آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع، دو ملازمین کے ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں مقامی عدالت نے نور مقدم کے قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے عدالتی ریمانڈ میں دو ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔
ظاہر جعفر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد پیر کو عدالت میں پیش ہونا تھا تاہم آج ایک مرتبہ پھر ملزم کو عدالت میں نہیں لایا گیا بلکہ جوڈیشل مجسٹریٹ ثاقب جواد نے ملزم کی روبکار کے ذریعے کے حاضری لگائی۔
عدالت نے مرکزی ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30 اگست تک توسیع کر دی جس کے بعد انھیں اسلام آباد کچہری کے بخشی خانے سے ہی واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ دریں اثنا عدالت نے ظاہر جعفر کے دو ملازمین کا ڈی این اے کروانے کے درخواست بھی منظور کر لی۔پولیس نے ملزمان افتخار اور جمیل کے ڈی این اے کرانے کے لیے درخواست دائر کی تھی جس پر ڈیوٹی جج نے دونوں ملزمان کا ٹیسٹ کروانے کی اجازت دی۔
عدالت نے نور مقدم کیس میں گرفتار تھراپی ورکس کے چھ ملازمین کو بھی 30 اگست تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ اسلام آباد پولیس نے سنیچر کو رات گئے چھاپے مار کر تھیراپی ورکس کے مالک ڈاکٹر طاہر سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔
ان گرفتار افراد میں زخمی امجد بھی شامل ہے جسے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے چھری مار کر زخمی کیا تھا۔ پولیس گذشہ ہفتے امجد کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے تاہم شدید زخمی ہونے کی وجہ سے پولیس نے ان کی گرفتاری کو التوا میں رکھا ہوا تھا۔
یاد رہے اب تک اس مقدمے میں پولیس نے اب تک کل 12 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
مقتولہ کے ریپ کی تصدیق
سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے اس مقدمے میں زنا بالجبر کی دفعہ کا بھی اضافہ کیا ہے۔
پولیس نے مقدمے میں زنا بالجبر کی دفعہ کا اضافہ سنیچر کے روز فرانزک لیب سے موصول ہونے والی ڈی این اے کی رپورٹ کی روشنی میں کیا ہے جس میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے سے پہلے اسے ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فرانزک لیب سے رپورٹ موصول ہونے کے بعد پراسیکوشن برانچ کی سفارشات کی روشنی میں اس مقدمے میں زنا بالجبر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 376 زنا بالجبر کے زمرے میں آتی ہے اور اسلامی قانون کی مطابق اس کی سزا سنگسار جبکہ ملکی قانون کے مطابق اس کی سزا موت یا عمر قید ہے۔
تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق جب ملزم ظاہر جعفر جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں تھا تو اس سے اس بارے میں متعدد بار پوچھا گیا تھا کہ کیا اس نے نور مقدم کو قتل کرنے سے پہلے جنسی تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا تھا لیکن وہ اس سے انکاری تھا۔
اہلکار کے مطابق اس رپورٹ کے آنے کے بعد ’یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ملزم کی نور مقدم سے لڑائی اس بات پر ہوئی تھی کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن نور مقدم کے انکار پر اسے پہلے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل کیا۔‘
اہلکار کے مطابق حالات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نور مقدم نے اپنی عزت اور جان بچانے کے لیے گھر کے اوپر والے حصے سے چھلانگ لگائی تھی لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ملزم ظاہر جعفر اور اس کے گھریلو ملازمین زبردستی نور مقدم کے گھر کے اندر لے گئے جہاں پر پہلے ملزم نے پہلے مقتولہ کے ساتھ زبردستی ریپ کی اور اس کے بعد اس کو قتل کردیا۔
جب تفتیشی ٹیم کے اہلکار سے پوچھا گیا کہ کیا ملزم کا نئی دفعہ کے اضافے کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی جس پر پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جب فرنزک لیب کی رپورٹ میں زنا ہونا پایا گیا ہے تو اس پر تفتیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وقوعہ کے روز موجود مالی جان محمد بھی گرفتار
دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں ملزم ظاہر جعفر کے گھر پر وقوعہ کے روز موجود مالی جان محمد کو گرفتار کر کے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
عدالت نے ملزم جان محمد کو دوبارہ 28 اگست کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ملزم جان محمد صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے مانسہرہ کا رہائشی ہے اور وہ ملزم ظاہر جعفر کے گھر پر بطورمالی کام کرتا ہے۔
تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق ملزم جان محمد کا بھی ڈی این اے ٹسیٹ کراونے کے لیے اس کے نمونے لاہور کی لیبارٹری میں بھجوا دیے گئے ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ ’اس ملزم کا ڈی این اے ٹسیٹ کروانا اس سے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ جائے حادثہ اور مقتولہ کے کپٹروں پر خون کے جو نشانات تھے ان میں سے کچھ نشانات ملزم جان محمد کے خون کے بھی تو نہیں تھے۔‘
تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق اس سے قبل دو مرتبہ ملزم جان محمد کو طلب کر کے پوچھ گچھ کی گئی تھی تاہم تفتیش کے دوران کچھ ایسا مواد سامنے آیا جس کی روشنی میں ملزم کو حراست میں لینا ناگزیر ہو گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’پولیس کو اس واقعہ سے متعلق جو سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے اس میں بھی ملزم جان محمد کو دیکھا جاسکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کو گھسیٹ کر گھر کے اندر لے کر جا رہا تھا تو اس وقت ملزم جان محمد گھر کے دروازے کے باہر موجود تھا۔‘
تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق ملزم جان محمد نے پولیس کو بتایا تھا کہ ’مقتولہ نور مقدم نے اس کے سامنے اوپر سے چھلانگ لگائی اور نور مقدم کے قتل سے پہلے اس کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔‘
ملزم جان محمد کو گرفتار کرنے کے بعد اب اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے علاوہ ان کی والدین سمیت تین گھریلو ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانتوں کی درخواستوں کو مسترد کر چکی ہے۔
ملزم ظاہر جعفر کو 16 اگست کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔