قومی بچت سکیموں کے منافع پر ٹیکس میں اضافہ، پنشنروں اور بوڑھے افراد کے لیے کتنا نقصان دہ؟

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

’میں اپنے گھریلو اخراجات کا پچاس فیصد سے زائد حصہ قومی بچت سکیموں میں کی گئی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع سے پورا کرتا ہوں۔ اس منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بعد حکومت مجھے بتائے کہ اب میں کہاں سرمایہ کاری کروں کیونکہ سٹاک مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ لگانا میرے بس کی بات نہیں ہے۔‘

یہ الفاظ لاہور میں مقیم 70 سالہ محمد طارق کے ہیں جنھوں نے اپنی جمع پونجی قومی بچت سکیموں میں لگا رکھی ہے۔ اُن کی اہلیہ کا، جو ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں، پیسہ بھی قومی بچت سکیموں میں لگا ہوا ہے۔

محمد طارق منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے پر شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قومی بچت سکیموں میں پیسے اس لیے لگائے تھے کہ ’بڑھاپے میں آرام سے ایک لگی بندھی آمدن حاصل ہو سکے اور گھریلو اخراجات پورے کیے جا سکیں، مگر پہلے شرح سود میں کمی کی وجہ سے منافع کی شرح میں کمی واقع ہوئی تو اب منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔‘

انھوں نے ٹیکس کی شرح بڑھانے کو اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی قرار دیا جو قومی ادارہ بچت اور سرمایہ کار کے درمیان اس وقت کیا جاتا ہے جب وہ اپنا پیسہ لگا رہے ہوتے ہیں۔

محمد طارق حکومت کی بچت سکیموں پر ٹیکس کی شرح بڑھنے پر پریشانی کا شکار ہونے والے اکیلے شخص نہیں ہیں۔

سرکاری ملازمت سے 20 سال قبل ریٹائر ہونے والے چوہدری اظہر علی نے حکومت کی جانب سے ملنے والی گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈ کی رقم قومی بچت سکیموں میں لگا دی تھی۔ پنشن اور قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری سے ملنے والے منافع سے چوہدری اظہر علی کا اچھا گزر اوقات ہو رہا ہے اور ضعیف العمری میں بھی ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کی وجہ سے وہ کسی مالی تنگی کا شکار نہیں ہیں۔

تاہم قومی بچت سکیموں پر حاصل ہونے والے نفع پر نئے مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں ٹیکس کی شرح پچاس فیصد تک بڑھانے پر چوہدری اظہر علی نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے بوڑھے اور ضعیف افراد کے ساتھ زیادتی کے مترادف قرار دیا ہے۔

ان افراد کے پاس سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کر کے ایک معقول نفع کمانے کا پرکشش ذریعہ تھا تاہم ٹیکس کی شرح بڑھنے سے ان کی آمدنی میں کٹوتی ہوگی اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب مہنگائی کی شرح بلندی کی جانب گامزن ہے۔

قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری سے ملنے والے نفع پر ٹیکس کی شرح بڑھنے پر بزرگ خاتون شگفتہ حلیم نے بھی شکوہ کیا۔

شگفتہ حلیم کے شوہر سرکاری ملازمت کرتے تھے اور بیس اکیس برس قبل ریٹائرڈ ہونے کے بعد انھوں نے بھی اپنا سرمایہ قومی بچت سکیموں میں لگا دیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیوہ کو اس سرمایہ کاری پر ایک معقول منافع ملنا شروع ہو گیا تھا۔

ان سکیموں پر ملنے والے نفع سے شگفتہ حلیم کی مالی ضروریات پوری ہو رہی ہیں لیکن نفع پر ٹیکس کی شرح بڑھنے سے وہ مضطرب ہیں اور انھوں نے آمدن میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں ٹیکس اور قومی بچت سکیموں کے امور پر نظر رکھنے والے افراد نے ٹیکس کی شرح بڑھانے کو چھوٹے سرمایہ کاروں خاص کر پنشنرز، بیواؤں اور بوڑھے افراد کے ساتھ ایک ’ناانصافی‘ قرار دیا ہے جن کے لیے یہ شعبہ ایک پُرکشش ذریعہ آمدن رہا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے قومی بچت سکیموں سے حاصل ہونے والے نفع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے، جب ان سکیموں میں پچھلے کچھ عرصے سے سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کے پس پردہ بہت سارے عوامل ہیں جن میں سے ایک اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین میں سختیاں بھی شامل ہیں، جس نے اس شعبے میں بھی سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔

ٹیکس کی شرح میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟

وفاقی وزارت خزانہ کے تحت چلنے والے ادارہ برائے قومی بچت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق نئے مالی سال میں قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس فائلر کو 15 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا تو دوسری جانب نان فائلر کے منافع سے 30 فیصد ٹیکس کٹوتی ہوگی۔

واضح رہے کہ ٹیکس کی نئی شرح کے اطلاق سے پہلے ان سکیموں میں سے پانچ لاکھ تک کے منافع پر فائلر سے 10 فیصد اور نان فائلر سے 20 فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا تھا جب کہ پانچ لاکھ سے زائد کے منافع پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد فائلر اور 30 فیصد نان فائلر کے لیے تھی۔

ٹیکس کی نئی شرح کے مطابق 15 فیصد فائلر اور 30 فیصد نان فائلر پر ٹیکس کا اطلاق ان سرمایہ کاروں پر ہو گا، جن کا منافع پانچ لاکھ تک ہے۔ پانچ لاکھ سے منافع تجاوز ہونے پر یہ ریٹ 35 فیصد تک جا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے نئے ٹیکس کا اطلاق موجودہ مالی سال کے آغاز یعنی یکم جولائی سے ہو چکا ہے اور اس کا اطلاق قومی بچت کی تمام سکیموں ماسوائے بہبود سرٹیفکیٹ، پنشن بینفٹ سرٹیفکیٹ اور شہدا فنڈ پر ہوگا۔

ٹیکس کی نئی شرح کن سرمایہ کاروں کو متاثر کرے گی؟

حکومت کی جانب سے قومی بچت سکیموں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے کون سے سرمایہ کار متاثر ہوں گے؟ اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سکمیوں میں زیادہ تر چھوٹے سرمایہ کار ہوتے ہیں جو ایک ایک ریگولر اور محفوظ منافع چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ان سرمایہ کاروں میں بوڑھے افراد، بیواؤں، پنشنرز کے ساتھ وہ افراد بھی شامل ہیں جو سرمایہ کاری کے دوسرے ذرائع جیسے سٹاک مارکیٹ یا بینکوں میں پیسہ نہیں لگاتے کیونکہ سٹاک مارکیٹ ایک رسکی بزنس ہے تو دوسری جانب بینکوں کے مقابلے میں قومی بچت سکیمیں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش ذریعہ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ماہر ٹیکس امور ڈاکٹر اکرام الحق نے حکومت کی جانب سے قومی بچت سکیموں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کو ایک منفی پیش رفت قرار دیا ہے اور ان کے مطابق یہ اقدام ان سکیموں پر سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا اگرچہ بہبود سرٹیفکیٹ، پنشنرز سرٹیفکیٹ پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے تاہم یہ لازمی نہیں ہے کہ ضعیف افراد اور بیوہ خواتین صرف ان دو سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کریں گے۔

ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ اس اقدام سے چھوٹا سرمایہ کار سب سے زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ ان بچت سکیموں میں اب زیادہ تر یہ افراد پیسہ لگاتے ہیں۔

قومی بچت سکمیوں میں زیادہ تر سرمایہ کاری کرنے والے افراد چھوٹے سرمایہ کار ہیں جنھیں سالانہ منافع پانچ لاکھ سے کم ملتا ہے اور ان میں اکثریت نان فائلر کی ہے جو 30 فیصد ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ ان افراد کے ٹیکس فائلر نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے افراد نے جب ان سکیموں میں پیسہ لگایا تھا تو اس وقت ملک میں ٹیکس ریٹرن اور فائلر بننے کا رجحان کم تھا اور اس میں اس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب حکومت نے فائلر بننے پر رعایتیں دینے کا اعلان کیا، جیسے کہ گاڑی، مکان اور بینک ٹرانزیکشن پر فائلر ہونے کی صورت میں رعایتیں حاصل ہوتی ہیں۔

ادارہ برائے قومی بچت کے سابق ڈائریکٹر جنرل ظفر شیخ نے ان سکیموں کے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کو چھوٹے سرمایہ کاروں خاص کر ضعیف العمر افراد اور بیوہ خواتین کے ساتھ ’ناانصافی‘ قرار دیا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ظفر شیخ نے کہا کہ ’یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک بیوہ یا بوڑھے شخص کو دس لاکھ کی سرمایہ کاری پر ماہانہ دس ہزار ملیں اور اس کے نان فائلر ہونے کی وجہ سے آپ 30 فیصد ٹیکس کاٹ لیں‘۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے آنے والے بیرونی سرمائے پر دس فیصد ’وِد ہولڈنگ‘ ہے جبکہ مقامی طور پر آنے والی سرمایہ کاری پر ٹیکس زیادہ کر دیا گیا ہے، جو مقامی سرمایہ کاروں کی ’حوصلہ شکنی کے مترادف ہوگا‘۔

ٹیکس میں اضافہ بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کو کیسے متاثر کرے گا؟

پاکستان میں حالیہ عرصے میں قومی بچت سکمیوں میں آنے والی سرمایہ کاری کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں یعنی جولائی تا اپریل تک ان سکیموں میں آنے والی سرمایہ کاری میں ایک سو ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔

سرمایہ کاری میں کمی کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے ادارہ جاتی سرمایہ کاری پر پابندی تھی تو اس کے ساتھ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت زیادہ جانچ پڑتال نے بھی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے 40000، 25000 اور 15000 کے پرائز بانڈ پر مارکیٹ میں کھلی فروخت پر پابندی نے بھی ان سکیموں میں سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے بتایا کہ ٹیکس ریٹ میں اضافہ مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا اور اس میں سرمایہ کاری گرنے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سیونگ ٹو جی ڈی پی یعنی جی ڈی پی کے حساب سے قومی بچتوں کا تناسب پہلے ہی کم ہے اور عالمی سطح کے ساتھ علاقائی سطح پر بھی یہ تناسب کم سطح پر موجود ہے۔

ٹیکس میں اضافے کے بعد سرمایہ کہاں جا سکتا ہے؟

ادارہ برائے قومی بچت کے سابق ڈی جی ظفر شیخ نے قومی بچت سکیموں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آنے والا پیسہ حکومت کی بجٹ سپورٹ کے لیے سب سے سستا پیسہ ہوتا ہے۔ قومی بچت سکیموں میں آنے والے پیسے نے ملک کو نازک صورت حال میں کیسے سہارا فراہم کیا اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب پاکستان نے سنہ 1998 میں انڈیا کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کیے اور اس کے نتیجے میں ملک مالی مشکلات کا شکار ہوا تو قومی بچت سکیموں سے 150 ارب روپے نکال کر ملک کی مالی ضروریات پوری کی گئیں جو بعد میں حکومت نے واپس کر دیا تھا۔

ادراہ برائے قومی بچت کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق 31 جنوری 2021 تک قومی بچت سکیموں میں کی گئی سرمایہ کاری بشمول پرائز بانڈز کے 4600 ارب تھی۔ ظفر شیخ نے کہا کہ پاکستان کے ’بینکنگ کے شعبے کی اس خطیر سرمائے پر نظر ہے‘۔

اگر حکومت اس کے منافع پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرتی رہی تو یہ سارا پیسہ یہاں سے نکل کر بینکنگ سسٹم میں چلا جائے گا اور پھر حکومت کو یہی پیسہ کمرشل بینکوں سے زیادہ شرح سود پر اٹھانا پڑے گا، جو اسے قومی بچت سکیموں کے ذریعے سستے نرخوں پر مل جاتا ہے۔

ظفر شیخ نے ٹیکس میں اضافے کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک چھوٹا سرمایہ کار اس صورت حال میں مالی مشکلات کا شکار ہوگا۔