پاکستان میں گیس کے بحران اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خدشات کی کیا وجہ ہے؟

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان کو اس وقت ملک میں درآمد کی جانے والی لیکویفائڈ نیچرل گیس یعنی ایل این جی کے ٹرمینل کی بحالی اور مقامی سطح پر گیس پیدا کرنے والے ایک گیس فیلڈ کی بندش کی وجہ سے گیس کے بحران کا سامنا ہے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں برآمدی شعبے کے علاوہ دیگر شعبوں کو گیس کی سپلائی کی بندش کا سامنا ہے تو اس کے ساتھ گیس کے ذریعے بجلی بنانے والے کارخانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں، خاص کر کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھ چکا ہے۔

پاکستان میں گیس کے ذریعے بجلی کی کم پیداوار کی صورت میں فرنس آئل سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور اس کے لیے حکومت کی جانب سے بجلی کے کارخانوں کو تیار رہنے کے لیے بھی کہا گیا ہے لیکن یہ بجلی مہنگی پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ فرنس آئل کی زیادہ قیمت ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین اور اس شعبے سے وابستہ افراد اس صورتحال کی بنا پر حکومتی اداروں پر تنقید کر رہے ہیں اور اسے حکومت کی انتظامی پالیسی اور ویژن کا فقدان بھی قرار دے ہے۔

گیس کے شعبے میں کس وجہ سے مسائل پیدا ہوئے؟

پاکستان میں گیس کی طلب پورا کرنے کے لیے مقامی سطح پر پیدا ہونے والی گیس کے ساتھ ایل این جی کی درآمد کر کے گیس کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں گیس فیلڈز سے گیس کی پیداوار کے ساتھ درآمدی گیس کے لیے کراچی کی بندرگاہ پر دو ایل این جی ٹرمینلز تعمیر کیے گئے تھے جنھیں فلوٹنگ سٹوریج اینڈ رجسٹریشن یونٹ (ایف ایس آر یو) کہا جاتا ہے۔

یہ ٹرمینل بحری جہاز پر ہی بنے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک اینگرو کمپنی کا ٹرمینل ہے اور دوسرا پورٹ گیس نامی کمپنی کے زیر ملکیت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ان ٹرمینلز کو ایک خاص مدت کے بعد مینٹیننس یعنی بحالی کی ضرورت ہوتی ہے جسے ’ڈرائی ڈاک‘ کہا جاتا ہے۔

گذشتہ برس اینگرو ٹرمینل پر مرمت کا کام ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے باہر سے تیکنیکی عملہ نہیں آ سکا اس لیے یہ کام نہیں ہو سکا تھا۔ اب کمپنی نے اس کام کو جون کے آخر میں کرنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ اسے عالمی اداروں کے قانون کے تحت 30 جون تک یہ کام مکمل کرنا ہے۔

اس پلانٹ کی مینٹیننس کی وجہ سے گیس کی سٹوریج اور اس کی تقسیم متاثر ہونے کہ وجہ سے گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس کا اعتراف وفاقی وزیر توانائی نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

پاکستان میں اس وقت گرمی کے موسم کی وجہ سے بجلی کی طلب بہت زیادہ ہے اور گیس کی سپلائی کم ہونے سے گیس سے بجلی بنانے کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ خدشات اس لیے بھی مزید بڑھ سکتے ہیں کیونکہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے پہلے ہی صعنتی صارفین کو اطلاع دی ہے کہ اس کی ایک بڑی گیس فیلڈ سالانہ مینٹیننس کے کام کی وجہ سے بند ہے جس کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان میں گیس سپلائی میں کمی کا سامنا ہے۔

کراچی میں ڈارسن سیکورٹیز میں توانائی کے شعبے کے تجزیہ کار ولی محمد نے بتایا کہ ملک میں روزانہ چھ ارب کیوبک فیٹ گیس کی طلب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں سے 3.5 ارب کیوبک فٹ گیس مقامی گیس فیلڈز میں پیدا ہوتی ہے تو اسی طرح درآمدی گیس یعنی ایل این جی کے دو ٹرمینلز پر 600 ایم ایم سی ایف روزانہ کی استعداد ہے۔

ولی نے بتایا کہ گیس کی طلب سردیوں میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے اس لیے پاکستان کو مقامی کے ساتھ درآمدی گیس کے باوجود کمی کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے اینگرو کو کہا ہے کہ وہ اپنے ٹرمینل کی مینٹننس کا کام جون کی بجائے آگے بڑھائیں کیونکہ اس وقت اس ٹرمینل کے بند ہونے سے توانائی کا بحران بڑھ سکتا ہے کیونکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلان کے مطابق اس کی ایک گیس فیلڈ 21 دن کے لیے بند ہے اور اطلاعات کے مطابق سالانہ بحالی کے کام کے لیے ایک اور گیس فیلڈ بھی بند کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ دو گیس فیلڈز بند ہونے اور اینگرو کے ٹرمینل کے بحالی کے کام کی وجہ سے بندش کی صورت میں ملک کو بہت بڑے گیس بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے آثار ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

ملک میں گیس بحران پر جب سرکاری ادارے سوئی سدرن گیس کمپنی سے رابطہ کیا گیا تو کمپنی کے ترجمان صفدر حسین نے اس بات کی تصدیق کی کہ گیس کی فراہمی میں اس وقت کمی واقع ہوئی ہے جس کی بڑی وجہ انھوں نے سندھ کے علاقے میرپور خاص میں ایک بڑی گیس فیلڈ میں سالانہ دیکھ بھال اور مرمت کے کام کو قرار دیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس گیس فیلڈ سے 170 سے 200 ایم ایم سی ایف گیس فراہم کی جاتی ہے جو فیلڈ بند ہونے کی وجہ سے سسٹم میں نہیں آ رہی۔ بجلی بنانے کے لیے گیس کی فراہمی اور اس میں کسی ممکنہ کمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سی این جی سٹیشنز اور انڈسٹری وغیرہ کو گیس کی فراہمی بند کر کے گھریلو صارفین کے لیے بجلی بنانے کے لیے گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا گیس بحران کا اس وقت صوبہ سندھ شکار ہے جب کہ دوسری جانب سوئی نادرن گیس کمپنی کے زیر انتظام پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گیس کی فراہمی تسلسل سے جاری ہے۔

پاکستان میں کمپریسڈ گیس نیچرل گیس ایسوسی ایشن کے مرکزی عہدیدار اور گیس کے شعبے کے ماہر غیاث پراچہ نے بتایا کہ ایس ایس جی سی کے اس اعلان کو مسترد کیا کہ گیس فیلڈ بند ہونے کی وجہ سے گیس کی کمی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اُن کا اپنی ناکامی کو چھپانے کا منصوبہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ دراصل گیس ہی کم درآمد کی گئی ہے جس کی وجہ طلب و رسد کو مد نظر رکھتے ہوئے وقت پر امپورٹ کا آرڈر نہیں دینا ہے۔

گیس کے شعبے میں بحرانی کیفیت کا ذمہ دار کون ہے؟

ملک میں گیس کی کمی اور اس کی وجہ سے کسی بڑے بجلی کے بحران اور اس کے ذمہ داروں پر بات کرتے ہوئے توانائی کے شعبے کے ماہر نجم فاروقی نے بتایا کہ اس شعبے میں جو پالیسیاں بنی ہوئی ہیں اور جس طرح ادارے کام کر رہے ہیں ایسے بحران آتے رہیں گے۔

انھوں نے کہا درآمدی ایل این جی پر سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی نادرن گیس کمپنی کی پوری اجارہ داری ہے۔ انھوں نے کہا نجی شعبے کو اجازت نہیں ہے کہ وہ اس کی درآمد کرے اور پھر اسے آگے تقسیم کرے۔

'دونوں حکومتی کمپنیاں جو صرف پائپ لائنوں کی تعمیر کے کام کے لیے قائم کی گئی ہیں انھوں نے اس پورے شعبے میں اجارہ داری قائم کر لی ہے۔ یہ کمپنیاں سستی ایل این جی درآمد کر کے مہنگے داموں آگے بیچتی ہیں۔ اگر نجی شعبے کو بھی اجازت ہو تو مسابقت بڑھے گی اور کم قیمت پر درآمدی گیس فراہم ہو گی۔'

انھوں نے حالیہ گیس بحران میں حکومتی اداروں کو الزام دیتے ہوئے کہا کہ جب سے ایل این جی درآمد کا کام شروع ہوا، بدانتظامی کی وجہ سے وقتاً فوقتاً بحران آتا رہتا ہے۔

غیاث پراچہ نے بھی ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کو موجودہ بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اجارہ داری کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔

حکومت کی جانب سے گیس کے بڑے بحران سے بچنے کے لیے اینگرو سے اپنے ٹرمینل کے بحالی کے کام کو آگے بڑھانے کا کہا گیا تاکہ گرمی کے اس موسم میں گیس بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے بجلی کے بحران کو ٹالا جا سکے۔

غیاث پراچہ نے اس مسئلے کے حل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ایک ہی حل ہے کہ نجی شعبے کو اس سلسلے میں سہولت دی جائے اور سرکاری اداروں کی اجارہ داری ختم ہونی چاہیے ورنہ ایسے بحران آتے رہیں گے۔

کیا بجلی کا ایک نیا بحران سر اٹھا رہا ہے؟

مقامی پیداوار کی ایک گیس فیلڈ کی بندش اور اینگرو کے ٹرمینل کی بندش کی صورت میں پاور پلانٹس کو کم بجلی میسر ہو گی۔

اس صورتحال کی وجہ سے وفاقی حکومت کے پاور ڈویژن میں ایک اضطرابی کیفیت ہے اس لیے اینگرو کو گیس میں اپنے ٹرمینل کی بحالی کے کام اور اسے کے متبادل کے لیے طور پر ایک نیا فلوٹنگ ٹرمینل اگست میں لانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

اس وقت کراچی کی صنعتوں کو کم گیس سپلائی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ سی این جی کے شعبے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

گیس سے کم بجلی بننے کی وجہ سے ملک کے جنوبی حصوں میں اس وقت لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھ رہا ہے اور اینگرو کے ٹرمینل کے بند ہونے کی صورت میں یہ بحران شدید ہو سکتا ہے۔

نجم فاروقی نے اس سلسلے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی طلب کا یہ پیک سیزن ہے اور گیس بحران کی وجہ سے ملک کو پھر مہنگے فرنس آئل کی طرف جانا پڑے گا جس سے بجلی بنانے کی قیمت بہت زیادہ ہے ۔

انھوں نے فرنس آئل کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کے اس بحران میں ملوث ہونے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جو بااثر لابی ہے۔

غیاث پراچہ نے بتایا کہ ملک میں فرنس آئل کا سٹاک ایک مہینے کا ہوتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب دوسرے ذرائع سے بھی بجلی بن رہی ہو جن میں پانی، گیس، نیوکلیئر شامل ہیں۔

'اگر گیس کی بجائے ساری بجلی فرنس آئل سے پیدا کی جائے تو یہ سٹاک چند دن میں ختم ہو جائے گا اور اس کے ساتھ یہ مہنگی بجلی بھی بنائیں گے کیونکہ فرنس سے بننے والی بجلی گیس کی نسبت مہنگی پڑتی ہے۔'

پاکستان کی وفاقی وزارت توانائی کے ترجمان نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تربیلا میں کم پانی کی آمد کی وجہ سے تین یونٹ بند ہوئے ہیں جس کی وجہ سے 1400 میگا واٹ بجلی سسٹم میں نہیں آ رہی۔

وفاقی وزارت توانائی کے ترجمان کے مطابق اگرچہ اس وقت کوئی خاص شارٹ فال نہیں ہے تاہم تربیلا کے تین یونٹ کے بند ہونے کی وجہ سے لوڈ مینیجمنٹ کے طور پر کچھ پاور سپلائی کم ہو سکتی ہے، اس ضمن میں پاور اور پٹرولیم ڈویژن متبادل فیول سے پاور جنریشن کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ گیس کی بندش یا کمی کی صورت میں کچھ سیکٹرز میں لوڈ منینجمنٹ کی جائے گی جس کا مسلسل جائزہ لے کر موقع پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ صورتحال بالکل عارضی ہے اور ٹیکنیکل و قدرتی حالات کی وجہ سے گیس اور پانی کی کمی پاور جنریشن میں کمی لا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پانی کے اخراج میں مزید کمی ہو گی جس کی وجہ سے پن بجلی کی پیداوار بھی کم ہو جائے گی۔

پانی سے اضافی بجلی کیوں نہیں حاصل ہو رہی ؟

پاکستان کے انرجی مکس میں گیس، تیل اور نیوکلیئر ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کے مقابلے میں تربیلا ڈیم اس وقت اپنی مکمل استعداد پر نہیں چل رہا۔

وفاقی وزیر حماد اظہر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ملک کے بالائی حصوں میں اس بار گرمی کا موسم دیر سے شروع ہونے کی وجہ سے ڈیم میں پانی کی آمد زیادہ نہیں ہے۔

غیاث پراچہ نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ اس بار شمالی علاقوں میں گرمی کا موسم دیر سے شروع ہوا جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے کا عمل دیر سے شروع ہوا جو پانی سے کم بجلی پیدا ہونے کی وجہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے انرجی مکس میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 31 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد تک گر گیا ہے۔