کووڈ 19: کیا پاکستان میں بسنے والے افغان پناہ گزین ویکسین لگوا سکتے ہیں؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’میں اپنی ماں کے لیے فکر مند ہوں، ان کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ ہے۔ محلے میں باقی لوگوں کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین دی جا رہی ہے، ہمیں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ ویکسین لگانا اچھا بھی ہے یا نہیں؟‘

صالحہ ایک افغان طالبہ ہیں جن کے والد نہیں ہیں۔ وہ تین بہنیں ہیں اور ان کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے جس کی عمر لگ بھگ دس سال ہے جو ان دنوں بیمار ہے۔

صالحہ نے بتایا کہ انھیں نہیں معلوم کے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانی بھی چاہیے یا نہیں کیونکہ اس بارے میں مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں لیکن ان کی سوچ یہی ہے کہ جب دنیا بھر میں ویکسین لگا رہے ہیں تو ہم اس سے محروم کیوں ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’دنیا میں وائرس پھیل چکا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین انتہائی ضروری ہے۔‘

تاحال پاکستان میں مقیم لگ بھگ 25 لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کے لیے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کا کوئی باقاعدہ نظام قائم نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ صرف ان افغان شہریوں کو ویکسین دی جا رہی ہے جن کے پاس افغان پاسپورٹ ہیں اور انھیں ان کے پاسپورٹ نمبر سے رجسٹر کیا جاتا ہے جس کے بعد انھیں ویکیسن دی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کے سیکرٹری صحت سید امتیاز حسین شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان پناہ گزینوں کو ویکسین لگانے یا نہ لگانے کی پالیسی مرکز سے آئے گی اور جیسی پالیسی بھی مرتب کی جائے گی وہ اس پر عملد در آمد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صرف ان افغان پناہ گزینوں کو ویکیسن لگائی جا رہی ہے جن کے پاس افغان پاسپورٹ ہیں۔ لیکن ایسے بھی کئی افغان پناہ گزین ہیں جن کے پاس پاکستان میں اپنے دستاویزات نہیں۔

’بعض پناہ گزین وائرس سے خوفزدہ ہیں‘

افغان طالبہ صالحہ کی والدہ کا نام زینب ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس مہاجر کارڈ ہے مگر کوئی پاسپورٹ نہیں اور وہ نہیں جانتیں کہ ان کے کارڈ پر کیا انھیں ویکسین دی جا سکے گی یا نہیں۔

زینب فارسی زبان سمجھتی ہیں مگر اردو بولنے اور سمجھنے میں انھیں مشکل درپیش تھی۔ انھوں نے بتایا کہ جیسے دیگر لوگوں کو پاکستان میں سہولیات دستیاب ہیں ویسے افغان پناہ گزینوں کو بھی ملنی چاہیے۔

امین اللہ بھی افغان پناہ گزین ہیں اور پشاور کے ایک پناہ گزینوں کی بستی میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے کیمپ میں کچھ لوگ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور پھر وہ علاج کے لیے ہسپتال گئے تھے لیکن اب تک کسی کو ویکسین نہیں دی گئی۔ .

’ہمارے ہاں تو ایسے لوگ ہیں جو اس وائرس سے متاثر نہیں ہوئے۔ وہ اسے جھوٹ سمجھتے ہیں اور انھیں یقین نہیں ہے کہ وائرس موجود ہے لیکن جب وہ اس سے بیمار ہو جاتے ہیں پھر خوفزدہ بھی ہوتے ہیں اور علاج کے لیے بھاگ دوڑ بھی کرتے ہیں۔‘

امین اللہ کی عمر 21 برس ہے لیکن وہ ایک بڑے خاندان کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں ان کے والد سب سے بڑے ہیں اور پھر ان کے پندرہ بھائی ہیں۔ ان سب کی اولادیں ہیں۔ ’ہم پانچ بھائی ہیں۔ میں سبزی کی دکان پر وقت دیتا ہوں اور ساتھ تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوں۔‘

امین اللہ کا کہنا تھا کہ ویکسین تو وقت کی ضرورت ہے لیکن انھیں ایسا کوئی پیغام نہیں ملا کہ وہ اپنے مہاجر کارڈ پر رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندان میں لگ بھگ دس ایسے بزرگ ہیں جنھیں اس ویکسین کی اشد ضررت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اسی طرح اوسط عمر یعنی چالیس سال سے زیادہ کے افراد بھی ہیں لیکن جیسے پاکستان کے شہریوں کو ویکسین دی جا رہی ہے ویسے انھیں کوئی ویکسین نہیں دی جا رہی۔

کتنے افغان شہری، کتنی افغان بستیاں؟

پاکستان میں اس وقت قریب 14 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ افغان پناہ گزین ہیں جبکہ آٹھ لاکھ سے زیادہ ایسے ہیں جن کے پاس یہاں پی او آر (پروف آف رجسٹریشن) کارڈ تو نہیں ہیں لیکن ان کے پاس یہاں رہنے کے دستاویز ہیں جبکہ اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ افغان بھی رہتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت 53 افغان بستیاں ہیں۔ ماضی میں انھیں افغان مہاجر کیمپ کہا جاتا تھا لیکن اب انھیں افغان بستیوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ان میں 42 بستیاں خیبر پختونخوا، 10 بستیاں بلوچستان اور ایک بستی صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی میں ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں افغان شہروں میں بھی آباد ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ان افغان پناہ گزینوں کی تعداد 25 لاکھ سے زیادہ بنتی ہیں لیکن ان کے لیے ویکسین کا کوئی انتظام اب تک نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ افغان بستیاں تیزی سے وائرس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

کن افغان پناہ گزینوں کو ویکسین دی جا رہی ہے؟

پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں ایسے افغان شہری بھی رہتے ہیں جن کی پیدائش یہاں پاکستان میں ہوئی ہے۔ ان کی عمریں اب تیس سے چالیس سال تک ہو چکی ہیں لیکن انھیں اب تک شناخت نہیں مل سکی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر نے افغان پناہ گزینوں کی ویکسینیشن کے لیے بیان تو جاری کیا تھا لیکن تاحال اس بارے میں کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

اس بارے میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر آفریدی سے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ مرکزی سطح پر حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کو بھی ویکسین دی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ این سی او سی کے اپریل میں منعقد ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تمام غیر ملکیوں، بشمول ان افغان پناہ گزینوں کو جن کے پاس پی او آر کارڈز ہیں، کو کووڈ ویکسین دی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق بعض ایسے افغان شہریوں کو رجسٹر کیا گیا ہے اور بعض ایک کو ویکسین کی پہلی خوراک بھی دی گئی ہے۔

انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ جن افغان شہریوں کو رجسٹر کیا گیا ہے ان کے پاس افغان پاسپورٹ ہیں یا پی او آر کارڈز۔

اس بارے میں یہاں کیمپوں میں موجود افغان پناہ گزینوں سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تاحال ان کے علم میں نہیں ہے کہ کسی کو ویکسین دی گئی ہے۔

اس بارے میں محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ اب تک ایسا فیصلہ نہیں ہوا کہ تمام افغان پناہ گزینوں کو ویکسین دی جائے گی۔ ’صرف انھیں ویکسین دی جائے گی جن کے پاس افغان پاسپورٹ ہیں، کارڈ پر ویکسین دینے کا فیصلہ اب تک نہیں ہوا۔‘

پشاور میں افغان قونصل خانے کے حکام کا کہنا تھا کہ افغان کمشنریٹ اور یو این ایچ سی آر کے حکام اس بارے میں حکومت پاکستان سے بات چیت کر رہے ہیں مگر انھیں اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔

زینب، صالحہ اور امین اللہ کی طرح افغان بستیوں اور پاکستان کے شہروں میں رہنے والے افغان پناہ گزین بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں اور اس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسے میں ماہرین کا خیال ہے کہ کووڈ 19 کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے افغان پناہ گزین کو بھی ویکسین دینا اتنا ہی ضروری ہے۔