آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ستر برس کے ایک دولہا کی شادی کی ویڈیو وائرل: ’وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شادی کروں گا بس بچوں نے مہم چلائی‘
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد
تیرے بِنا یوں گھڑیاں بیتیں، جیسے صدیاں بیت گئیں۔۔۔ یہ پاکستانی فلم آنسو کے ایک گانے کا شعر ہے لیکن ایک پروفیسر صاحب جب حال ہی میں اسلام آباد میں اپنی شادی کے موقع پر سٹیج پر بیٹھے یہ گانا گنگنا رہے تھے تو وہ اور ان کی اہلیہ دونوں ہی مسکرا رہے تھے۔
70 برس کے پروفیسر کہتے ہیں ’میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں شادی کروں گا بس بچوں نے ایسی مہم چلائی کہ شاید انھوں نے میری زندگی میں آنا تھا‘ جبکہ دولہن نے کہا کہ ’بس یہ دعا کریں کہ اللہ ہم دونوں کے حق میں اچھا کرے۔‘
اس جوڑے کی شادی کی یہ ویڈیو لاکھوں صارفین ٹی وی یا سوشل میڈیا پر دیکھ چکے ہیں اور صرف فیس بک پر اسے 30 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا ہے۔
یہ ایک ارینج میرج ہے اور رسمی انداز میں تمام فنکسشن ہوئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس شادی کو ایک شخص کے بچوں نے ممکن بنایا۔ بچوں نے ہی دولہا دلہن کی ملاقات کروائی اور دونوں کی رضامندی سے دن طے پائے اور شادی ہو گئی۔
پروفیسر صاحب کے خاندان کے ایک شخص نے کہا کہ انکل (اہلیہ کی وفات کے بعد) بہت تنہا ہو گئے تھے، ہم نے بہت کوشش کی شکر ہے انھیں اپنی زندگی کا ساتھی مل گیا۔
ان کے بیٹے نے کہا کہ میں اپنے والد کے ساتھ ہوتا ہوں اور ان کا خیال رکھتا ہوں لیکن میں نے والد سے کہا کہ کوئی اور بھی ان کے ساتھ ہو جو ان کا خیال رکھے کیونکہ ہم 24 گھنٹے تو ان کے ساتھ نہیں ہو سکتے۔
پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ ان کی پوتیوں اور نواسیوں نے ان کی شادی کے لیے لڈی تیار کی۔
ان کی پوتی نے کہا کہ یہ میں ہوں، یہ میرے دادا ہیں اور ہم ان کی شادی کروا رہے ہیں جبکہ نواسی نے کہا کہ میں نانو اور نانا کے لیے بہت خوش ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تین منٹ کی اس ویڈیو کے بعد میرے سمیت بہت سے رپورٹر اور مارننگ شو کی ٹیمیں پروفیسر صاحب اور ان کی اہلیہ کا انٹرویو کرنے کے لیے ان سے رابطہ کرنے کے کی کوشش کرنے لگے لیکن انھوں نے کہا کہ وہ ہم میں سے کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتے۔
بی بی سی نے بھی ان تک اپنا پیغام پہنچایا لیکن ہمیں یہ جواب موصول ہوا کہ سوشل میڈیا پر ان کی شادی کی ویڈیو کی رپورٹ کے نیچے آنے والے کمنٹ ان کے لیے باعثِ تکلیف اور پریشانی ہیں اور وہ کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ کمنٹ دلہا دلہن اور ان کے بچوں کو بھی پریشان کر رہے ہیں اور وہ تو چاہتے ہیں کہ اس رپورٹ کو ہی ہٹا دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
اس ویڈیو پر جاری تبصروں میں ایسا کیا ہے، یہ جاننے کے لیے ہم نے ہزاروں کی تعداد میں ان تبصروں پر نظر دوڑائی۔
اگرچہ بہت سے لوگ پروفیسر صاحب کی شادی کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں، جیسے صوفیہ طارق نے لکھا ’بہترین کام بچوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا۔‘
سمیرا عارف نے لکھا ’میری والدہ کی وفات کے بعد جب میرے ابو تنہا ہو گئے تو میں نے بھی اپنے ابو کی شادی کروائی تھی۔‘
اس کے جواب میں لیلیٰ بروہی کہتی ہیں بہترین، اس عمر میں واقعی ایک ہمسفر کی ضرورت ہوتی ہے۔'
راہب نے لکھا ’بہت اچھا کیا، ایک شرعی کام کیا ہے اور بجائے اس کے کہ والد کو اولڈ ہاؤس چھوڑ آئیں یہ زیادہ بہتر ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔‘
محمد علی نے لکھا ’بہت اچھا کیا پروفیسر صاحب میاں بیوی ہی ایک دوسرے کا خیال رکھ سکتے ہیں۔‘
لیکن دوسری جانب بہت سے لوگ پروفیسر صاحب پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ اگرچہ انھوں نے شادی کسی کم عمر لڑکی سے نہیں کی لیکن تنقید کرنے والوں کے خیال میں انھیں ستر برس کی عمر میں شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
بہت سے تبصرے ایسے تھے جنھیں یہاں تحریر میں لانا نازیبا الفاظ کے باعث ممکن نہیں لیکن وہیں بہت سے صارفین ایسے بھی ہیں جنھوں نے نازیبا کمنٹ کرنے والوں کو ملامت بھی کیا۔
روبینہ خالد کے الفاظ پروفیسر صاحب اور ان کی اہلیہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جو ان کے اس اقدام پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
انھوں نے لکھا: ’خراج تحسین پروفیسر کی بہو کو جنھوں نے واقعی اپنے سسر کی دل سے قدر کی اور ان کے جذبات کو سمجھا کہ بڑھاپے میں ساتھی کی کتنی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ کاش ہمارے لوگ ایسے عمر رسیدہ لوگوں کو جو اکیلے رہ جاتے ہیں، چاہے وہ مرد ہو یا عورت ان کی تنہائی کو سمجھیں اور اسے دور کرنے کے لیے احسن قدم اٹھائیں۔‘