اکبر لیاقت:لیاقت علی خان کے بیٹے کا علاج اور حکومت کی یقین دہانی

Radio Pakistan

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سوشل میڈیا پر ایک خط شیئر کیا جا رہا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’میرے شوہر اور قائد ملت لیاقت علی خان کے فرزند اکبر علی خان گذشتہ تین سال سے سنگین طبی مسائل سے دوچار ہیں۔‘ لیاقت علی خان کی بہو کی طرف سے اس خط میں حکومت سے علاج میں مدد کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے کی طبی حالت پر دُکھ کا اظہار اور اس خط کے بعد حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ ’پاکستان کے محسنوں کی اولاد کا یہ حال ہے۔‘

کچھ صارفین حکومت سندھ کی تعریف کرتے نظر آئے کہ انھوں نے علاج کا خرچ اٹھانے کی ذمہ داری لی ہے تو کچھ لوگ ان کی تصحیح کرواتے دکھائی دیے کہ دراصل یہ اقدام وزیراعظم پاکستان کا تھا جنھوں نے کہا تھا کہ اکبر علی خان کے علاج کا خرچ وفاقی حکومت اٹھائے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ حکومت کا گذشتہ روز اکبر خان کی فیملی سے رابطہ ہوا ہے اور ان سے طبی اخراجات سے متعلقہ بل لے لیے گئے ہیں جن کی ادائیگی جلد ہو جائے گی۔

’خط خود حکومت کے کہنے پر لکھا تھا‘

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلیاقت علی خان اور بچوں کے ساتھ بیگم رعنا

وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو کراچی کے دورے کے موقعے پر گورنر عمران اسماعیل کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان کے خاندان سے رابطہ کریں اور علاج کا اخراجات وفاقی حکومت اٹھائے گی، اس سے قبل حکومت سندھ بھی علاج کرانے کا اعلان کرچکی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دُرِ لیاقت علی خان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر اکبر علی خان کو ہفتے میں تین بار ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے، حکومت سندھ نے خود کہا تھا کہ خط لکھیں اور جب انھوں نے انھیں خط لکھا تو اس کو وائرل کردیا گیا۔

’میرا ذاتی خط کس طرح لیک ہوا، ہم کبھی کسی کے پاس نہیں گئے لوگ یہاں آتے رہے ہیں۔‘

اس خط میں انھوں نے کہا کہ ان کی دو بیٹیاں ان کی معاونت کر رہی ہیں وہ اس وقت جس گھر میں رہ رہے ہیں وہ انھیں والدین کی جانب سے ملا ہوا ہے، جبکہ ان کے شوہر (اکبر خان) کی جمع پونجی ہے وہ انویسٹ کی ہوئی ہے جس سے جو ماہانہ رقم ملتی ہیں اس سے وہ گھر کے معمولات چلاتے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اکبر علی خان کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے اخراجات اٹھانے اور اس کے علاوہ انھیں ماہانہ دو لاکھ روپے الاؤنس جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ سید مراد علی شاہ نے اکبر خان کی بیوی کی درخواست منظور کی ہے جس میں انھوں نے مدد کی درخواست کی ہے۔

درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اکبر علی خان گذشتہ تین سالوں سے صحت کی خرابی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ستمبر 2020 میں ڈاکٹروں نے ماہانہ معائنے کے ساتھ انھیں ہفتے میں تین بار گردوں کے ڈائیلائسز کا مشورہ دیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس سے قبل 23 جولائی کو صدر پاکستان عارف علوی نے اکبر علی خان کے گھر جاکر ان کی خیریت دریافت کی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ کے مشیر اور موجودہ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب ان کے گھر گئے اور ان کا علاج سرکاری خرچ پر کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبیگم رعنا بہت تعلیم یافتہ اور ذہین خاتون تھیں

نامور صحافی محمود شام نے بھی ’شہیدِ ملّت کے صاحبزادے اور ہماری بےحسی‘ کے عنوان سے لیاقت علی خان اور رعنا لیاقت علی خان پر ایک کالم لکھا تھا جس میں انھوں نے بیان کیا تھا ان کے لاڈلے بیٹے اشرف لیاقت کچھ عرصہ پہلے کینسر سے وفات پا گئے تھے۔

محمود شام کے مطابق اکبر لیاقت کو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1977 کے انتخابات میں ان کے والد کے نام سے موسوم لیاقت آباد میں پی پی پی کا ٹکٹ دیا تھا مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔‘

اس کے بعد انھوں نے سیاست میں کبھی حصّہ نہیں لیا۔ شہید بےنظیر بھٹو نے بھی پیشکش کی مگر آج کی سیاست پیسہ مانگتی ہے۔

اُردو زبان کے حوالے سے انھیں جب لسانی سیاست میں شرکت کی دعوت دی گئی تو انھوں نے انکار کیا تھا۔ اکبر لیاقت مل ہل سکول انگلینڈ، کنگز کالج لندن سے فارغ التحصیل ہیں۔

سوشل میڈیا ردعمل

دریں اثنا اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین حکومت سندھ اور وفاقی حکومت دونوں پر ہی تنقید کرتے نظر آئے۔

اکبر علی خان

،تصویر کا ذریعہTwitter

ایک صارف ذیشان بیگ کا کہنا تھا ’وطن کے بے لوث قائدین کا قوم پر قرض ہے کہ ان کی اولادوں کو ان کے شایان شان مقام دیا جائے۔‘

ایک فیس بک صارف نزہت کا کہنا تھا ’ انھیں مدد کیوں مانگنی پڑتی ہے وہ ہماری قوم کے بانیوں میں سے ایک کا خاندان ہیں، کیوں پاکستان کی حکومتیں ان کی ضروریات اور صحت کے مسائل سے آگاہ نہیں۔‘