں آئے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ 'سری لنکن سفارتخانے کا عملہ بھی میرے ساتھ موجود ہے اور انھوں نے اس واقعے پر ہمیں یہی کہا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور جس طرح پاکستان کی عوام اور حکومت نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا وہ ہمارے لیے تسلی کا باعث ہے اور اہم امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے وعدے کے مطابق اس واقعے میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کریں گے۔'

طاہر اشرفی نے مزید بتایا کہ سری لنکا میں پاکستانی سفارتخانہ پریا نتھا دیاودھنہ کے اہل خانہ سے بھی رابطے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا پر ردعمل

سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کے تابوت کی تصویر شئیر کرتے ہوئے صارف طاہر عمران نے لکھا کہ یہ ریاست کی ستر سالہ پالیسوں کا جنازہ ہے۔

جبکہ ندرت خواجہ نے لکھا کہ آئندہ جب بھی میں کسی پیڈ بلاگر کو پاکستان کی مہمان نوازی اور سیاحت کی تعریف کرتے ہوئے دیکھوں گی تو میں جواب میں اس تصویر کو شیئر کروں گی۔

صحافی و اینکر اجمل جامی نے تصوير کو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ 'وہ اسے کیسے وصول کریں گے ۔۔۔ ہم ٓآپ سے معافی چاہتے ہیں۔'

صحافی و اینکرپرسن غریدہ فاروقی نے لکھا کہ 'شرمناک ہو گا اگر پاکستان اس طرح سے پریانتھا کمارا کی میت کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کر رہا ہے۔ اس بےچارے کی جان کی حفاظت نہیں کر سکے، عزت کی موت چھین لی، اب کم از کم میت کو تو احترام سے روانہ کر سکیں۔ کچھ تو انسانیت باقی رہنے دیں اس دھرتی کی۔‘

ٹوئٹر صارف عمران بیگ نے لکھا کہ ایک ریاست دوسری ریاست کو ایک میت بھیج رہی ہے۔ افسوس، تابوت کا معیار بھی ریاستی اداروں کے معیار کے عین مطابق ہے۔ تابوت بہترین پولش شدہ لکڑی کے، اور سیل بند ہوتے ہیں۔ چہرے کی جگہ پر شیشہ نصب ہوتا ہے۔ اوپر کمپیوٹرائزڈ لکھائی میں کوائف درج ہوتے ہیں۔