سندھ اسمبلی میں لازمی شادی بل 2021 کا ڈرافٹ جمع: کیا جلدی شادی سے ریپ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکا جا سکتا ہے؟

    • مصنف, ثنا آصف ڈار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’18 برس کی عمر میں شادی سے معاشرتی خرابیوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔ جلدی شادی سے معاشرے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں اور بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔‘

یہ الفاظ سیاسی پارٹی ’جماعت اسلامی‘ کے ایک رکن سید عبدالرشید کے ہیں، جو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے ’سندھ لازمی شادی ایکٹ 2021‘ کے عنوان سے سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک پرائیویٹ بل پیش کیا ہے۔

اس مجوزہ بل کے ڈرافٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ والدین 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے اپنے بچوں کی لازمی شادی کروائیں اور اگر والدین ایسا کرنے میں تاخیر کرتے ہیں تو وہ ضلعی انتظامیہ کو ٹھوس وجوہات کے ساتھ تحریری طور پر آگاہ کریں۔

اس مجوزہ بل کے ڈرافٹ کو صوبائی اسمبلی میں جمع کروائے جانے کے بعد اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ اس بل کا مقصد معاشرتی خرابیاں، بچوں کے ساتھ ریپ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کا سدباب کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ بل نجی حیثیت میں جمع کروائے جانے والا بل ہے اور قوی امکان یہی ہے کہ متعدد پرائیویٹ ممبرز بل کی طرح شاید یہ منظوری کے ابتدائی مرحلے تک نہ پہنچ پائے۔

تاہم ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں ایک جانب اس پر تنقید ہو رہی ہے وہیں کئی صارفین یہ پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ آخر جلدی شادی سے ریپ کے واقعات کو کم کرنے کی کیا منطق ہے؟

ایک صارف نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا: 'مجھے یقینِ کامل ہے کہ 70 فیصد ریپ شادی شدہ مرد کرتے ہیں۔' تاہم انھیں اتنا یقین کیوں ہے اس کا کوئی ثبوت انھوں نے پیش نہیں کیا، مگر یہ ان کی رائے ہے۔

نازش بروہی نے لکھا ’ایسے کچھ لوگ ہوں گے جو سمجھتے ہیں کہ اس سے (بل کے پاس ہونے سے) ریپ میں کمی آئے گی۔‘

بہت سے صارفین اسمبلی کی کارروائی سے ناواقف ہونے کے باعث اس بل کی بنیاد پر سندھ حکومت پر تنقید کرتے نظر آئے۔ سندھ حکومت کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد بختاور بھٹو زرداری نے وضاحت دی کہ ’یہ بل جماعت اسمبلی کے ممبر صوبائی اسمبلی نے تجویز کیا ہے اور پی پی پی اسے بلڈوز (مسترد) کر دے گی۔‘

مگر سوال یہ ہے کہ آیا ریپ اور شادی میں تعلق کیا ہے؟

ہم نے لڑکے لڑکیوں کی جلد شادی سے ریپ کے واقعات میں کمی لانے کے نقطہ نظر کے حوالے سے غیر سرکاری تنظیم ’وار اگینسٹ ریپ‘ (ریپ کے خلاف جنگ) سے وابستہ سدرہ ہمایوں سے بات کی۔

سدرہ نے کہا کہ ’ریپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ایک تشدد ہے جبکہ شادی ایک بہت مقدس اور پیارا رشتہ ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’شادی میں بیشتر لوگوں کو فوری طور پر سیکس کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے تو وہ فوری طور پر شادی کو سیکس اور ریپ کو جوڑ لیتے ہیں لیکن یہ دونوں بہت مختلف چیزیں ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ شادی میں بھی جسمانی تعلق قائم ہوتا ہے اور ریپ میں بھی جسمانی تعلق قائم ہوتا ہے تو لہذا یہ ایک ہی چیز ہے۔‘

’یہ بالکل ایک چیز نہیں بلکہ ریپ تشدد ہے۔ جو پُرتشدد ذہن ہو گا، وہ کسی پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایسا کرے گا۔ شادی اور ریپ کو ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا اور اس غلط فہمی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔‘

سدرہ کہتی ہیں کہ اس بات کا بھی آپس میں کوئی جوڑ اور تعلق ہی نہیں کہ شادی کر دینے سے معاشرے میں موجود جنسی تشدد کم ہو جائے گا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک مائنڈ سیٹ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ جنسی تعلق قائم کرنے سے معاشرے میں بے راہ روی کم ہو جائے گی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’میرے سے ہزاروں ایسے خاندان رابطہ کرتے ہیں جن میں شوہروں کو پورنوگرافی دیکھنے کی شدید عادت ہوتی ہے۔ پس ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات کسی طور پر بھی بجا نہیں کہ جلدی شادیاں بے راہ روی کو روکیں گی۔ شادی اگلی نسل کی پرورش کے لیے کی جاتی ہے نہ کہ سیکس کا تعلق قائم کرنے کے لیے۔‘

غیر سرکاری تنظیم ’سرچ فار جسٹس‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افتحار مبارک نے اس بارے میں بی بی بسی اردو کو اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے خیال میں جنسی زیادتی اور ریپ جیسے واقعات کو روکنے کی یہ کوئی سود مند تکنیک نہیں۔

انھوں نے لاہور موٹروے ریپ کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ریپ کرنے والا شادی شدہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس بل کو تجویز کرنے والے رکن اسمبلی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ انھوں نے دنیا کے کس حصے میں یہ دلیل، منطق یا کوئی تحقیق دیکھی ہے کہ نوجوانوں کی جلد شادی سے ریپ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

افتحار مبارک نے کہا کہ بچوں کو ریپ جیسے تلخ تجربے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس بارے میں حکومتی سطح پر کوئی واضع حمکت عملی ترتیب دی جائے۔

’اس معاملے پر وزیراعلیٰ کے لیے خصوصی مشیر ہونا چاہیے، بچوں کے لیے قانونی چارہ جوئی کا نظام ہونا چاہیے، ایسا واقعہ ہو جانے کی صورت میں بچوں کی نفسیاتی مدد کا نظام ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے سید عبدالرشید کے بیان کو جلد بازی میں دیا گیا بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ریپ کو روکنے کے لیے جلدی شادی کی تجویز کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں۔

’وار اگینسٹ ریپ‘ کی سدرہ ہمایوں نے کہا کہ ’پاکستان میں 18 سال کے بچوں کو یہ ذہنی تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ جلدی شادی کر کے سیکس کرنے کے بارے میں نہ سوچیں بلکہ وہ یہ سوچیں کہ انھوں نے سائنسدان بننا ہے، انجینئیر بننا ہے اور انھوں نے ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’ہمیں اس چیز کو اپنی عورتوں کی ذہنی تربیت اور مردوں کے جسمانی اور ذہنی رویوں میں شامل کرنا ہو گا۔‘

اس بل پر تنقید کرتے ہوئے منصف نامی صارف نے لکھا کہ پتا چلا ہے کہ 18 برس کی عمر میں شادی کا بل آیا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ شاید ہم ملک سے دوسرے تمام مسائل کا خاتمہ کر چکے ہیں جو اب یہ بحث شروع ہو گئی ہے۔ ’یہ راز ہے کہ ان کا دماغ ایسے کیسے کام کرتا ہے۔‘