آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ’انتہائی قابل اعتراض‘ پوسٹ کرنے پر گریڈ 21 کے افسر کے خلاف انکوائری کا حکم
حکومت کے خلاف تنقیدی پوسٹ کرنے کے الزام میں وفاقی حکومت نے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سربراہ ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں گریڈ 21 کے سرکاری افسر حماد شمیمی کے خلاف انکوائری شروع کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق مذکورہ افسر نے گورنمنٹ سرونٹس رولز کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ’انتہائی قابل اعتراض‘ مواد پوسٹ کیا جو کہ سرکاری ملازمین کے لیے بنائے گئے قواعد و ضوابط کے تحت ’مس کنڈکٹ‘ کے زمرے میں آتا ہے۔
نوٹیفیکشین کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بطور مجاز اتھارٹی ایف آئی اے کے سربراہ ثنا اللہ عباسی کو اس کیس میں انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔ انکوائری افسر کو 60 دن میں انکوائری مکمل کرنے اور آئندہ سات روز میں ابتدائی رپورٹ جمع کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
نوٹیفیکشن کے مطابق کیبنٹ ڈویژن میں بطور سینیئر جوائنٹ سیکریٹری تعینات حماد شمیمی نے رواں برس 25 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ’انتہائی قابل اعتراض‘ مواد شائع کیا تھا جس میں انھوں نے لکھا تھا: ’پی ٹی آئی اور طالبان میں ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ دونوں حکومت ملنے کے بعد سوچ رہے ہیں کہ اسے چلانا کیسے ہے؟ اور دونوں کی امیدوں کا مرکز بھی آبپارہ ہی ہے۔‘
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق یہ پوسٹ سرکاری افسران کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی پالیسی کے قواعد کے منافی ہے۔
یاد رہے کہ بطور سرکاری ملازم سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے چند حکومتی قواعد و ضوابط ہیں جن کی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت محکمانہ کارروائی کا آغاز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس اعلامیے کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے تبصرے شروع ہو گئے ہیں۔
صارف مختار لکھتے ہیں کہ ’اس طرح کی بات اگر کوئی سرکاری افسر سوشل میڈیا پر کسی اپوزیشن کی جماعت یا رہنما کے بارے میں کرے تو کیا اُس کے خلاف بھی کاروائی ہو گی؟
ایک صارف شیری نے ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’حالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔‘