گوادر میں پانی، بجلی اور ٹرالروں کے مسئلے پر احتجاج میں شدت

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور اس کے دیگر علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کو گوادر سے 25 کلومیٹر دور سربندن کے علاقے میں آل پارٹیز کے زیر اہتمام دھرنے کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔

اس دھرنے کی وجہ سے کوسٹل ہائی وے پر گوادر اور کراچی کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی جبکہ گوادر شہر میں ماہی گیروں نے موٹر سائیکل ریلی نکالی اور گوادر پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا ۔

اگرچہ گوادر میں بعض بنیادی مسائل کے حوالے سے احتجاج کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے لیکن گزشتہ چار روز کے دوران اس میں شدت آگئی ہے۔

منگل کو احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر راجہ اطہر عباس خود مظاہرین کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ان میں سے ایک کو پکڑ کر زور سے زمین پر گرادیتے ہیں۔

اس احتجاج کے دوران اسسٹنٹ کمشنر کا وہ جملہ بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا جب انھوں نے نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو غصے میں کہا کہ ’پانی دینا تھا تو اپنی حکومت میں دیتے' ۔

ڈپٹی کمشنر گوادر عبدالکبیر زرکون کا کہناہے کہ گوادر میں احتجاج بنیادی طور پر تین مسائل کی وجہ سے کیا جارہا ہے جن میں سے دو حل ہوگئے ہیں جبکہ تیسرے کے حل کے لیے ہم وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔

گوادر میں وہ مسائل کون سے ہیں جن کی وجہ سے شہر اور اس کے قرب و جوار کے علاقے ایک مرتبہ پھر احتجاج کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔

چینی اور سندھ کے ٹرالروں کی مبینہ غیر قانونی ماہی گیری کا مسئلہ

اس وقت گوادر میں جن تین بڑے مسئلوں کے سلسلے میں احتجاج کیا جارہا ہے ان میں سے ایک بڑا مسئلہ ٹرالروں کے ذریعے ماہی گیری کا ہے۔

گوادر کی سیاسی جماعتیں اور ماہی گیر ٹرالروں کے ذریعے ماہی گیری کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف بلوچستان کے سمندری حدود میں ماہی گیری کرتے ہیں بلکہ وہ جال استعمال کرتے ہیں جن پر بلوچستان حکومت نے پابندی عائد کی ہے۔

سربندن میں دھرنے میں شریک جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمٰن نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گوادر کی مقامی آبادی کی اکثریت کے روزگار کا دارومدار ماہی گیری پر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نہ صرف چین کے ٹرالروں کو بلوچستان کے سمندری حدود میں ماہی گیری کی اجازت دی گئی ہے بلکہ سندھ کے ٹرالر بھی یہاں آرہے ہیں۔' چین کے چالیس ٹرالر اور سندھ کے 300ٹرالر بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالنگ کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایسے جال ہیں جو کہ مچھلیوں کی نسل کشی کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب گوادر کے لوگوں کا ذریعہ معاش اور روزگار ختم ہوگا تو پھر یہ لوگ کہاں جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے لوگ چاہتے ہیں کہ چین سمیت کسی بھی ملک اور علاقے کے ٹرالروں کو بلوچستان کے سمندری حدود میں ماہی گیری کی اجازت نہ دی جائے ۔

گوادر ماہی گیر اتحاد کے سربراہ خدائیداد بلوچ واجو نے کہا کہ چین اور سندھ کے ٹرالروں کی یلغار سے گوادر کے ماہی گیر معاشی بدحالی کا شکار ہوگئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت ماہی گیروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے جو احتجاج ہو رہا ہے اس کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں چینی ٹرالروں کو ماہی گیری کے لیے جو این او سی دیا گیا ہے اُس کو منسوخ کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ جو چینی ٹرالر پکڑے گئے ہیں ان میں وہی مچھلیاں ہیں جو کہ بلوچستان کے سمندری حدود میں پائی جاتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان مچھلیوں کو نہیں جانے دیا جائے بلکہ ان کو تحویل میں لیکر گوادر میں ہی نیلام کیا جائے ۔

نیشنل پارٹی ضلع گوادر کے صدر فیض نگوری نے کہا کہ چینی اور دوسرے علاقوں کے ٹرالروں کے خلاف ان کا احتجاج گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے۔' گوادر میں ماہی گیروں کے جتنے بھی علاقے ہیں ان میں غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔ اس احتجاج کے نتیجے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ بنائی گئی لیکن اس میں حقائق کے بجائے حکومت کی پشت پناہی کی گئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اور دیگر مسائل حل نہ ہونے کے خلاف پیر کے روز عوام نے گوادر شہر میں شٹرڈاﺅن اور پہیہ جام ہڑتال کی۔ 'بجائے اس کے کہ لوگوں کی بات سنی جاتی انتظامیہ اور لیویز فورس کے اہلکاروں نے لوگوں پر گاڑی چڑھائی اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ فشنگ ٹرالروں پر فوری پابندی عائد کی جائے اور انتظامیہ اور فورس کے جن اہلکاروں نے لوگوں پر تشدد کیا ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

پانی کا مسئلہ

گوادر پورٹ کی وجہ سے گوادر شہر کو چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کا مرکز قرار دیا جارہا ہے۔

گوادر میں پانی کا مسئلہ دہائیوں سے ہے اور اسی کی دہائی میں جیونی کے علاقے میں پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کے دوران فائرنگ سے لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ لیکن بارشوں میں کمی کی وجہ سے 2013 کے بعد سے یہ مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔

مولانا ہدایت الرحمٰن نے بتایا کہ گوادر میں اس وقت پانی کا بہت بڑا بحران ہے جس کی وجہ سے گوادر میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے احتجاج کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پانی تو بنیادی ضرورت ہے اگر یہ بھی لوگوں کو دستیاب نہ ہو تو لوگ کیسے زندگی گزار سکیں گے۔

'گوادر میں پانی کا مسئلہ آج سے نہیں بلکہ طویل عرصے سے ہے ۔دیگر سہولیات کی فراہمی تو دور کی بات ہے اس بنیادی مسئلے کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے۔'

فیض نگوری نے بتایا کہ مسلسل احتجاج کی وجہ سے گوادرشہر کو تھوڑا بہت صاف پانی دیا جا رہا ہے لیکن گردونواح کے علاقوں میں یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہر اور نواحی علاقوں کو آنکڑہ ڈیم سے وہ پانی دیا جارہا تھا جو کہ جانوروں کے پینے کے بھی قابل نہیں ہے۔ 'عوام کے احتجاج کی وجہ سے شہر کو مضر صحت پانی دینے کا سلسلہ بند ہوگیا لیکن شہر کے گردونواح کے علاقوں میں وہی مضرصحت پانی دیا جارہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک مسئلہ طویل عرصے سے ہے تو اس کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے ہیں۔

بجلی کا مسئلہ

گوادر سمیت بلوچستان کے مکران ڈویژن کے دو دیگر اضلاع کیچ اور پنجگور نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں ہیں ۔ان اضلاع سمیت بلوچستان کے ایران سے متصل دو دیگر اضلاع کے سرحدی علاقوں کو ایران سے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔

گوادر کے سینیئر صحافی بہرام بلوچ نے فون پر بتایا کہ بجلی کے آنے اور جانے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہے۔ 'شہر میں عموماً رات بارہ بجے سے صبح آٹھ بجے تک بجلی ہوتی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں زیادہ تر نہیں ہوتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران سے بجلی کم مل رہی ہے جس کے باعث گوادر اور دیگرعلاقوں میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 'یہاں حکام یہ بتا رہے ہیں کہ ایران میں خشک سالی کی وجہ سے ڈیموں میں پانی کی کمی ہے اور اس کے علاوہ گرمی بھی زیادہ ہے جس کی وجہ سے ایران سے بجلی کی فراہمی میں کمی کی گئی ہے۔‘

جماعت اسلامی کے رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن نے بتایا کہ اس شدید گرمی میں گوادر شہر سمیت اس کے دیگر علاقوں میں بجلی نہیں ہے۔ 'اس وقت زندگی کا دارومدار بجلی پر ہے۔ اگر بجلی نہ ہو تو زندگی کا ہرشعبہ متاثر ہوتا ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے جہاں گھروں میں گرمی کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں لوگوں کا روزگار بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا موقف

گوادر میں جب اس احتجاج کے حوالے سے ضلع کے ڈپٹی کمشنر عبدالکبیر زرکون سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج پانی، بجلی اورٹرالروں کے ذریعے ماہی گیری کے خلاف کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی اور بجلی کا مسئلہ حل ہوگیا ہے اور لوگوں کو پانی اور بجلی مل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک چین اور سندھ سے تعلق رکھنے والے فشنگ ٹرالروں کی بات ہے تو ہم اس حوالے سے وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ دو تین دنوں کے دوران بھی سندھ کے ٹرالروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور ان میں سے دو تین پکڑے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس سے قبل میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے کارروائی کر کے 6 چینی ٹرالروں کو پکڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ضلعی انتطامیہ کی کوشش ہے کہ لوگوں کے جتنے بھی مسائل ہوں ان کو حل کیا جائے اور اس کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔