آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں پیٹرول پھر مہنگا: حکومت موازنہ صرف تیل کی قیمت کا ہی کیوں کر ہی ہے قوتِ خرید اور مہنگائی کا کیوں نہیں؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
پاکستان میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گذشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ان مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے یکم اکتوبر کو پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 127.30 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 122.04 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت 99.31 فی لیٹر ہو چکی ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل ہونے والے اضافے اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی مہنگائی پر جہاں عوام اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے وہیں حکومت بار بار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت ابھی بھی دنیا کے بہت سے ممالک اور خاص کر خطے کے ممالک سے کم ہے۔
اس سلسلے میں خاص کر خطے کے دو ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش کے حوالے دیے جا رہے ہیں جہاں حکومت کے ترجمانوں کے دعووں کےمطابق پاکستان سے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں کہیں زیادہ ہیں۔
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے کے بعد وزیر توانائی حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے ملک میں پیٹرول کی قیمت دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک خاص کر خطے کے ممالک کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہے۔
ان کا کہنا تھا ’پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن اس کی وجہ عالمی منڈی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ پاکستان میں اضافہ عالمی منڈی کے مقابلے میں کم کیا گیا ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح کو بتدریج کم کر رہی ہے۔ آج بھی اکثر ممالک سے پاکستان میں تیل کی قیمت کم ہے۔‘
دوسری جانب وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے برطانیہ میں پاکستان سے بھی زیادہ مہنگائی ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا پاکستان کے مقابلے میں برطانیہ میں قیمتیں 31 فیصد بڑھی ہیں جب کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت یہاں کم ہیں۔
پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت کیوں بڑھ رہی ہے؟
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تسلسل سے ہونے والے اضافے پر بات کرتے ہوئے عارف حبیب سکیورٹیز میں معاشی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق نے بتایا کہ پاکستان میں مہنگے پٹرول و ڈیزل کی سب سے بڑی وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ گذشتہ مالی سال میں یہ قیمتیں اوسطاً 53 ڈالر رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر پاکستان پر بھی پڑرہا ہے تاہم پاکستان میں اس کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بھی خام تیل کی درآمد کو مہنگا بنا رہی ہے۔
انھوں نے کہا حکومت نے ابھی تک خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو پوری طرح عوام تک منتقل نہیں کیا اور سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کر کے وہ زیادہ قیمت نہیں بڑھا رہی۔ اسی طرح پٹرولیم ڈویلمپنٹ لیوی کی مد میں بھی حکومت نے زیادہ پیسے وصول نہیں کیے۔
یاد رہے کہ حکومت نے اس مالی سال میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 600 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ 30 روپے فی لیٹر بنتی ہے تاہم فی الحال یہ 5.62 روپے کی سطح پر موجود ہے۔
ڈاکٹر اکرام الحق نے اس سلسلے میں کہا کہ حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کر کے قیمت کم کرنے پر بات کرتے ہوئے کہا یہ تو صحیح ہے کہ سیلز ٹیکس کی شرح کم ہے تاہم درآمدی مرحلے پر حکومت کسٹم ڈیوٹی اور ایڈوانس ٹیکس کی مد میں اچھا خاص ٹیکس اکٹھا کر لیتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان آج سے کچھ سال قبل 11 سے 12 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کر رہا تھا اور اب ان مصنوعات کا درآمدی بل 19 سے 20 ارب ڈالر ہو چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ امپورٹ اسٹیج پر حکومت زیادہ ٹیکس پٹرولیم مصنوعات پر حاصل کر رہی ہے۔
ڈاکٹر اکرام نے کہا اگر حکومت پی ڈی ایل کی مد میں زیادہ ٹیکس نہیں وصول کر رہی تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ آئی ایم ایف سے شرائط کے تحت اسے یہ وصول کرنا ہے اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ملنے والے قسط مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
حکومت کے وزیروں کی جانب سے کیے جانے والے ان دعووں کے مطابق پاکستان میں ڈیزل اور پٹرول کی کم قیمت کا دنیا اور خاص کر خطے کے دوسرے ممالک سے موازنہ صحیح ہے تاہم یاد رہے کہ یہ موازنہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت میں شرح نمو مستحکم نہیں تو دوسری جانب پاکستان میں آمدنی کے ذریعے سکڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح آٹھ فیصد ہے جب کہ اس کے مقابلے میں ہندوستان میں یہ شرح 4.6 فیصد، بنگلہ دیش میں 5.9 فیصد، سری لنکا میں 4.6 فیصد اور نیپال میں 4 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے میں ڈیزل و پیٹرول کی قیمتوں کا تقابل
وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ڈالر میں ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دنیا کے دوسرے خطوں میں پٹرول کی قیمت کو پاکستانی روپے میں تبدیل کر کے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اس کی قیمت ابھی بھی کم ہے جب کہ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے۔
اس وقت پاکستان میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 127.30 روپے تک جا پہنچی ہے اور اگر ڈالر میں اس قیمت کا تعین کیا جائے تو یہ تقریباً 0.70 ڈالر فی لیٹر بنتی ہے۔
دوسری جانب انڈیا میں پٹرول کی قیمت مقامی کرنسی میں 105 روپے فی لیٹر ہے جو ڈالر کی مقامی شرحِ تبادلہ کے حساب سے 1.34 ڈالر فی لیٹر اور پاکستانی روپوں میں 230 روپے فی لیٹر بنتی ہے کیونکہ پاکستانی روپے کی قدر انڈین روپے کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی پٹرول کی قیمت مقامی کرنسی میں 89 ٹکا فی لیٹر ہے جو ڈالر کی مقامی شرحِ تبادلہ کے حساب سے 1.05 ڈالر فی لیٹر اور پاکستانی روپوں میں 178 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔
حکومت کا ملکی قیمتوں کا دوسرے ملکوں سے موازنہ کیا صحیح ہے؟
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے حکومت کی جانب سے ملک میں پٹرول کی دنیا خاص کر خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم قیمت کے دعوے پر بات کرتے ہوئے اسے ان ممالک میں مہنگائی سے موازنے کو غلط قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا حکومت یہ موازنہ صرف پٹرول کی قیمت پر کیوں کر رہی ہے؟ ’حکومت کو یہ موازنہ تمام روزمرہ استعمال کی چیزوں پر کرنا چاہیے تو پھر پتا چلے گا کہ پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی کیا بلند ترین سطح ہے اور اس کے مقابلے میں دوسرے ملک خاص کر خطے کے ملک پاکستان سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔‘
انھوں نے کہا ’حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس وقت چینی اور گندم کی قیمت انڈیا اور بنگلہ دیش میں کس سطح پر ہے اور ہم اس وقت کس قدر مہنگی گندم اور چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔‘
ڈاکٹر اکرام نے کہا یہ موازنہ اس لیے بھی صحیح نہیں ہے کہ صرف پٹرول کی قیمت کو الگ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے بحیثیت مجموعی معیشت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ضرورت کی چیزوں کی خریداری کا تعلق قوت خرید سے ہے۔ پاکستان میں قوت خرید کم ہوئی ہے جس کا تعلق ملک کی فی کس آمدن سے ہے۔ پاکستان کی فی کس آمدن کا موازنہ بنگلہ دیش اور انڈیا سے کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان اس لحاظ سے دونوں ممالک سے کتنا پیچھے ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں بنگلہ دیش میں جی ڈی پی کے لحاظ سے فی کس آمدن 2227 ڈالر ہے اور انڈیا میں 1961 ڈالر ہے جب کہ دوسری جانب پاکستان میں فی کس آمدن 1279 ڈالر ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔
ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کسی ملک میں قوت خرید میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب وہاں لوگوں کی آمدنی بڑھ رہی ہو۔ ’اگر انڈیا اور بنگلہ دیش میں پیٹرول مہنگا ہے تو وہاں پاکستان کے مقابلے میں لوگوں کی قوت خرید بھی بہت زیادہ ہے۔ حکومت یہ بات چھپا لیتی ہے کہ پاکستان اور دوسرے ملکوں میں آمدنی کی سطح کے درمیان کتنا فرق ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیےکہ پاکستان اور دوسرے ملکوں کی معیشت میں شرح نمو میں بھی کتنا فرق ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت حقیقت یہ ہے پاکستان خراب معاشی صورتحال کا شکار ہے جو بڑھتے ہوئے مالی اور جاری کھاتوں کے خسارے کی وجہ سے ہے۔ درآمدات بےپناہ بڑھ رہی ہیں اور برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا اور دوسری جانب آپ صرف بنگلہ دیش کو لیں تو اس کی برآمدات 47 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ اس موازنے کی بجائے ہمیں اس پہلو پر توجہ دینی چاہیے کہ پاکستان فوڈ سکیورٹی رسک والا ملک بنتا جا رہا ہے اور زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم اور چینی کی درآمد پر مجبور ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہماری فوڈ سکیورٹی ختم ہو رہی ہے۔