چھاتی کا کینسر: بیماری ختم ہونے کے بعد درپیش مسائل پر گفتگو کیسے کی جائے؟

- مصنف, نازش ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عائشہ خرم دو بچوں کی پرورش اور گھریلو مصروفیات کے ساتھ اپنا کاروبار شروع کرنے کی تیاری میں تھیں۔ بیکنگ ان کے شوق کے بعد اب ان کا کاروبار بننے جا رہا تھا۔
ان کی زندگی اس وقت ایک ایسے موڑ پر رک گئی جس کے بارے میں انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ چھاتی کی ایک گلٹی کے چیک اپ کے دوران انھیں پورا یقین تھا کہ یہ معمولی اور بے ضرر ہو گی اور جلد ہی انھیں یہ کہہ کر ہسپتال سے گھر بھیج دیا جائے گا کہ جائیے آپ بالکل ٹھیک ہیں۔
لیکن سب ٹھیک نہیں تھا۔ بائوپسی میں ڈاکٹرز کا خدشہ درست ثابت ہوا اور عائشہ میں چھاتی کا کینسر تشخیص کیا گیا۔
دو سال پہلے کی تشخیص کے اس مرحلے کا ذکر یہیں چھوڑ کر۔۔۔ ہم اس وقت ان کے گھر کا رخ کرتے ہیں۔
لاہور میں ان کی رہائش ایسے مکان میں ہے جو پھولوں سے لدا ہوا ہے۔ آرائش میں ان کی حس جمال جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ داخل ہونے پر پہلے ایک گول مٹول کتا اور اس کے پیچھے پیچھے دو بلیاں استقبال کو چلی آتی ہیں۔
آپ ان جانوروں سے حال احوال کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ پرندوں کی چہکار متوجہ کرتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ سفید پرندوں کی خوبصورت جوڑی بھی بال بچوں سمیت یہیں رہتی ہے۔

گھر میں عائشہ کی دو کم سن بیٹیاں بھی ہیں۔
کھڑکی سے چھن کر آتی سورج کی روشنی گھر کے سکون میں مزید اصافہ کر رہی ہے۔ ایسے میں ان سے بات کرنے بیٹھیں تو کینسر کی بیماری کا تذکرہ موزوں نہیں لگتا۔ البتہ اس بیماری سے لڑنے کے بعد زندگی میں چھوٹی چھوٹی نعمتوں اور عافیت کے لمحوں کی قدر کے بارے میں بات کرنا بہت مناسب لگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عائشہ کینسر سے دو سال کی جنگ کے بعد اب صحتیاب ہو چکی ہیں۔ اس مشکل سفر میں ان کے شوہر اور بچے، ان کے پالے ہوئے جانور اور پرندے اور یہی دھوپ، ہوا اور پودے ان کے ساتھ تھے جو انھیں صحتیاب ہونے میں مدد دیتے رہے۔
پرندوں اور پودوں کے ساتھ عائشہ کی مصروفیت میں ایک اضافہ اور ہوا: ان کا فیس بک گروپ۔۔۔ جس کا نام ہے ’کینسر وارئرز۔‘
اس گروپ میں خواتین کی پوسٹس اس نوعیت کی ہوتی ہیں: ’ہسٹریکٹومی کے بعد کس قسم کا زیر جامہ استعمال کیا جائے؟ پچاس سال کے لگ بھگ عمر کی خواتین کیا آپ بھی میری طرح وقت سے پہلے مینو پاز سے نمٹ رہی ہیں؟میری میسٹکٹومی کو کئی سال گزر گئے ہیں لیکن اب بھی چھاتی کے مقام پر درد ہے۔ آپ میں سے کسی کو اس کا تجربہ ہے؟‘
خواتین کے ان سوالوں کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ ان پر بات کرنے سے جھجکتی ہیں۔ پاکستان میں چھاتی کا معائنہ ہی خواتین کے لیے مشکل ہے، کینسر سے نمٹنے کے بعد بھی ان مسائل پر بات کرنے میں شرم کا احساس جوڑا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے
اس کے علاوہ ایسی پوسٹس بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں، جہاں خواتین ایک دوسرے کی ہمت بندھاتی ہیں۔ یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ یا ان کی کوئی رشتہ دار کیسے کینسر کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی اور وہ بھی یہ کر سکتی ہیں۔
پھر ایسے سوالات بھی ہیں جہاں خواتین مسلسل تھکان، یاداشت کی کمزوری، نیند کی کمی یا زیادتی کا ذکر کرتی ہیں۔
عائشہ کے مطابق پاکستان میں خواتین کے لیے چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص، باقاعدہ طبی معائنے اور علاج کے متعلق اب بہت بات کی جا رہی ہے لیکن کینسر سے صحتیاب ہونے والی خواتین کے مسائل پر بات کرنے کی ضرورت اب بھی ہے۔
کیسنر کے علاج کے لیے کی جانے والی کیمو تھراپی ایک تکلیف د ہ عمل ہے اور اس کے اثرات جسم پر کافی دیر تک رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی نفسیاتی مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
کینسر سے صحتیاب ہونے کے بعد عمومی اثرات کیا ہوتے ہیں؟
طبی ماہرین کے مطابق ’کیمو برین‘ کے تحت آپ کا دماغ کئی لحاظ سے کمزور ہو سکتا ہے۔ یاداشت کم ہو سکتی ہے یا آپ توجہ نہیں دے پاتے۔
جسم مسلسل تھکان محسوس کرتا ہے۔ جس بازو میں کیمو ہوتی رہی ہو اس میں مسلسل درد، پاؤں میں سوجن ہونا وغیرہ شامل ہیں اور یہ اثرات کئی سال تک رہ سکتے ہیں۔

خواتین کے لیے یہ توقع رکھنا کہ وہ صحتیاب ہوتے ہی تمام زمہ داریاں نارمل انداز میں سنبھال لیں ان کے لیے دباؤ میں اصافہ کرتا ہے۔
صدمے یا بیماری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال جسے ’پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر‘ کہتے ہیں، وہ بھی پیدا ہو سکتی ہے اور اسے الگ سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ بیماری کے واپس آنے کا خوف بھی ذہن کو الجھائے رکھتا ہے۔
ادویات کے بعد ہارمونل تھیراپی کافی عرصہ تک لینا پڑتی ہے، کچھ اصافی سرجریز کی ضرورت بھی ہوتی ہے، فالو اپ وزٹس بھی کرنا ہوتے ہیں اور یہ سب ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا دینے والا ہے۔
چونکہ عائشہ کو خود بھی ایک فیس بک پوسٹ سے چیک اپ کے لیے تحریک ملی تھی تو انھیں لگا کہ ان کی ایک پوسٹ بھی کئی خواتین کی مدد کر سکتی ہیں۔
خواتین کے ایک گروپ میں انھوں نے کینسر سے اپنی لڑائی کی کہانی تصاویر کے ساتھ شئیر کی۔ بہت سی خواتین آگے بڑھیں جو کینسر میں مبتلا تھیں یا صحتیاب ہو چکی تھیں اور اس طرح ’کینسر وارئرز‘ نامی گروپ تخلیق ہوا۔
’یہ بھویں نقلی ہیں یا اصلی، تم تو اپنی عمر سے دس سال بڑی لگ رہی ہو۔۔۔‘ یہ جملے ایسے وقت میں سننا جب آپ کینسر جیسی بیماری سے گزرے ہوں، بہت مشکل ہے۔
عائشہ نے خود یہ جملے سنے تھے اس لیے انھیں اندازہ تھا کہ دوسری خواتین کو بھی ایسے غیر حساس رویے کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگ لاعلمی کے باعث ایسی باتیں کہتے ہیں جو کینسر کے مرض سے صحت یاب ہونے والے افراد سے کہنا کسی طور مناسب نہیں۔
’ایسے میں ضروری تھا کہ ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جو مقامی ہو اور جہاں موجود خواتین مشترکہ مسائل پر ایک دوسرے سے بات کر سکیں۔‘
گروپ میں دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں خواتین شامل ہوئیں۔ عائشہ کے اس تعارف کے بعد اکتوبر کے مہینے میں وہ کئی فورمز پر چھاتی کے کینسر پر گفتگو کے لیے بھی مدعو کی گئیں۔
لیکن عائشہ کو سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ان کے ایک قدم کی وجہ سے خواتین آپس میں صحت یابی کے بعد کے مسائل پر بات کر رہی ہیں اور انھیں یہ احساس ہمت دے رہا ہے کہ وہ ان مسائل میں اکیلی نہیں ہیں۔
بچوں، پودوں، پرندوں اور پالتو جانوروں میں گھری، ہنستی مسکراتی عائشہ نے ایک بڑی جنگ جیتی ہے لیکن وہ جانتی ہیں کہ لڑائی کینسر کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔
کینسر سے پاک قرار دیے جانے کے بعد کی لڑائی اکثرخواتین کو اکیلے لڑنا پڑتی ہے لیکن عائشہ اپنے گروپ کی مدد سے ایسی خواتین کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہیں۔











