ٹویوٹا گاڑیوں کی ریکارڈ تعداد میں فروخت پر فواد چوہدری کا ٹویٹ اور سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

،تصویر کا ذریعہToyota Pakistan
’جی بالکل یہ گاڑیاں مزدور، استاد، مستری اور ریڑھی والے ہی خرید رہے ہیں۔‘
یہ جواب ایک سوشل میڈیا صارف نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی اس ٹویٹ کی جواب میں دیا جس میں وفاقی وزیر نے ٹویوٹا پاکستان کی جانب سے پاکستان میں گاڑیوں کی ریکارڈ تعداد میں فروخت ہونے کا اعلان پوسٹ کیا اور ساتھ بطور تبصرہ ’مہنگائی بہت ہے‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔
ٹویوٹا پاکستان کا کہنا ہے کہ کمپنی کے قیام سے اب تک انھوں نے ایک ماہ میں پاکستان میں سب زیادہ گاڑیاں فروخت کرنے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق ’جولائی 2021 میں 6775 یونٹ (گاڑیاں) فروخت کیے گئے جو سنہ 1993 سے اب تک کمپنی کی جانب سے ایک ماہ میں گاڑیوں کی سب سے زیادہ سیلز ہیں۔‘
ٹویوٹا کی جانب سے اس اعلامیے کے جاری ہونے کے بعد حکومتی وزرا اور ترجمانوں نے اسے حکومت کی کامیاب معاشی پالیسی اور ملک کی بہتر ہوتی معیشت کا عکاس ہے۔ مگر کیا حقیقت میں گاڑیوں کی فروخت بہتر معیشت کی عکاس ہے اس کا جائزہ آگے چل کر لیا جائے گا پہلے سوشل میڈیا بحث پر ایک نظر۔
اس اعلامیے کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے بھی ردعمل دیتے ہوئے لکھا ’صاف ظاہر ہے کہ معیشت بہتر ہوئی ہے۔‘
’سات ہزار لوگوں نے گاڑیاں خرید کر مہنگائی کو ہرا دیا‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
ٹوئٹر پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بظاہر ان لوگوں خاص طور پر حزب اختلاف پر طنز کیا جو کہتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں ’مہنگائی بہت ہے‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔
فواد چوہدری کے اس ٹویٹ کو کئی صارفین نے پسند کیا مگر بہت سے ایسے بھی تھے جو سمجھتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی واقعی بڑھ گئی ہے جس میں عام آدمی کا گزر بسر مشکل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عائشہ نامی صارف نے لکھا کہ ’سر کیا آپ اس سے مہنگائی کو جواز فراہم کر رہے ہیں؟ میں عمران خان کی بڑی حمایتی ہوں لیکن ہم سب سے زیادہ مہنگائی کے دور سے گزر رہے ہیں۔‘
ثمن طارق کہتی ہیں کہ ’حکمراں جماعت پی ٹی آئی پہلے اپوزیشن میں تھی تو حکومت کو ٹرول کرتی تھی۔ اب اقتدار میں ہے تو عوام کو ٹرول کر رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
ادھر فاطمہ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ’سات ہزار لوگوں نے جولائی میں گاڑیاں خرید کر مہنگائی کو ہرا دیا۔‘
احمد فراز نے لکھا کہ ’لوئر مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو کیا غرض کہ کتنی گاڑیاں بک گئیں۔ ان کو غرض ہے تو اس بات سے کہ ان کے گھر جینے کی بنیادی چیزیں ہیں یا نہیں۔‘
’آٹا، دالیں، گھی، چینی وہ خرید سکتے ہیں یا نہیں۔ سبزی پکا کر وہ دو وقت کی روٹی کھا سکتے یا نہیں؟ ٹویوٹا کا بونٹ کھا کر گزارا نہیں ہوتا۔ روٹی کھانی پڑتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
سید وجیہ نامی صارف نے اصرار کیا کہ ’سر اگر مہنگائی نہيں تو مہربانی کر کے مجھے بھی ايک کار لے ديں۔ اللہ جانے کون سی عوام ہے جن کے پاس اتنا پيسہ ہے۔‘
تاہم کچھ لوگ فواد چوہدری سے متفق بھی دکھائے دیے۔ جیسے راجہ علی سلیم کہتے ہیں کہ ’منسٹر صاحب کے پاس ثبوت ہے کہ پاکستان میں مہنگائی نہیں۔‘
پاکستان میں گاڑیوں کی زیادہ فروخت کی وجہ کیا ہے؟
اس سوال پر کہ کیا گاڑیاں زیادہ فروخت ہونے کا مطلب معیشت میں بہتری ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں ایک وجہ شرح سود میں کمی ہے تو اس کے ساتھ اس شعبے میں سرمایہ کار بھی سرگرم ہیں جو گاڑیوں کی بڑی تعداد میں بُکنگ کرا کر انھیں فروخت کر کے منافع کما رہے ہیں۔
آٹو سیکٹر کے ماہر مشہود خان نے چند روز قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ شرح سود میں کمی گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کی وجہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اُن کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کو ’اس شعبے میں بہت اچھا ریٹرن (منافع) نظر آتا ہے کیونکہ پانچ دس گاڑیوں کی بکنگ کرا کر انھیں اچھے داموں فروخت کرنا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔‘
ماہر معیشت محمد سہیل کا کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی کے ساتھ گاڑیوں کے نئے ماڈل بھی فروخت میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔
اس سوال پر یہ گاڑیاں کون خرید رہا ہے محمد سہیل کا کہنا تھا کہ ’ایک تو سرمایہ کاری کرنے والے افراد جو اس کی فروخت بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں، جو پانچ دس گاڑیوں کی بکنگ کرا کر وہ منافع پر اسے آگے بیچ رہے ہیں۔‘
’دوسرا طبقہ کاروباری افراد اور صعنت کاروں کا ہے، جو بڑی لگژری گاڑیوں ایس یو ویز کی خریداری میں بہت زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں، اور تیسرا طبقہ پاکستان کا کاروباری شعبہ ہے جو اپنے ملازمین کو گاڑیاں دے رہا ہے۔‘
صحافی شہباز رانا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’چوہدری صاحب لوگ اس لیے (گاڑی خرید کر) فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ سود کی شرح کم ہے۔۔۔ (لیکن) روپے کی قدر میں کمی سے شاید یہ فائدہ ختم ہو جائے کیونکہ کار اسمبلر قیمتیں بڑھانا چاہیں گے۔‘













