آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گلگت بلتستان کے جوہر علی جنھیں ہوٹل کے کمرے کی صفائی کے دوران لاکھوں روپے نظر آئے
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’یہ پہلی دفعہ نہیں، بلکہ اس سے پہلے بھی مجھے کمروں سے دو لاکھ، چار لاکھ، پانچ لاکھ جیسی بڑی رقمیں ملی ہیں۔‘
گلگت بلتستان کے سرینا ہوٹل میں 20 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے والے روم اٹینڈنٹ جوہر علی کے لیے یہ معمولی سی بات ہے کہ ان کے ہوٹل کے کمروں میں ٹھہرے مہمان اپنی قیمتی اشیا وہیں بھول جائیں۔
28 سالہ جوہر کا آبائی علاقہ گلگت بلتستان کا ضلع غذر ہے۔ وہ گذشتہ نو سال سے سرینا ہوٹل ہی میں روم اٹینڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک کمرے میں انھیں ایک ساتھ 11 لاکھ روپے نظر آئے جو سیاحت پر آئے مہمان وہیں بھول کر چلے گئے تھے۔ اتنی بڑی رقم دیکھ کر تو کسی کی بھی نیت بدل جائے۔۔۔
ان کے والد ضلع غذر ہی میں پہلے مزدوری کرتے تھے لیکن اب عمر کے تقاضے کے سبب وہ چھوٹا موٹا کام کرتے ہیں۔ جوہر علی تین کم عمر بچوں کے والد ہیں اور اپنے خاندان کے واحد کفیل ہیں۔
جوہر علی کا کہنا ہے کہ مہمان کے جانے کے بعد وہ معمول کے مطابق کمرے کی صفائی اور ازسر نو ترتیب کے لیے اندر گئے تھے جو کہ ان کا کام ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مہمان کو کمرہ چھوڑے ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اس دوران میں دوسرے کمروں میں مصروف تھا۔
’جب میں مذکورہ کمرے میں گیا تو معمول کے مطابق پہلے کمرے کی صفائی کی، اس کو ازسر نو ترتیب دیا اور اس کے بعد لاکر میں دیکھا تو وہاں پانچ، پانچ ہزار روپے کے تین بنڈل پڑے ہوئے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر انھوں نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا اور پانچ ہزار کے اتنے سارے نوٹ لے کر بلا تاخیر اپنے انچارج کے پاس چلے گئے۔ ’انچارج نے فی الفور جنرل مینجر کو اطلاع دی۔‘
جوہر علی بتاتے ہیں کہ ’(ہم نے) مہمان کو واپس بلایا گیا اور رقم ان کے حوالے کی گئی۔ وہ بہت خوش تھے۔ انھوں نے مجھے 20 ہزار روپے انعام بھی دیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایک بار بھی یہ رقم دیکھ کر ان کے ذہن میں بے ایمانی کا خیال نہیں آیا۔
سرینا ہوٹل میں قیام کرنے والے مہمان نے جوہر علی کی ایمانداری کی وجہ سے انھیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تاہم وہ نہیں چاہتے کہ ان کی شناخت ظاہر کی جائے۔
جوہر علی کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اپنے گھر والوں کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تو ان کے والد بہت خوش ہوئے۔
’انھوں نے مجھے شاباش دی اور کہا کہ میں اپنے بیٹے سے یہ ہی توقع رکھتا ہوں۔ میری اہلیہ نے مجھے کہا کہ حلال کے جو پیسے بھجواتے ہو وہ ہمارے لیے بہت ہیں۔ ان میں سے بھی میں کچھ روپے کی بچت کر لیتی ہوں۔‘
اپنی ایمانداری پر تمغہ امتیاز پانے والے استاد کا شاگرد
سرینا ہوٹل گلگت بلتستان کی جنرل مینجر ثروت مجید کا کہنا تھا کہ جوہر علی کو ایمانداری کا مظاہرہ کرنے پر عیسیٰ خان ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
عیسیٰ خان کئی سال تک سرینا ہوٹل میں خدمات انجام دینے کے بعد اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان کو چند سال قبل جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک مہمان کے پچاس ہزار ڈالر واپس کرنے پر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جوہر علی کئی سال پہلے لاکھوں روپے واپس کر کے تمغہ امتیاز پانے والے عیسیٰ خان کے شاگرد ہیں اور ان کو بھرتی بھی عیسیٰ خان نے کیا تھا۔
عیسیٰ خان نے بتایا کہ کچھ سال قبل جب وہ ایگزیکٹو ہاؤس کیپنگ تھے تو اس وقت انھوں نے جوہر علی کو بھرتی کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
’میں اپنے سارے سٹاف کو ہمیشہ کہتا تھا کہ ہمارا کام بہت نازک ہے۔ یہ ہماری اپنی عزت کے علاوہ پاکستان اور گلگت بلتستان کی عزت کا بھی سوال ہے۔‘
عیسیٰ خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ اپنے لوگوں کو محنت کی تلقین کی۔
’میں نے ہمیشہ یہ ہی کہا کہ محنت کے نتیجے میں جو لکھا ہے وہ ہمیں ضرور ملے گا اور نیت خراب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مجھے فخر ہے کہ جوہر علی نے ایمانداری کی مثال قائم کی۔‘
جوہر علی کا کہنا ہے کہ عیسیٰ خان کے ساتھ ان کا بہت اچھا وقت گزرا۔
’انھوں نے ہمیں کام سمجھنے اور سیکھنے میں بہت مدد فراہم کی۔ انھیں جو عزت ملی تھی اس کی بنا پر وہ ایک طرح سے میرے لیے رول ماڈل ہیں۔ شکر ہے کہ نازک لمحات میں بھی اپنے استاد کی طرح کبھی لالچ کا شکار نہیں ہوا ہوں۔‘
سرینا ہوٹل گلگت کی جنرل مینجر ثروت مجید نے بتایا کہ سرینا ہوٹل کے اندر مہمانوں اور ان کی اشیا کی حفاظت سے متعلق بہت احتیاط برتی جاتی ہے۔
’ہم اپنے سٹاف کو اس حوالے سے باقاعدہ لیکچر دیتے ہیں اور ان سے اکثر و بیشتر بات کرتے رہتے ہیں مگر میں ایمانداری کی بات بتاؤں کہ گلگت بلتستان کے لوگ انتہائی ایماندار ہیں۔ یہ لوگ ناپ تول میں کمی نہیں کرتے، دوسروں کے مال پر نظر نہیں رکھتے، بے ایمانی نہیں کرتے ہیں۔‘
’کبھی زندگی میں نہیں سوچا کہ کوئی غلط کام کروں گا‘
جوہر علی کا کہنا ہے کہ اس تنخٰواہ میں ان کا اور ان کے گھر والوں کا اچھا گزارا ہوتا ہے۔
’میں اپنے پاس اپنے خرچے کے لیے تین ہزار روپے رکھتا ہوں اور باقی کی تمام رقم (17 ہزار روپے) اپنے گھر والوں کو بھیج دیتا ہوں۔ میری اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ ان پیسوں سے بھی چند روپے بچا لیتی ہیں۔ اس صورتحال کے اندر بے ایمانی کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔‘
’میں نے کبھی زندگی میں نہیں سوچا کہ کوئی غلط کام کروں گا، بے ایمانی کروں گا اور کسی کا حق کھاؤں گا بلکہ میں آپ کو بتاؤں کہ ہم لوگ اچھی اور حوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم لوگوں نے اپنی ضرورتیں اور خواہشات کم رکھی ہیں۔‘
جوہر علی کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ میرے گھر والے اور بچے بہت اچھی زندگی گزاریں مگر اس کے لیے میں محنت کر رہا ہوں، بے ایمانی نہیں کر سکتا ہوں۔‘