عمران خان اور نصرت فتح علی خان: موسیقی اور کرکٹ کے ’خان‘ آپس میں کیسے دوست تھے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
’جب عمران خان نے 92 ورلڈ کپ جیتا تو نصرت فتح علی خان بھی آسٹریلیا میں تھے۔ عمران خان کے کرکٹ میچ تھے اور ہمارے قوالی کے شو۔‘
یہ کہنا ہے الیاس حسین کا جو کئی دہائیوں تک ’شہنشاہِ قوالی‘ نصرت فتح علی خان کی قوال پارٹی کا حصہ رہے اور ان کے شاگرد بھی تھے۔
پاکستان میں گذشتہ چند دنوں سے یہ بحث سوشل میڈیا جاری ہے کہ آیا نصرت کو بین الاقوامی شہرت دلانے میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بھی کوئی کردار رہا ہے۔
اس کا آغاز اتوار کو ہوا جب عمران خان اسلام آباد میں ایک فلم فیسٹیول کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ نوجوانوں کو ’اوریجنل‘ فلم سازی پر نصیحت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’میں نے شوکت خانم (ہسپتال) بنانا تھا تو میں نصرت فتح علی خان کو اپنے ساتھ انگلینڈ اور امریکہ کے دوروں پر لے جاتا تھا، پاکستانی کمیونٹی سے پیسے اکٹھے کرنے کے لیے۔ کیونکہ میری بڑے بڑے پاپ سٹارز سے واقفیت تھی جیسے مِک جیگر، پیٹر گیبریئل، سٹنگ۔ ان لوگوں کو میں جانتا تھا۔‘
’تو میں نے کئی بار ان کو ڈنرز پر دعوت دی جہاں نصرت فتح علی خان پرفارم کرتے تھے۔ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سارے ہی نصرت فتح علی کے فینز بن گئے۔‘
کچھ لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا کہ شاید عمران خان یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ انھوں نے نصرت کو عالمی سطح پر متعارف کرایا، جبکہ کچھ صارفین اس سے یہ سمجھے کہ عمران خان اس تقریب میں درحقیقت نصرت کو سراہانے چاہتے تھے۔
عمران خان اور نصرت فتح علی خان کے ذاتی تعلقات اور دوستی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بی بی سی نے نصرت کے موسیقی کے سفر میں ان کے ساتھ کئی دہائیاں گزارنے والے ان کے دو ساتھیوں سے بات کی ہے۔
عمران خان اور نصرت فتح علی خان کب دوست بنے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد فاروق راﺅ لاہور میں فاروق ریکارڈنگ اسٹوڈیو کے مالک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریکارڈنگ انجنیئر اور میوزک پروڈیوسر بھی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا تعلق نصرت فتح علی خان صاحب سے اس وقت سے تھا جب انھوں نے سنہ 1978 میں ریکارڈنگ شروع کی۔ ’میں اس وقت سے لے کر دنیا فانی سے رخصت ہونے تک نصرت فتح علی خان کے ساتھ ساتھ رہا۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook/ImranKhanOfficial
انھوں نے بتایا کہ نصرت فتح علی خان اور عمران خان کے تعلقات برادرانہ اور دوستانہ تھے۔
اپنی یادوں کے دریچے کو ٹٹولتے ہوئے فاروق راﺅ کا کہنا تھا کہ نصرت فتح علی خان اور عمران خان کے تعلقات صرف ان دونوں تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کا دائرہ ان کے آباﺅ اجداد اور خاندانوں تک پھیلا ہوا ہے اور یہ قیام پاکستان سے پہلے کے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ نصرت فتح علی خان کے والد جبکہ وزیر اعظم عمران خان کے ننھیال دونوں کا تعلق جالندھر سے تھا اور وہاں ان کے گاﺅں ایک دوسرے کے قریب تھے۔
چونکہ عمران خان کے ننھیال قوالی کے دلدادہ تھے اس لیے ان کا خان صاحب کے گھر آنا جانا ہوتا تھا لیکن جب وہ تقسیم کے بعد پاکستان آئے تو ان کے تعلقات منقطع نہیں ہوئے اور ایک دوسرے کے ہاں آنے اور جانے کا سلسلہ جاری رہا۔
فاروق راﺅ کہتے ہیں کہ ماجد خان کرکٹ کھیلنے جب فیصل آباد جاتے تھے تو وہ لازمی طور پر نصرت فتح علی خان کے گھر جاتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اسی طرح جب عمران خان کرکٹ کھیلنے فیصل آباد جاتے تھے تو وہ بھی خان صاحب کے گھر جاتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایک مرتبہ عمران خان تو نصرت فتح علی خان کی بیٹی ندا نصرت کی سالگرہ میں بھی شرکت کرنے فیصل آباد گئے تھے۔
سنہ 1992 میں آسٹریلیا میں کرکٹ ورلڈ کپ کے انعقاد اور وہاں نصرت فتح علی خان کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے فاروق راﺅ نے بتایا کہ جب سنہ 1992 کے ورلڈ کپ کا اعلان ہوا تو نصرت فتح علی خان بھی وہاں پرفارم کرنے گئے تھے اور وہاں شوکت خانم ہسپتال کے قیام کا بھی کا اعلان ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور انتھک محنت کے باعث نصرت فتح علی خان گائیکی کی دنیا پر ہروقت راج کرتے رہے لیکن پہلے ان کے سننے والے زیادہ تر ایشیائی تھے خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں تھے۔
انھوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں ورلڈکپ میں پرفارمنس کے بعد آسٹریلین اور یورپین افراد بھی ان کو سننے لگے۔ ’برطانیہ میں عمران خان اور نصرت فتح علی خان نے چیریٹی کے کافی پروگرام کے لیے اور وہاں جمائما گولڈ سمتھ بھی ساتھ ہوتی تھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ’کرکٹ کی وجہ سے عمران خان کا ملک سے باہر ایک وسیع حلقۂ اثر تھا اور عمران خان کا ان میں جو حلقہ احباب تھا وہ پھر ان سے تعلق کی وجہ سے نصرت فتح علی خان کی جانب آ گیا اور وہ ان کے سننے والوں میں شامل ہو گئے، جن میں پیٹر گیبریئل اور دوسرے لوگ شامل تھے۔‘
فاروق راﺅ نے بتایا کہ ’(باہر کے لوگوں نے) پہلے ہمارے گائیکوں کو تو نہیں سنا تھا اور ہمارے گائیکوں کے کنسرٹ وغیرہ میں وہ نہیں آتے تھے لیکن عمران خان کے ذریعے تعارف کے بعد وہ نصرت فتح علی خان کے ایسے دلدادہ ہو گئے کہ پھر سو فیصد کنسرٹ انہی کے لیے ہونے لگے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نصرت فتح علی خان ایک بہت بڑے لیجینڈ تھے اور انھوں نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اپنا لوہا ہر جگہ منوایا لیکن جہاں تک بات بین الاقوامی لوگوں کی ہے تو ان میں ’خان صاحب کو متعارف کرانے والوں میں عمران خان کا عمل دخل تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نصرت فتح علی خان اور عمران خان کینیڈا، امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں گئے اور وہاں کنسرٹ کے لیے ’چونکہ خان صاحب ایک درویش تھے اور ان کو پیسوں کی لالچ نہیں تھی اس لیے انھوں نے شوکت خانم کے لیے فنڈ ریزنگ میں عمران خان کا بھرپور ساتھ دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہIllayas Hussain
'خان صاحب درویش تھے، پیسوں کی لالچ کے بغیر عمران خان کا ساتھ دیا'
مگر الیاس حسین وزیر اعظم عمران خان کی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔
الیاس حسین نصرت فتح علی خان کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ وہ نصرت کی قوال پارٹی میں بطور پرومپٹ خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔
دراصل پرومپٹ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی شو یا ریکارڈنگ کے دوران مرکزی قوال کے پیچھے بیٹھے کلام یا غزلوں کی کتاب تھامے قوال کو اگلے مصرعے یاد کرواتا یا بتاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الیاس حسین نے بتایا کہ نہ صرف انھیں نصرت فتح علی خان کے شاگردی کا اعزاز حاصل ہوا بلکہ ان کے بزرگ بھی خان صاحب کے بزرگوں کے شاگرد رہے۔
انھوں نے بڑے فخریہ انداز میں بتایا کہ جب سے وہ استاد چلے آ رہے ہیں ہم ان کے شاگرد اور نوکر چلے آ رہے ہیں۔ ’میں تو ان کا فیملی ممبر ہوں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کا فیملی نوکر ہوں۔‘
انھوں نے بتایا کہ جہاں تک نصرت فتح علی خان کے ساتھ تعلق کی بات ہے تو انھیں یہ اعزاز سنہ 1977 سے حاصل ہوا لیکن انھوں نے ان کی شاگردی سنہ 1983 سے شروع کی۔
الیاس حسین کا بھی ماننا ہے کہ نصرت فتح علی خان اور عمران خان کے بہت قریبی تعلقات تھے۔ ’وہ تو بہت زیادہ قریب تھے۔ ان کے گھروں میں ایک دوسرے لیے دعوتیں ہوتی تھیں۔ جب عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا تو نصرت فتح علی خان بھی آسٹریلیا میں تھے۔ عمران خان کے کرکٹ کے میچ تھے اور ہمارے قوالی کے شو تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم نے کینسر ہسپتال کے لیے اکھٹے دنیا میں دورے کیے اور خان صاحب نے ہسپتال کے لیے شو کیے۔ تاہم وہ اس بات سے متفق نہیں کہ عمران خان کا یورپ یا دنیا میں نصرت فتح علی خان کو متعارف کرنے میں کوئی کردار تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ورلڈ کپ تو بعد میں ہوا، خان صاحب 80 کی دہائی سے یورپ جا رہے تھے اور اس کے بعد انھوں نے پورے دنیا کے دورے کیے۔‘
الیاس حسین نے کہا کہ نصرت فتح علی خان کے خاندان کی شہرت تو گذشتہ چار سو سال سے ہے۔ ’عمران خان کو تو نصرت فتح علی خان نے سپورٹ کیا۔ عمران خان تو کل کی بات ہے، کجا نصرت فتح علی خان اور کجا ایک کرکٹر۔‘
ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی لوگوں میں ’نصرت فتح علی خان پہلے سے مقبول تھے اور اس میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ نصرت فتح علی خان نے عمران خان کو تو عزت دی اور انھوں نے دنیا بھر میں کینسر ہسپتال کے لیے کسی معاوضے کے بغیر شو منعقد کر کے اس کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔








