ہرنائی میں زلزلہ: ایک ماہ گزرنے کے باوجود متاثرین سرد موسم خیموں میں گزارنے پر مجبور

ہرنائی، زلزلہ، بلوچستان
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

غربت کے باعث ہرنائی سے تعلق رکھنے والی عمر رسیدہ خاتون بی بی عائشہ کی پوری عمر مشکل سے گزری ہے لیکن رواں سال سات اکتوبر کو آنے والے زلزلے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا کیونکہ وہ اب ایک چھوٹے سے خیمے میں رہنے پر مجبور ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے چھوٹے چھوٹے خیموں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سردی اور بارشوں میں ان میں گزارا کیسے ممکن ہو سکے گا۔

'گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، زلزلے کے جھٹکے جاری ہیں۔ میرے چار چھوٹے پوتے پوتیاں ہیں، ہم سب بارش اور سردی میں بیمار پڑ جائیں گے۔‘

ہرنائی میں آنے والے زلزلے کو ایک ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود نہ صرف متاثرین کی مشکلات برقرار ہیں بلکہ وہ سردی کی آمد کی وجہ سے زیادہ پریشانی سے دوچار ہیں۔

بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو بھی تاحال متائثرین کے ریلیف کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے مطمئن نہیں لیکن اُنھوں نے کہا کہ لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔

جگہ جگہ خیمہ بستیاں

7سات اکتوبر کو بلوچستان کے جن علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے آئے ان سے ہرنائی شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

اس زلزلے میں 17 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اگرچہ خوش قسمتی سے اس زلزلے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان نہیں ہوا تاہم لوگوں کے مکانات زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

جو گھر مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں ان کی بڑی تعداد کچے گھروں پر مشتمل ہے۔

محمد عامر کی والدہ اور دو چھوٹے بھائی اس ہولناک زلزلے میں ہلاک ہوئے۔ اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی ہرنائی میں زلزلے کے بڑے جھٹکے آ رہے ہیں۔

ہرنائی، زلزلہ، بلوچستان

وہ اپنے چچا کے خاندان کے ساتھ جس کرائے کے گھر میں رہ رہے تھے، وہ کافی حد تک منہدم ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہ کرائے کے ایک اور کمپاﺅنڈ میں منتقل ہو گئے ہیں۔

عامر نے بتایا کہ جو کچے مکانات مکمل طور پر منہدم ہونے سے بچ گئے، ان میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے لوگ رات کو خوف کی وجہ سے ان میں سو نہیں سکتے۔

یہی وجہ ہے کہ جن کے گھروں کے صحن میں خیمہ لگانے کے لیے جگہ نہیں اُنھوں نے اپنے خیمے خالی جگہوں پر لگائے ہیں۔

ہر متاثرہ شخص کی زبان پر شکایت

ہرنائی شہر میں جو علاقے زلزلے سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں غریب آباد کا علاقہ بھی شامل ہے۔

ریلوے سٹیشن کے ساتھ غریب آباد کی جس خیمہ بستی میں ہم گئے وہاں ہماری ملاقات عائشہ بی بی سے ہوئی۔

وہ اس وقت عمر کے جس حصے میں ہیں، اس کے باعث ان کو آرام کرنا چاہیے لیکن غربت کی وجہ سے وہ اپنے خیمے کے باہر مشقت میں مصروف تھیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ اُنھیں ایک خیمہ اور تھوڑا بہت راشن دیا گیا ہے۔

’رات کو بہت ٹھنڈ پڑتی ہے، بغیر گرم لحاف اس خیمے میں کیسے گزارا ہوگا۔ جب بارشیں ہوں گی تو ان میں رہنا بہت مشکل ہوگا۔‘

اُنھوں نے اس موقع پر امتیازی سلوک کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بااثر لوگوں کو مل رہا ہے وہ غریب افراد کو نہیں دیا جا رہا ہے۔

ہرنائی، زلزلہ، بلوچستان

بی بی عائشہ نے ہمیں کرائے کا وہ گھر بھی لے جا کر دکھایا جس میں وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ رہاش پذیر تھیں۔اس گھر میں صحن تو نہ ہونے کے برابر تھا تاہم اس میں موجود دونوں چھوٹے کمروں میں زلزلے کی وجہ سے دراڑیں پڑ گئی تھیں۔

بی بی عائشہ کی طرح ایک اور متاثرہ شخص محمد ریاض نے بھی یہ شکایت کی کہ اُنھیں ابھی تک بہت ساری بنیادی اشیاء نہیں ملی ہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام اور کم خیمے

مشترکہ خاندانی نطام کی وجہ سے ہرنائی میں ایک ایک گھر میں دو دو تین تین خاندانوں کا رہائش پذیر ہونا عام ہے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ ہر گھر میں جتنے افراد ہیں اُنھیں ان کی تعداد کے لحاظ سے خیمے فراہم نہیں کیے گئے بلکہ کم سے کم ایک اور زیادہ سے زیادہ دو خیمے فراہم کیے گئے۔

ہرنائی، زلزلہ، بلوچستان

محمد ریاض نے بتایا کہ وہ اور ان کے بھائی پہلے ایک ہی کرائے کے گھر میں اکھٹے رہتے تھے۔ ’ہم دونوں شادی شدہ ہیں۔ ہمارے بچے بھی ہیں لیکن ہمیں صرف دو چھوٹے چھوٹے خیمے فراہم کیے گئے جن میں گزارا کرنا مشکل ہے۔‘

اُنھوں نے گھر میں موجود کمرے دکھاتے ہوئے کہا کہ ’ان میں دن کو بھی بیٹھتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے تو رات کو ہم ان میں کیسے سو سکتے ہیں۔‘

غریب آباد میں ایک اور متاثرہ شخص جان محمد کے گھر میں صرف ایک کچا کمرہ بچ گیا تھا جبکہ ان کے صحن میں صرف ایک خیمہ لگا ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کے 10 لوگ ہیں، اب وہ تمام کیسے اس ایک خیمے میں گزارا کر سکتے ہیں۔

گھروں میں اپنی مدد آپ کے تحت کام

ہرنائی میں آنے والے زلزلے کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک لوگوں کے گھروں میں بڑے پیمانے پر بحالی کا کام نظر نہیں آیا۔

ہم محلہ غریب آباد اور محلہ اسلام آباد میں جتنے بھی گھروں میں گئے وہاں لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہوئے دیکھا۔

محلہ غریب آباد کے رہائشی جان محمد اپنے گھر کا واش روم بنانے کے کام میں مصروف تھے۔

ہرنائی، زلزلہ، بلوچستان

اُنھوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں ایک کچا مکان گرنے کے علاوہ واش روم بھی گر گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ واش روم کے بغیر گزارا ممکن نہیں تھا اس لیے اُنھوں نے گھر میں واش روم اپنی مدد آپ کے تحت بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔

متاثرہ گھروں میں جتنے لوگ بھی کام کرتے ہوئے دکھائی دیے، ان کا کہنا تھا کہ اُنھیں تاحال گھروں کی مرمت اور تعمیر کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے کوئی امداد نہیں ملی بلکہ وہ چھوٹے موٹے کام اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے ہیں۔

بی بی عائشہ کا کہنا تھا کہ ہر موسم میں بارشیں ضروری ہیں لیکن اس مرتبہ خیموں میں بارشوں کے تصور سے وہ پریشانی میں مبتلا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

غریب آباد میں زلزلے سے متاثرہ ایک اور شخص محمد فاروق درانی نے بتایا کہ سردی میں اضافے سے لوگوں کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ زلزلے کے بعد کچے گھر تو کسی طرح رہنے کے قابل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے گھروں کی بحالی کا کام جلد سے جلد ہو۔

اُنھوں نے بتایا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ گھروں کے نقصانات کا سروے جلد سے جلد مکمل کر کے لوگوں کو معاوضہ فراہم کرے تاکہ لوگ اپنے گھروں کی تعمیر کا کام جلد سے جلد شروع کر سکیں اور وہ سردی میں اضافے کی وجہ سے کسی اذیت سے دوچار نہ ہوں۔

ہرنائی، زلزلہ، بلوچستان

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

متاثرین کے لیے کیے گئے ریلیف اقدامات کی بابت جاننے کے لیے ہم ڈپٹی کمشنر کے دفتر گئے لیکن ڈپٹی کمشنر زلزلے سے متعلق وزیر اعلیٰ بلوچستان کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ میں تھے۔

تاہم ضلع کے فوکل پرسن برائے ریلیف محمد افضل نے بتایا کہ زلزلے سے متائثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک آٹھ ہزار گھرانوں کے سروے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اور زیادہ تر علاقوں میں لوگوں کو خیمے اور راشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔

تاہم بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو سابقہ حکومت کی ریلیف کے اقدامات سے بہت زیادہ مطمئن نہیں تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ ایک ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود بہت سارے علاقوں میں ابھی تک خیمے تک فراہم نہیں کیے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ حلف اٹھانے کے بعد اُنھوں نے سب سے پہلے جس سمری پر دستخط کیے وہ ہرنائی سے متاثرہ علاقوں کے ریلیف کے حوالے سے تھا۔

ہرنائی، زلزلہ، بلوچستان

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اپنے علاقے آواران میں 2013ء میں شدید زلزلہ آیا تھا جس کے باعث ان کو یہ احساس ہے کہ زلزلے سے کس طرح لوگ تکلیف سے دوچار ہوتے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ کے مطابق اُنھوں نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر اندر تمام متاثرہ علاقوں میں خیمے اور بنیادی اشیاء پہنچائی جائیں۔

’میں نے کہا ہے کہ اگر کسی کو ایک خیمہ زیادہ ملتا ہے تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو اور اس حوالے سے پیسے کی کمی کو بھی بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ حکام کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ جن لوگوں کے کچے گھر تھے ان کو پکے گھر بنا کر دیے جائیں اور جن کے پکے گھروں کو نقصان ہوا ہے ان کو اس لحاظ سے معاوضہ دیا جائے۔

عبدالقدوس بزنجو نے دعویٰ کیا کہ پہلے قدرتی آفات میں ہلاک ہونے والے فی فرد کا معاوضہ دو لاکھ روپے مقرر تھا مگر اب اُنھوں نے اسے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا ہے۔