آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک: وہ پاکستانی مدرسہ جس کے طلبہ طالبان کابینہ میں بھی شامل رہے
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
یہ کوئی عام مدرسہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی اہم درسگاہ ہے جہاں علمی روایت کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر اور افغانستان پر سوویت حملے کے بعد سے عسکری سطح پر اس مدرسے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ذکر ہو رہا ہے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ طالبان کی ایک ایسی یونیورسٹی ہے جہاں سے فارغ ہونے والے طلباء پاکستان اور افغانستان میں مذہبی سیاسی منظر نامے اور عسکری تحریکوں میں متحرک پائے گئے ہیں۔
حالیہ دہائیوں میں پاکستان اور افغانستان میں جب بھی سیاسی یا عسکری طور پر کوئی تبدیلی سامنے آئی ہے تو اس وقت اس مدرسے کا کردار اور اس مدرسے کے سینیئر رہنماؤں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں جب افغانستان میں طالبان نے جس تیزی سے کابل پر قبضہ کیا اور اب ایک عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے تو ایک مرتبہ پھر جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا نام بھی سامنے آیا ہے۔
طالبان کابینہ میں اکوڑہ خٹک کے کون سے طلبہ شامل رہے ہیں؟
ان طالبان رہنماؤں میں ملا عبدالطیف منصور شامل ہیں جو زیادہ تر پاکستان میں مقیم رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ملا عبدالطیف منصور نے دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے اور انھیں پانی و بجلی کا قلمدان دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالباقی بھی دارالعلوم حقانیہ میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے وزیر مقرر کیے گئے ہیں جبکہ نجیب اللہ حقانی اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں انھیں مواصلات کا قلمدان دیا گیا ہے۔
اسی طرح مولانا نور محمد ثاقب وزارت حج اور زکوٰۃ اور عبدالحکیم صحرائی بھی اسی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں جنھیں وزارت انصاف کا قلمدان دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم بھی دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کی ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین بھی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم رہے ہیں۔
جامعہ دارالعلوم حقانیہ کا تاریخی پس منظر
یہ مدرسہ جمعیت علماء اسلام کے سابق سربراہ مولانا سمیع الحق کی وجہ سے بھی زیادہ شہرت رکھتا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ میں مولانا سمیع الحق کو بابائے طالبان بھی کہا جاتا رہا ہے۔
مولانا سمیع الحق کو سال 2018 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
اس مدرسے کی بنیاد ان کے والد شیخ الحدیث مولانا عبدالحق نے پاکستان بننے کے ایک ماہ بعد یعنی ستمبر 1947 میں رکھی تھی۔ یہ مدرسہ پشاور سے اسلام آباد جانے والی شاہراہ جی ٹی روڈ پر اکوڑہ خٹک کے مقام پر واقع ہے۔
ماضی میں افغانستان سے تجارت اور آمد و رفت کے لیے یہ ایک اہم مقام رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے ماضی میں بھی بڑی تعداد میں لوگ اس مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے رہے ہیں۔
طالبان پر اس مدرسے کا کتنا اثر ہے؟
ایسی اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان کی عبوری کابینہ میں اب تک پانچ سے زائد وزیر اور اعلیٰ اہلکار ایسے ہیں جنھوں نے جامعہ حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) کے رہنما اور مدرسے کے اعلیٰ عہدیدار مولانا یوسف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی میں بھی افغان طالبان کی حکومت میں جامعہ حقانیہ کے متعدد افراد شامل تھے۔
اس وقت ان کے پاس واضح اعداد و شمار نہیں ہیں کہ عبوری کابینہ میں کتنے ایسے وزراء اور اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں جو جامعہ حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔
مولانا یوسف شاہ کے مطابق اس مدرسے میں سابق افغان رہنما مولانا جلال الدین حقانی، مولانا یونس خالص، مولانا محمد نبی محمدی اور دیگر نے تعلیم حاصل کی تھی اور یہ وہی قائدین ہیں جنھوں نے سویت یونین کو شکست دی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ان افغان رہنماؤں کے بعد ان کے بچے اور پوتے اور نواسے بھی یہیں سے تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں اور وہ اب مختلف عہدوں پر تعینات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صرف افغانستان نہیں بلکہ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں میں ان کے مدرسے سے فارغ افراد کام کر رہے ہیں، پارلیمان میں بھی سیاسی مذہبی رہنماؤں میں ان کے مدرسے کے رہنما شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
دارالعلوم حقانیہ کا سیاسی اثر و رسوخ
امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کیے گئے۔ ان میں دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ مولانا سمیع الحق کی جماعت اور ان کے مدرسے نے بھی بھرپور آواز اٹھائی تھی۔
اس کے علاوہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندی میں جب اضافہ ہوا تو اس وقت حکومت نے مولانا سمیع الحق سے تعاون طلب کیا تھا تاکہ علاقے میں امن قائم ہو اور تشدد کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کو فنڈز بھی جاری کیے تھے۔
سال 2019 میں صوبائی حکومت نے اس مدرسے کو تین کروڑ روپے کی گرانٹ دی تھی جبکہ پی ٹی آئی کے سابق دور میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی اس مدرسے کے لیے اچھی خاصی گرانٹ منظور کی تھی جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی تھی۔
اس وقت پاکستان مسلم لیگ کے رہنما پرویز رشید نے سوال اٹھایا تھا کہ ’جس مدرسے سے تعلق رکھنے والوں نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل میں کردار ادا کیا، انھیں یہ ’انعام‘ کیوں دیا گیا ہے۔‘
’کوئی عام مدرسہ نہیں‘
معروف تجزیہ کار اور پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ کوئی عام مدرسہ نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی روایات رہی ہیں۔ اس میں علمی روایت کے علاوہ اس مدرسے کا عسکریت پسندی اور مذہبی سیاسی تحریکوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دیگر مدارس بھی علمی روایت کے علاہ مذہبی سیاست اور عسکریت پسندی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں ان میں جامعہ حقانیہ بھی شامل ہے۔
عامر رانا کے مطابق اس ادارے کا اثر اب بھی ہے اور اس وقت افغانستان کی حکومت، شوریٰ اور اداروں میں ایسے لوگ شامل ہیں جو اس جامعہ سے فارغ التحصیل ہیں یا اس جامعہ سے ان کا گہرا تعلق رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ریاستی اداروں کے لیے بھی جامعہ حقانیہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک ایسے مؤثر چینل کو استعمال کر سکتے ہیں جس سے پالیسیوں کے نفاذ میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ جامعہ حقانیہ کی ایسی روایات ہیں جس کے ذریعے مختلف اوقات میں اس چینل کو استعمال کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسا بھی ہوا ہے کہ جب ریاستی اداروں کی پالیسیاں تبدیل ہوئیں تو اس مدرسے نے ان پالیسیوں کے لیے بھی کردار ادا کیا جیسا کہ پیغام پاکستان کا سلسلہ تھا جس میں مدرسے کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ بھی شامل ہے اور جامعہ حقانیہ کے قائدین اس پالیسی کو ساتھ لے کر چلے۔
انھوں نے کہا کہ اس ادارے کا ریاست کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تصادم سامنے نہیں آیا البتہ کچھ مواقع پر مدرسے کی جانب سے اختلافی آوازیں ضرور سامنے آئی ہیں۔