اینٹی ریپ بل: ’اسلامی نظریاتی کونسل کے اعتراضات کے بعد کیسٹریشن کی سزا ختم‘

    • مصنف, زبیر اعظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

تحریکِ انصاف کی حکومت نے ریپ کے مجرمان کے لیے تجویز کردہ کیسٹریشن (نامرد بنانے کا عمل) کی سزا کو ریپ کی سزاؤں کے بارے میں پاکستانی پارلیمان میں ہونے والی قانون سازی میں شامل نہیں کیا ہے۔

حکومت نے مجرموں کے لیے اس سزا کا اطلاق ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گذشتہ سال دسمبر سے کیا تھا تاہم اس پر اعتراضات سامنے آتے رہے تھے۔

گذشتہ ماہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس سزا کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے منظور کرائے جانے والے قوانین کی لمبی فہرست میں ایک اہم بل جنسی زیادتی کے جرائم کی بیخ کنی کے لیے منظور ہونے والا وہ بل بھی تھا جس کے تحت ریپ کیسز کے عادی مجرمان کے لیے کیمیائی طریقے سے کیسٹریشن (نامرد بنانے کا عمل) کی سزا کی تجویز کی منظوری متوقع تھی۔

لیکن تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملیکہ بخاری کے مطابق حکومت کی جانب سے پاس کردہ بل سے کیسٹریشن کی سزا کو ایک ترمیم کے ذریعے نکال دیا گیا ہے۔

بی بی سی کو موصول اس ترمیم کے مسودے کے مطابق حکومت نے مجوزہ قانون میں سے شق نمبر پانچ جس کے تحت کیسٹریشن کی سزا کی بات کی گئی تھی اس کو نکال دیا ہے۔

کیسٹریشن کی سزا کی تجویز کہاں سے آئی تھی؟

واضح رہے کہ ریپ کیسز کے مجرمان کے لیے کیسٹریشن کیسزا کی تجویز سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ سال ستمبر میں ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے نزدیک ریپ کے مجرمان کے لئیے سرجری یا کیمییائی طریقے سے کیسٹریشن کیسزا سے ایسے جرائم میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسے مجرمان کو عام پھانسی کی سزا دی جائے لیکن مغربی دنیا ایسی سزا کو تسلیم نہیں کرے گی۔

وزیر اعظم کی تجویز کو قانونی شکل دیتے ہوئے حکومت نے ریپ کیسز کے خلاف کیسٹریشن کی سزا کو دیگر نکات کے ساتھ ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گزشتہ سال دسمبر میں نافذ کیا تھا۔

کیسٹریشن کا ترمیم شدہ قانون کیا تھا؟

بی بی سی کو دستیاب پرانے حکومتی بل کے مطابق کیسٹریشن کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی تھی کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو ایک مخصوص مدت تک جنسی طور پر ناکارہ بنا دے گا۔

بل میں لکھا گیا تھا کہ اس سزا اور اس کی مدت کا تعین عدالت کرے گی جب کہ سزا ہونے کی صورت میں ایک خصوصی میڈیکل بورڈ یہ عمل انجام دے گا۔

اس بل کے مطابق یہ سزا ریپ کے عادی مجرمان یعنی ایسے مجرم جو ایک سے زیادہ مرتبہ سزا یافتہ ہوں کے ساتھ ساتھ خصوصی حالات میں پہلی بار سزا پانے والے مجرم کو بھی دی جا سکتی ہے جس کا تعین عدالت ہی کر سکتی تھی۔

'کیسٹریشن کی سزا غیر اسلامی ہے'

واضح رہے کہ کیسٹریشن کے مجوزہ قانون پر گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی ایک اجلاس کے بعد کیسٹریشن کے عمل کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔

بی بی سی نے جب اسلامی نظریاتی کونسل کا موقف جاننے کے لیے کونسل کے سینیئر ریسرچ افسر مفتی غلام ماجد سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کونسل نے اس وقت اس قانون کا جائزہ ضرور لیا تھا لیکن گزشتہ روز منظور ہونے والا بل اب تک ان کی نظر سے نہیں گزرا۔

مفتی غلام ماجد نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام میں کیسٹریشن کی اجازت نہیں اور یہ غیر شرعی سزا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس وقت اس قانون پر اعتراضات اٹھائے تھے جب یہ آرڈینینس کی شکل میں ان کے سامنے آیا تھا۔

مفتی غلام ماجد کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ سزا صرف مجرم کو ہی نہیں بلکہ اس کی بیوی کو بھی دی جارہی ہے جس کا کوئی جرم نہیں اور یہ ازدواجی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'یہ کیسی غیر سنجیدہ قانون سازی ہو رہی ہے'

گذشتہ روز پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے بھی کیسٹریشن کی سزا پر احتجاج کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ بی بی سی نے جب ان سے رابطہ کیا کہ حکومت تو یہ سزا ترمیم کے ذریعے قانون سے نکال چکی ہے تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ترمیم ان کی نظر سے نہیں گزری۔

سینیٹر مشتاق کا کہنا تھا کہ اس قانون میں کیسٹریشن کے علاوہ اور بھی قابل اعتراض باتیں ہیں جن پر کئی ترامیم انہوں نے خود بھی متعارف کروائیں لیکن حکومت نے ان کو مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ زنا کی نئی تعریف بھی درست نہیں جب کہ ریپ کے مجرموں کے لیے بقیہ تمام زندگی کی سزا بھی قبل عمل نہیں۔

نئی قانون سازی پر حکومت کا کیا موقف ہے؟

پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون ملیکہ بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کے اعتراضات کا بغور جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم کیسٹریشن کی شق کو بل سے نکال رہے ہیں اور اس وقت جو قانون منظور ہوا ہے اس کے تحت پاکستان میں ریپ کے مجرموں کے لیے کیسٹریشن کی سزا نہیں رکھی گئی۔

ملیکہ بخاری نے بتایا کہ حکومتی بل میں ریپ کی تعریف کو پہلے سے بہتر بنایا گیا ہے اور مجرم کی سزا میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون ملیکہ بخاری کے مطابق نئی قانون سازی سے ان تمام پیچیدگیوں کا ختم کر دیا گیا ہے جو پرانے قانون میں موجود تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنسی زیادتی کی کیسز میں التوا کو ختم کرنے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں اور ٹرائل کا فیصلہ کرنے کے لئے چار ماہ کی قدغن بھی لگا دی گئی ہے جب کہ تفتیش کے عمل کو بہتر کرنے کے لیے ہر ضلعے میں خصوصی یونٹ قائم کیا گیا ہے جس میں پولیس افسران کی ٹریننگ بھی ہو گی۔

ملیکہ بخاری کے مطابق ہسپتالوں میں اینٹی ریپ کرائسس سیل بنایا جائے گا تاکہ خواتین کا میڈیکو لیگل عزت دار طریقے سے ہو سکے جب کہ اس قانون کے تحت ٹو فنگر ٹیسٹ کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔