گلگت بلتستان کی وادی نلتر میں لینڈ سلائڈنگ: گلیشیئر گِرنے کے بعد چار افراد لاپتہ، چراہ گاہیں اور درخت تباہ

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

گلگت بلتستان کے معروف سیاحتی مقام وادی نلتر میں حکام کے مطابق برفانی تودے کے گرنے سے چار مقامی افرد لاپتہ ہوگئے ہیں۔

گلگت شہر سے قریب 34 کلو میٹر دور یہ واقعہ گذشتہ روز وادی نلتر میں پیش آیا جہاں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برفانی تودہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر نلتر نالے کے مقام پر آگرا اور اس سے پانی کا بہاؤ رُک جانے سے کم از کم دو مقامات پر مصنوعی جھیلیں بن گئیں۔

گلگت بلتستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق برفانی تودہ گرنے کا واقعہ 5 جولائی کی صبح وادی نلتر کی مشہور جھیلوں میں سے ایک ست رنگی جھیل کے پاس بنگلہ کے علاقے میں پیش آیا ہے۔ اس میں ست رنگی جھیل محفوظ رہی تاہم اس سے پانی کا راستہ اور اخراج رُک گیا۔

یہاں پانی کا بہاؤ روکنے سے مصنوعی جھیلیں بن گئی ہیں تاہم اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ولی خان کے مطابق اس سے ’اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

’برفانی تودے کے راستے میں جو کچھ آیا، تباہ ہوگیا‘

جب وادی نلتر میں لینڈ سلائڈنگ کا یہ حادثہ پیش آیا تو یہاں کے ایک رہائشی ارشاد حسین حقانی ایڈووکیٹ وہاں موجود تھے۔

عینی شاہدین نے انھیں بتایا کہ ’برفانی تودہ گرنے سے قبل بنگلہ گلیشیئر پر آسمانی بجلی گری تھی۔ یہاں ایسی آواز آئی جیسے گولی چلتی ہے۔ ’پھر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں وہ برفانی تودہ نیچے آگرا۔‘

ارشاد حقانی کی رہائش جائے حادثہ کے قریب ہے۔

یہ خبر ملنے پر وہ چند منٹوں میں مقام پر پہنچے جہاں انھیں عینی شاہدین نے بتایا کہ ’آسمانی بجلی گرنے سے نیچے آنے والا برفانی تودہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔

’ایک منٹ سے بھی کم وقت میں وہ زمین پر تھا۔ اس کے راستے میں چراہ گاہیں، درخت جو کچھ آیا وہ تباہ ہوچکا ہے۔‘

ارشاد حقانی ان چار مقامی افراد جو جانتے ہیں جو برفانی تودہ گِرنے سے لاپتہ ہوگئے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اس کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

موسم گرما میں ملک بھر سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے گلگت بلتستان کی خوبصورت وادیوں کا رُخ کر رکھا ہے۔

ارشاد حقانی کے مطابق وادی نلتر میں اس حادثے کے بعد ’سیاحوں کی ایک گاڑی بھی پھنسی ہوئی ہے۔ تاہم سیاح محفوظ رہے ہیں۔‘ حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس حادثے میں سیاح محفوظ رہے ہیں۔

جھیل کا پانی رُک گیا

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ولی خان کے مطابق نلتر نالے میں گِرنے والے برفانی تودے نے ست رنگی جھیل کے پانی کا بہاؤ دو جگہوں سے روک کر مصنوعی جھیل کی شکلیں اختیار کرلی ہیں۔ ایک مقام پر تو تھوڑی دیر بعد پانی کا بہاؤ شروع ہوچکا ہے جبکہ دوسرے مقام پر پانی رُکا ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں توقع ہے کہ رات کے کسی وقت اس میں سے بھی پانی کا اخراج شروع ہوجائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ولی خان کے مطابق ست رنگی جھیل سے اوپر کے مقام پر قائم ہونے والی جھیل سے پانی کا اخراج 5 جولائی کی شام چار بجے کے قریب شروع ہوا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس نئی جھیل کی چوڑائی قریب دو سو میٹر ہے جبکہ نیچے کی جانب قائم ہونے والی جھیل جہاں پانی کا اخراج رکا رہا وہاں پر اس کی چوڑائی دو سو سے تین سو میٹر ہے۔ دونوں قائم ہونے والی جھیلوں کے درمیاں سات سو میٹر کا فاصلہ ہے۔

ولی خان کے مطابق ایک جھیل جس سے پانی کا اخراج شروع ہوچکا ہے اس سے اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔

’وہاں سے پانی نکل رہا ہے مگر جس جھیل سے پانی رکا ہوا ہے اس پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ حفاظتی اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔ اس سے خطرہ صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اگر ایک دم وہ پھٹ جائے اور اس میں موجود سارا ملبہ باہر نکل آئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ ماحولیاتی تبدیلی کا واقعہ لگتا ہے۔

’ان علاقوں میں چھوٹے بڑے گلیشیئر موجود ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے کبھی زیادہ پگھلتے ہیں اور کبھی کم۔ اس واقعہ میں گلیشیئر نے برفانی تودے کی شکل اختیار کی ہے۔‘

واقعہ سے متعلق مزید تحقیق کے لیے منگل کو ماہرین طلب کیے گئے ہیں۔

چراہ گاہیں اور درخت تباہ

ارشاد حقانی کے مطابق برفانی تودے کے راستے میں مقامی لوگوں کی چراہ گاہیں موجود تھیں۔

’کم از کم ایک چراہ گاہ مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے جبکہ دوسری کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ ان چراہ گاہوں میں اس وقت مال مویشی بھی موجود تھے۔ راستے میں آنے والے بلند و قامت قدیم درخت بھی گر چکے ہیں۔‘

اتھارٹی کے مطابق خدشہ ہے کہ قریب 150 مال مویشی برفانی تودے کی زد میں آئے۔ ایک کلو میٹر طویل جیپ کا راستہ تباہ ہوا ہے جبکہ پانچ سو سے ایک ہزار کے قریب درختوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ڈپٹی کمشنر گلگت کے مطابق موقع پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور بھاری مشینری پہنچا دی گئی ہے۔

’کسی بھی مزید سرکاری اور نجی عمارت یا انفراسٹریکچر کو نقصان نہیں پہنچا۔ نلتر میں موجود پاور ہاوسز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔‘

ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے مطابق نلتر بالا اور پائین کی آبادیوں کو تمام تر حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔