’مجھے یقین ہے کہ مجھے یہ سراغ مل جائے گا کہ میرے والد کے ساتھ کیا ہوا؟‘

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

’میں، میری والدہ اور میرے گھر والے صدمے میں ہیں۔ جب سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اوپر جا کر ابو کی میت تلاش کروں گا، اس وقت سے میری امی کو میری حفاظت کی فکر لاحق ہے۔ لیکن ہم گھر والے یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں اُن کی لاش مل جائے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستانی مہم جو ساجد سد پارہ کا جن کے والد محمد علی سد پارہ موسم سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے اور چند روز کے سرچ آپریشن اور اس میں ناکامی کے بعد اُن سمیت دو دیگر کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی تھی۔

مگر اب ساجد سد پارہ نے اپنے والد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کی میتوں کی تلاش کے لیے دوبارہ کے ٹو کا رُخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ تینوں کوہ پیما پانچ فروری کو لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی تلاش میں چھ فروری سے شروع ہونے والے آپریشن کے خاتمے کا اعلان 18 فروری کو کیا گیا تھا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ساجد نے کہا کہ 'اب موسم گرما ہے، میرے لیے اُن کو تلاش کرنا آسان ہو گا۔'

انھوں نے بتایا کہ وہ 27 جون کو ایک کینیڈین ٹیم اور اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ کے ٹو پر جائیں گے۔ 'مجھے یقین ہے کہ مجھے یہ سراغ مل جائے گا کہ میرے والد کے ساتھ کیا ہوا۔ میرے ساتھ جانے والی کینیڈین ٹیم اس حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری بھی بنا رہی ہے۔'

’لاپتہ کوہ پیماؤں کی لاشوں کی تلاش کے لیے کے ٹو پر یہ پہلا آپریشن ہو گا‘

نیپال میں سیون ٹریکس ٹیم کے سربراہ داوا شرپا موسم سرما میں مہم جوؤں کی بیس کیمپ سے سربراہی کر رہے تھے۔

ساجد کی والد کی لاش کی تلاش میں ایک بار پھر کے ٹو پر جانے کے حوالے سے بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ساجد سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ان کی ٹیم کو سرچ کے لیے مدد کریں گے تاکہ ان کے والد کی تلاش کرسکیں لیکن دیگر چند وجوہات کے علاوہ بیس کیمپوں اور پہاڑوں میں کورونا کی وجہ سے صورتحال فی الحال اتنی بہتر نہیں کہ ہم آ سکتے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے یقین ہے کہ اگر موسم نے اجازت دی تو ساجد اپنے والد اور لاپتہ کوہ پیماؤں کو ڈھونڈ لیں گے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'ساجد نے آخری بار اپنے والد اور ان کے ساتھیوں کو 8000 میٹر سے زیادہ بلندی پر دیکھا تھا ۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ دوبارہ وہاں پہنچ گئے تو وہ ان کو دیکھ لیں گےتاہم لاشوں کو وہاں سے نکالنا اور ایک نہیں تین لاشوں کو نکالنا پرخطر اور مشکل ہو گا۔'

داوا شرپا نے کہا کہ کے ٹو پر یہ پہلی بار ہے کہ لوگ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں۔

لاشیں ملنے کے امکانات کتنے ہیں اور یہ کام کتنا پُرخطر ہے؟

علی سدرہ کے 46 سالہ دوست صادق سد پارہ، جو خود ایک مہم جو ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جولائی اور اگست کے مہینے میں لاپتہ کوہ پیماؤں کی میتوں کی تلاش کا کام آسان ہوتا ہے کیونکہ برف پگھل رہی ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود 'یہ امکان صرف پچاس فیصد تک ہی ہوتا ہے۔'

'ابھی بھی وہاں پہاڑوں پر برف پڑی ہو گی۔ جولائی میں زبردست دھوپ ہوتی ہے۔ میں قوم سے اپیل کروں گا کہ دعا کریں کہ علی کی ڈیڈ باڈی مل جائے۔'

صادق بتاتے ہیں کہ 'سنہ 2006 میں بھی میں نے ایک مہم کے دوران تین ڈیڈ باڈیز کو دیکھا تھا، اور ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ چند ڈیڈ باڈیز مہم جوئی کرنے والوں کو دکھائی دیتی ہیں۔'

'جب ڈیڈ باڈیز دکھائی دیتی ہیں تو ہم سب سے پہلے اپنی سیفٹی دیکھتے ہیں کہ ان تک ہم محفوظ طریقے سے پہنچ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ برسوں بعد ملنے والی لاشیں بھی بظاہر صحیح سلامت ہوتی ہیں لیکن جب انھیں ہاتھ لگایا جاتا ہے توگوشت اور ہڈیاں الگ ہو سکتی ہیں، اس لیے اس کام میں بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے۔

وہ کہتے ہیں عموماً جب کسی کوہ پیما کی پرانی میت ملتی ہے تو اسے بیس کیمپ پر بنے میموریل میں دفن کیا جاتا ہے جہاں اس کے نام کی تختی لگتی ہے۔

آٹھ ہزار میٹر کی بلندی سے کبھی کسی کی میت واپس نہیں آئی

نیک نام کریم ایڈونچر ٹور پاکستان کے سربراہ ہیں اور ریسکیو سروس بھی فراہم کرتے ہیں۔

ان کی رائے میں 'سچ پوچھیں تو کسی لاپتہ کوہ پیما کی میت ملنے اور اس کے واپس لانے کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے ۔'

نیک نام کریم کہتے ہیں کہ جب محمد علی سدپارہ لاپتہ ہوئے تو آخری اطلاعات کے مطابق وہ آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر تھے۔

ان کے بقول ’مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اتنی بلندی سے کبھی کسی کی میت کو ڈھونڈ کر واپس زمین پر لایا گیا ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ 'مثال کے طور پر آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر علی کی لاش مل بھی جائے، تو آپ اندازہ لگا سکتی ہیں کہ ایک 70، 80 کلوگرام کی باڈی کو کیسے لایا جا سکتا ہے جبکہ اتنی بلندی پر آکسیجن ویسے ہی ہم ہوتی ہے۔ اس کے لیے پانچ بندے کچھ نہیں کر سکتے، ایک بڑی اور ماہر ٹیم کی ضرورت ہے اس کام کے لیے۔'

نیک نام کریم نے بتایا کہ جہاں تک انھیں یاد پڑتا ہے تو ایرانی کوہ پیما کو زخمی حالت میں 6500 میٹر کی بلندی سے لایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مہم جوئی کے شعبے میں انسٹرکٹر کے فرائص سرانجام دینے والے افضل شیرازی اس نکتے سے متفق ہیں کہ علی سد پارہ کی لاش مل بھی جاتی ہے تو اسے نیچے تک منتقل کرنا بظاہر انتہائی مشکل لگتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ریسکیو تو یہی ہے کہ بہت زیادہ کوشش کر کے ہیلی سے کسی کو اٹھائیں، جیسے ڈینئیل کو پانچ سے چھ سال پہلے نانگا پربت سے اٹھایا گیا تھا۔ یا پھر کوئی مہم جو پھنسا ہوا ہو تو اس سے واکی ٹاکی پر رابطہ ہو رہا ہو اور کوئی ٹیم ہمت کر کے لے کر آئے۔ لیکن ایسا کیس جس میں کوئی گم ہو جائے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'پہاڑ پر مرنے والوں کی لاشیں بہت کم ملتی ہیں اور نیچے لانا بھی ناممکنات میں سے ہی ہوتا ہے۔‘

ایسے سینکڑوں کوہ پیماؤں کی تختیاں ہیں جن پر ان کوہ پیماؤں کے نام ہیں جنھوں نے ان چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش میں جان دی۔

کوہ پیمائی سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ بہت سے کوہ پیماؤں کے اہلِخانہ لاشوں کی بعد میں تلاش کی کوشش اس لیے بھی نہیں کرتے کہ یہ لوگ پہاڑوں سے محبت کرنے والے تھے اور اہلِخانہ کہتے ہیں کہ انھیں پہاڑوں کی گود میں سونے دینا بہتر ہے۔

افضل شیرازی کے مطابق 'ہاں کوہ پیماؤں کو اگر بہت بلندی پر کوئی لاش دکھائی دے تو وہ اسے راستے سے الگ جتنی بہتر جگہ تک رکھ سکتے ہیں، رکھ دیتے ہیں کیونکہ میت یا بھاری ساز و سامان کے ساتھ سفر انتہائی پرخطر ہوتا ہے ۔'

وہ بتاتے ہیں کہ ایسا ماؤنٹ ایورسٹ پر ایک بار ہوا تھا کہ گذشتہ تین سال کے دوران کئی لاشوں کو واپس لایا گیا، لیکن کے ٹو پر ایسا کوئی مقام نہیں کہ وہاں اوپر سے لاشوں کو لا کر ایئر لفٹ کروا دیں۔

'اگر کسی طرح 6000 میٹر تک کوئی لائے بھی تو بات ہے، لیکن سات ہزار میٹر سے یا اس کے اوپر سے لانا ممکن نہیں لگتا ہے، پاکستان میں کم سے کم ایسے ریسکیو آپریشن کے لیے استعداد ہی نہیں ہے۔'

داواد شرپا نیپال کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ '7400 میٹر تک ہیلی کاپٹر یہاں نیپال میں بہت سے پہاڑوں میں ریسکیو آپریشن کرتے ہیں۔ یہ اتنا آسان تو نہیں ہوتا لیکن ہم لاشوں کو آٹھ ہزار سے نیچے تک لے جاتے ہیں۔ لیکن کے ٹو پر یہ بہت مشکل ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ لوگ کے ٹو پر سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ کیمپ تھری سے بھی بیس کیمپ پر آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ موسم کس قدر مدد گار ہو گا یہ دیکھنا ہو گا اگر وہ اچھا ہوا اس نے ساتھ دیا تو بہت اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔

داوا شرپا نے مزید کہا کہ 'یہ مذاق نہیں ہے۔ خاص طور پر کے ٹو پر بہت مشکل ہے۔ چھ سے سات مہم جوؤں کی ضرورت ہے۔ لاشوں کا پتہ لگانا شاید آسان ہو گا۔ میں سب مہم جوؤں سے کہوں گا کہ وہ ان کی مدد کریں۔ وہاں سلیپنگ بیگ پہنچائے جائیں۔ عام مہم جوؤں کے لیے بھی یہ بہت مشکل ہے۔ میں ساجد پر یقین رکھتا ھوں۔'

بی بی سی کی سنہ 2019 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر 200 کوہ پیماؤں کی لاشیں برف تلے دفن ہیں اور اس چوٹی پر ہلاک ہونے صرف سو کوہ پیماؤں کی میتوں کو واپس لایا جا سکا ہے۔

تاہم کے ٹو پر کتنے کوہ پیماؤں کی میتیں دفن ہیں اس حوالے سے کوئی باضابطہ ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

کے ٹو کو سر کرنے کی جستجو کرنے والے ہر چار میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کے ٹو پر اموات کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ پر یہی شرح چار فیصد ہے۔