عبدالکریم سولنگی: ساکت مجسموں میں روح پھونکنے والا انوکھا فنکار جس کا کام صرف عوام کے لیے ہے

    • مصنف, کریم الاسلام
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

تصور کریں آپ ایک گاؤں میں ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایک گھر کے صحن میں عورت چکی پر گیہوں پیس رہی ہے جبکہ ساتھ والے گھر میں ایک اور عورت روایتی لباس پہنے دودھ بلو رہی ہے۔

گاؤں کے بازار میں ’خرادیا‘ خراد پر لکڑی کی تراش خراش کر رہا ہے اور سامنے والی دکان میں لوہار بھٹی جھونک رہا ہے۔ اور ان مناظر سے کچھ دور لوک فنکار موسیقی کے روایتی ساز تھامے بیٹھے ہیں۔

لیکن ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب لوگ ساکت ہوں۔ جیسے کسی گہری سوچ میں گم کسی کا انتظار کر رہے ہوں۔ نہ لوہار کا ہتھوڑا لوہے پر چوٹ مارتا ہے اور نا ہی کمہار کا چاک حرکت کرتا ہے۔

مگر پھر جیسے اچانک ایک غیر مرئی قوت اِن مجسموں میں جان ڈال دیتی ہے اور وہ حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ لوک فنکار الن فقیر اور جلال چانڈیو سندھی گیتوں کی دھنیں بکھیرنے لگتے ہیں اور گھر کے صحن میں بیٹھی عورت کا ہاون دستا کھٹا کھٹ مصالحہ کوٹنا شروع کر دیتا ہے۔

لیکن ٹھہریے۔ آپ کسی حقیقی گاؤں میں نہیں بلکہ کراچی کے علاقے لیاری کی تنگ گلیوں میں قائم ایک چھوٹے سے ثقافتی عجائب گھر میں موجود ہیں۔ یہاں لگا بورڈ اِس جگہ کی انفرادیت واضح کرتا ہے ’ثقافتی میلہ: گاتے بجاتے، کام کرتے مجسمے۔‘

یہ میوزیم 78 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم عبدالکریم سولنگی کی زندگی بھر کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ گذشتہ 35 برسوں کے دوران اُن کے ہاتھوں کے بنے بے شمار متحرک مجسمے یہاں نمائش پر رکھے گئے ہیں۔

متحرک مجسمے

سندھی لہجے میں اُردو بولنے والے دھیمے مزاج کے کریم سولنگی سے جب پوچھا جاتا ہے کہ اُن کے اِس انوکھے کام کو کیا نام دیا جائے تو وہ بتاتے ہیں کہ یہ دراصل ’کائنیٹک آرٹ‘ ہے یعنی ایسا آرٹ جو حرکت کرے۔

وہ فخریہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس قسم کے متحرک مجسمے دنیا بھر میں تو بنائے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں اِس کام کو کرنے والے وہ اکیلے ہی ہیں۔

سولنگی صاحب کہتے ہیں کہ مجسمہ سازی صدیوں سے ایک مستند فن کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن انھوں نے اچھوتی چیز یہ کی ہے کہ وہ اِن مجسموں کو حرکت کرنے کے قابل بنا پائے ہیں۔

سندھ کی سیر

عبدالکریم سولنگی کے آرٹ میں سندھ کی ثقافت کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ نوجوانی میں اُنھیں قدرتی مناظر اور دیہات کی زندگی بہت متاثر کرتی تھی۔

پھر جب اُنھیں محکمہ تعلیم میں ملازمت ملی تو کام کے سلسلے میں اُن کا کئی بار سندھ کے دیہی علاقوں میں جانا ہوا۔ وہ وہاں کی زندگی کا مشاہدہ کرتے اور یہ مناظر اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتے تھے۔

پھر آہستہ آہستہ کریم صاحب نے گاؤں کے مناظر کی منظر کشی اپنے ماڈلز کے ذریعے کرنی شروع کی۔ اُن کے گھر میں ابتدا سے ہی آرٹ کی جانب رجحان تھا۔ اسی لیے مجسمہ سازی کو اپنانے میں اُنھیں کوئی خاص دشواری نہیں ہوئی۔

حرکت کا راز

اپنے متحرک مجسموں کے بارے میں عبدالکریم سولنگی گھنٹوں بات کر سکتے ہیں۔

کوئی پوچھے تو وہ اُن کی حرکت کا راز بتانے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ کسی اچھے اُستاد کی طرح وہ سمجھاتے ہیں کہ سارا کھیل ایک چھوٹی سی موٹر کا ہے۔ ویسی ہی موٹر جیسی بچوں کے کھلونوں میں لگی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

موٹر ایک گیئر سے منسلک ہوتی ہے جو ایک راڈ سے جُڑا ہوتا ہے۔ جب موٹر گھومتی ہے تو وہ راڈ کے ذریعے مجسمے کے مختلف حصوں کو حرکت دیتی ہے۔ عبد الکریم بتاتے ہیں کہ کسی بھی ماڈل کی تیاری کا سب سے پہلا مرحلہ میکانزم تیار کرنا ہوتا ہے کہ مجسمے کے کون کون سے حصے متحرک ہوں گے۔

اِس کے بعد مجسمے کا جسم تیار کیا جاتا ہے۔ پھر اُس کا لباس اور اردگرد کا منظر ترتیب دیا جاتا ہے۔ وہ ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ اِن ماڈلز کو بنانے میں وہ کبھی مجسمہ ساز بن جاتے ہیں، کبھی پینٹر، کبھی الیکٹریشن، کبھی درزی اور کبھی کارپینٹر کا کردار نبھاتے ہیں۔

بے کار پُرزے

ماڈلز کی تکنیک کے ساتھ ساتھ عبدالکریم مجسموں پر آنے والی لاگت کے بارے میں بھی کچھ چُھپانے کے قائل نہیں۔

اُن کے مطابق مجسموں پر اُٹھنے والے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وہ اکثر لکڑی اور پلاسٹک کے بے کار ٹکڑوں کو استعمال کرتے ہیں۔ موٹریں اور گیئرز پرانے آلات اور کھلونوں میں سے نکال لیے جاتے ہیں جبکہ مجسموں کا لباس استعمال شدہ کپڑوں سے تیار کیا جاتا ہے۔

اگر کوئی بڑی رکاوٹ نہ آئے تو ایک چھوٹا ماڈل دس سے پندرہ دن میں مکمل ہو جاتا ہے۔ عبدالکریم سولنگی کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ اُنھیں کبھی ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ کبھی کبھی کسی ماڈل کی تیاری میں ٹیکنیکل مسائل بھی آ جاتے۔ لیکن وہ ہمت نہیں ہارتے اور کوشش کر کے مسئلے کا حل نکال لیتے ہیں۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ وقت اُنھیں اپنے پہلے مجسمے میں لگا تھا۔ یہ سنہ 1985 کی بات ہے۔ وہ ایک لوہار کے کارخانے کا منظر بنا رہے تھے جس میں ایک اُستاد اور شاگرد بھٹی میں لوہا گرم کرتے نظر آتے ہیں۔ عبدالکریم نے ماڈل میں سائیکل کی پرانی گھنٹی لگائی تھی۔ جیسے ہی لوہار لوہے پر چوٹ لگاتا، گھنٹی میں سے ’ٹن‘ کی آواز آتی تھی۔

نمائشیں اور میلے

کریم سولنگی فخریہ بتاتے ہیں کہ اب تک اُنھیں بے شمار ایوارڈز مل چکے ہیں لیکن صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اُن کو سب سے زیادہ عزیز ہے۔ یہ اعزاز اُنھیں سنہ 2015 میں ملا تھا۔

سرکار کی پذیرائی کے ساتھ ساتھ وہ عوام کی تعریف کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں وہ ان گنت ثقافتی نمائشوں اور میلوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اِن ایونٹس میں کہیں اور لوگ ہوں نہ ہوں، اُن کے سٹال پر ہمیشہ رش رہتا ہے۔

بچے سے لے کر 80 سال کے بوڑھے تک ہر کوئی کریم صاحب کے آرٹ میں دلچسپی لیتا ہے۔ خاص طور پر بچوں کو خوش دیکھ کر اُن کی تمام محنت وصول ہو جاتی ہے۔

اُنھیں زیادہ خوشی اُس وقت ہوتی ہے جب اُن کے مجسمے دیکھ کر والدین اپنے بچوں کو پاکستانی ثقافت کے بارے میں بتاتے ہیں۔ کیسے چکی پر آٹا پیسا جاتا تھا یا دودھ بلویا جاتا تھا، یا پہلے لوہار اور ترکھان کیسے کام کیا کرتے تھے۔

مِنی میوزیم

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب شوقین خریدار عبدالکریم سولنگی کے پاس اُن کے ماڈلز خریدنے کی آفر لے کر نہ آتے ہوں۔ لیکن اُن کا جواب ہر دفعہ یہی ہوتا ہے کہ ’ناٹ فار سیل‘ یعنی یہ سب برائے فروخت نہیں ہے۔

عبدالکریم سولنگی کے مطابق وہ کلچر دِکھانا پسند کرتے ہیں فروخت کرنا نہیں۔ اِس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اگر وہ یہ سب چیزیں بیچ دیں تو اُن کا آرٹ صاحبِ حیثیت لوگوں کے گھروں میں بند ہو جائے گا۔ اُن کے نزدیک یہ ماڈلز عوام کے لیے ہیں اور اُن تک پہنچنے چاہییں۔

مزید پڑھیے

اِس مسئلے کا حل عبدالکریم نے یہ نکالا کہ گھر کے نزدیک ہی اپنی ذاتی دکان کو ایک چھوٹے سے میوزیم میں تبدیل کر دیا۔ چھ بائی آٹھ فٹ کی اِس دکان میں اُن کے تمام ماڈلز تو نہیں آ سکے لیکن کچھ چھوٹے مجسمے نمائش کے لیے رکھ دیے گئے ہیں۔ اب وہ تمام دن یہاں بیٹھتے ہیں اور ہر آنے والے کو مفت اپنے مِنی عجائب گھر کی سیر کراتے ہیں۔

آرٹ عوام کے لیے

گذشتہ 35 برسوں میں عبدالکریم سولنگی نے کوئی دو درجن کے قریب متحرک مجسمے تخلیق کیے ہیں۔ جگہ کی کمی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ماڈلز گوداموں میں پڑے پڑے خراب ہو رہے ہیں۔

اب عمر کے اِس حصے میں وہ اپنی فنی وراثت کو اگلی نسلوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فکر مند ہیں کہ کہیں اُن کے بعد اُن کا آرٹ بھی ختم نہ ہو جائے۔

عبدالکریم اپنے متحرک مجسمے کسی سرکاری یا نجی عجائب گھر کو عطیہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اِس طرح وہ اپنے آرٹ کو آنے والے وقت کے لیے محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگ اُنھیں متحرک مجسمے تخلیق کرنے والے انوکھے مجسمہ ساز کے طور پر یاد رکھیں گے۔