کروکر مچھلی: جیونی سے پکڑی گئی 48 کلو وزنی مچھلی 72 لاکھ روپے میں فروخت

،تصویر کا ذریعہAhmed Nadeem/Fisheries Department
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر سے ایک اور کروکر مچھلی پکڑی گئی ہے جو کہ دو روز قبل پکڑی جانے والی اسی طرح کی ایک اور مچھلی سے 22 کلو زیادہ وزنی تھی۔
گوادر سے تعلق رکھنے والے صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ اس مچھلی کی آخری بولی 86 لاکھ 40 ہزار روپے میں لگی تھی تاہم یہ 72 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔
اس سے دور روز قبل پکڑی جانے والی 26 کلو وزنی کروکر مچھلی سات لاکھ 80 ہزار روپے میں فروخت ہوئی تھی۔
محکمہ فشریز گوادر کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمد ندیم نے ایک اور کروکر مچھلی پکڑے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی قیمتوں میں کمی بیشی کا انحصار ان کے ماز یعنی ایئر بلیڈر کے چھوٹے اور بڑے ہونے پر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مچھلی زیادہ تر کن علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے؟
ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز احمد ندیم نے بتایا کہ یہ مچھلی ان علاقوں میں زیادہ آتی ہے جہاں پر مینگرووز (تمر) ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا مینگرووز کے ساتھ ساتھ ان کے لیے موزوں جگہ وہ ہوتی ہے جہاں سمندر میں میٹھا پانی آ کر مل جاتا ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ جس علاقے میں یہ پکڑی جا رہی ہیں وہاں ایران کے علاقے سے میٹھا پانی آ کر سمندر میں شامل ہوجاتا ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ اس مچھلی کے شکار کے یہی دو مہینے ہوتے ہیں اور جن علاقوں میں ان کی موجودگی کا امکان ہوتا ہے ماہی گیر وہاں اپنے جال لگا کر چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے لیے ان کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAhmed Nadeem/Fisheries Department
دوسری مچھلی کہاں سے پکڑی گئی؟
بہرام بلوچ نے بتایا کہ دوسری کروکر مچھلی بھی ایران کے قریب جیونی کے ساحلی علاقے سے پکڑی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس کشتی کے ماہی گیروں کے جال میں یہ کروکر آگیا اس کے ملاح وحید بلوچ جبکہ اس کے مالک ساجد حاجی ابابکر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مچھلی کو نیلامی کے لیے جیونی کی مقامی مارکیٹ لایا گیا جہاں اس کی فی کلو کی آخری بولی ایک لاکھ 80 ہزار روپے کے حساب سے 86 لاکھ 40 ہزار روپے میں لگ گئی تاہم مارکیٹ کی روایات کے مطابق مالک نے فی کلو 30 ہزار روپے کمی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کمی کے بعد یہ فی کلو ایک لاکھ 50 ہزار روپے کے حساب سے 72 لاکھ روپے میں فروخت ہوگئی۔
یہ مچھلی کیوں اتنی قیمتی ہے؟
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات اور ماہرِ سمندری حیات عبدالرحیم بلوچ نے بتایا کہ بعض مچھلیاں اپنے گوشت کی وجہ سے بہت زیادہ قیمتی ہوتی ہیں لیکن کروکر کے حوالے سے معاملہ مختلف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کروکر کی قیمت دراصل اس کے ایئر بلیڈر کی وجہ سے ہے جس میں ہوا بھرنے کی وجہ سے وہ تیرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مچھلی کا ایئر بلیڈر طبی استعمال میں آتا ہے اور چین، جاپان اور یورپ میں اس کی مانگ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کروکر مچھلی کا ایئر بلیڈر انسانی جسم کے اندرونی اعضا میں دورانِ سرجری لگائے جانے والے ٹانکوں بالخصوص دل کے آپریشن میں سٹچنگ وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAhmed Nadeem/Fisheries Department
محکمہ فشریز کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمد ندیم کا کہنا تھا کہ سرجری میں استعمال کے لیے ان کے ایئر بلیڈرز کے دھاگے بنائے جاتے ہیں۔ ’ان کی خوبی یہ ہے کہ یہ جیلی کی طرح جذب ہو جاتے ہیں اور کٹ کو جما دیتے ہیں جبکہ سرجری میں ٹانکے لگانے کے بعد ان کو نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔`
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ایئر بلیڈر سے سوپ بھی بنتا ہے، اور چین، یورپ اور دیگر سرد ممالک میں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ اسے ایک پرتعیش غذا کا درجہ حاصل ہے۔
احمد ندیم نے بتایا کہ جسمانی طاقت کو بڑھانے کے علاوہ کیلشیم زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ریڑھ کی ہڈی کی مضبوطی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
’ماضی میں سو روپے، آج لاکھوں روپے‘
اس قیمتی مچھلی کو انگریزی میں کروکر، اردو میں سوا اور بلوچی میں کر کہا جاتا ہے۔
یہ مچھلیاں جیونی کے ساحلی علاقوں سے پکڑی گئی جو ایرانی سرحد سے 17 کلومیٹر دور ہے۔
محکمہ فشریز کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمد ندیم نے بتایا کہ ماضی میں یہاں پکڑی جانے والی مچھلیوں کے علاوہ ایران سے بھی ماہی گیر ان مچھلیوں کو فروخت کے لیے گوادر لاتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مچھلی کے ایئر بلیڈر کو یہاں نکال کر خشک کیا جاتا تھا اور بعد میں اس کو سری لنکا بھیجا جاتا تھا جو کہ بمشکل سو روپے میں بکتا تھا۔
فشریز کے سینیئر افسر نے بتایا کہ بعد میں اس کے فروخت کا سلسلہ کراچی میں شروع ہوا اور یہ زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار روپے میں فروخت ہوتا تھا لیکن اب تو یہ لاکھوں میں فروخت ہو رہا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اب کولنگ ٹیکنالوجی کی وجہ سے کروکر کے ایئر بلیڈر کو یہاں نہیں نکالا جاتا بلکہ ان کو کراچی لے جایا جاتا ہے تاکہ یہ ضائع یا خراب نہ ہوں۔

،تصویر کا ذریعہAhmed Ali
ایئر بلیڈر کے سائز کے حساب سے قیمت کا تعین ہوتا ہے
احمد ندیم نے بتایا کہ یہ ایئر بلیڈر نر اور مادہ دونوں میں ہوتے ہیں لیکن نر میں اس کا سائز بڑا ہوتا ہے۔ ’اگر یہ بڑا ہوا تو اس کی قیمت اس حساب سے زیادہ ہوتی ہے اور چونکہ جو کروکر بعد میں پکڑی گئی، اس کے بلیڈر کا سائز پہلے والی کے مقابلے میں زیادہ بڑا تھا، اس لیے یہ کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوا۔
اس سے قبل 26 کلو وزنی کروکر پکڑنے والے ماہی گیر عبدالحق کے چچا زاد بھائی راشد کریم نے بتایا کہ اس مچھلی کو پکڑنے کے لیے دو ماہ تک جتن کرنے پڑتے ہیں اور یہ اتنی طویل کوشش کے بعد اگر کسی دن آپ کے جال میں آجائے تو خوشی تو بنتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ عبدالحق اور ان کے ساتھی معمول کی ماہی گیری میں مصروف تھے کہ جال پھینکنے کے بعد جب اُنھوں نے اسے باہر کھینچ لیا تو اس میں ایک کروکر مچھلی تھی۔
ان کا کہنا تھا مارکیٹ میں جب اس کی بولی لگنی شروع ہوئی تو اس کی آخری بولی لگی 30 ہزار روپے فی کلو پر آ کر رک گئی اور اس طرح یہ سات لاکھ 80 ہزار روپے میں فروخت ہو گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ مچھلی کر، کر کی آواز نکالتی ہے اور جو ماہر ماہی گیر ہوتے ہیں وہ اس کی آواز کا اندازہ لگا کر وہاں اپنا جال پھینک کر اس کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
راشد کریم بلوچ نے بتایا کہ اس مچھلی کی آواز سننے کے بعد ماہی گیر اپنا جال اس علاقے میں پھینکتے ہیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ جب گھنٹہ ڈیڑھ کے بعد اس کی آواز بند ہوتی ہے تو پھر جال کو باہر کھینچا جاتا ہے اور مچھلی کو نکال لیا جاتا ہے۔










