’نواز شریف کی سزا کے لیے دباؤ‘ سے متعلق آڈیو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جعلی قرار دے دی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق سربراہ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے خود سے منسوب اس آڈیو کو جعلسازی کا نتیجہ قرار دیا ہے جس میں گفتگو کے دوران ملک کے سابق وزیراعظم ’نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سنائی جانے والی سزاؤں کے لیے دباؤ ڈالنے‘ کی بات کی گئی ہے۔

ثاقب نثار نے بی بی سی اردو کے اعظم خان سے بات کرتے ہوئے اس آڈیو کو جعلی قرار دیا اور کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ آڈیو مختلف کلپ جوڑ کر بنائی گئی ہو۔

فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر اتوار کو شائع کی جانے والی آڈیو میں دو افراد کی گفتگو سنی جا سکتی ہے۔ دونوں ہی افراد اس گفتگو کے دوران اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے تاہم ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک آواز سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہے۔

اس گفتگو کے دوران مبینہ طور پر انھیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ عدلیہ کو نواز شریف کو سزا دینے کے لیے کہا گیا ہے۔

آڈیو میں سابق چیف جسٹس سے منسوب آواز کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں لگی لپٹی رکھے بغیر کہوں گا ہمارے ہاں فیصلے ادارے دیتے ہیں۔۔۔اس میں میاں صاحب کو سزا دینی ہے اور کہا گیا ہے کہ جی ہم نے خان صاحب کو لانا ہے۔‘

گفتگو میں شریک دوسرے فرد سے یہ بھی کہا جاتا ہے ’کہا ہے جی، اب کرنا پڑے گا۔‘

مریم نواز کو سزا دینے کے معاملے پر جب گفتگو میں شامل دوسرا فرد کہتا ہے کہ ’میرے خیال میں بیٹی کو سزا دینی بنتی نہیں ہے‘ تو اس پر مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس کہتے ہیں کہ ’آپ بالکل جائز ہیں۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اس پر کچھ کیا جائے، دوستوں نے اتفاق نہیں کیا۔‘

بی بی سی اردو نے جب اس آڈیو پر ردعمل لینے کے لیے ثاقب نثار سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ آڈیو جعلسازی کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سب فیبریکیٹڈ ہے۔ میں نے ایسی کوئی کسی سے بات نہیں کی ہے۔‘

اس سوال پر کہ آڈیو میں آواز ان کی ہے ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’پتا نہیں جی کسی اور کی ہے یا میری کہیں سے توڑ جوڑ کر اکھٹی کی ہوئی ہے میں نہیں کہہ سکتا لیکن یہ میں نے کبھی کسی سے (یہ بات) نہیں کی۔‘

اس سوال پر کہ جن فیصلوں سے متعلق یہ بات ہو رہی ہے کیا ان کے خیال میں وہ فیصلے میرٹ پر ہوئے تھے، سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا ’بھئی فیصلے تو ججز میرٹ پر کرتے ہیں۔ میں نے کسی کو کبھی کوئی حکم ہی نہیں دیا تو میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا۔‘

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت نے جولائی 2018 میں نواز شریف کو کل 11 برس قید بامشقت، ان کی بیٹی مریم نواز کو آٹھ برس قید جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی جبکہ نواز شریف کو 80 لاکھ جبکہ مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔

اس وقت نواز شریف لندن میں موجود ہیں اور انھیں عدالت نے مفرور قرار دیا ہوا ہے جبکہ مریم نواز کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ہی گلگلت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم احمد خان کا ایک بیانِ حلفی بھی سامنے آیا تھا، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے جسٹس (ر) ثاقب نثار کو یہ کہتے سنا تھا کہ ’ہائی کورٹ کے اس جج کو میرا پیغام دے دیں کہ سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر ضمانت پر رہائی نہیں ملنی چاہیے۔‘

ثاقب نثار کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس بیانِ حلفی کے بارے میں خبر شائع کرنے پر صحافی انصار عباسی، جنگ اور جیو گروپ کی انتظامیہ اور رانا شمیم کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔