کووڈ 19: کورونا کی وبا سندھ میں دستکاری سے منسلک خواتین کا روزگار کیسے متاثر کر رہی ہے؟

    • مصنف, نادیہ آغا
    • عہدہ, پروفیسر

’مجھے ٹک، کڑھائی، سلائی اور سندھی ٹوپی بنانے میں مہارت حاصل ہے جس کی آمدن سے میں اپنا گھر چلاتی ہوں۔ کورونا کی وبا نے میری زندگی بہت متاثر کی ہے کیونکہ میرے شوہر اور بیٹے کی دہاڑی ختم ہو گئی، مجھے بھی کام ملنا تقریباً بند ہو گیا ہے اور اب نوبت فاقوں تک آ گئی ہے۔‘

یہ کہنا ہے 40 سالہ عزت بی بی کا جو اپنے آٹھ بچوں کے ہمراہ ضلع دادو کے شہر میہڑ میں رہتی ہیں۔

اگرچہ میہڑ شہر میں تعلیم کی سہولیات موجود ہیں لیکن دیہاڑی دار لوگ بچوں کو پڑھانے کے بجائے چھوٹے موٹے کاموں پر لگا دیتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔

عزت کے شوہر کراچی میں بطور دہاڑی دار مزدور کام کرتے تھے مگر چونکہ اُن کی کمائی سے گھر کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہو پاتی تھیں اس لیے عزت بی بی خود سلائی کڑھائی کا کام کر کے اپنے بچوں کو پالتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ سال مارچ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے بعد لگنے والی پابندیوں کے باعث پہلے عزت بی بی کو کام ملنا کم ہوا اور پھر یہ سلسلہ لگ بھگ مکمل طور پر رُک گیا۔

اور ایسا صرف عزت بی بی کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ اُن جیسی بہت سی دیگر عورتیں کے ساتھ بھی جن کا روزگار سلائی کڑھائی کے کام سے جڑا ہے۔

عزت بتاتی ہیں کہ پہلے وہ روزانہ تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے کام کرتی تھیں۔ وہ سندھی ٹوپی کا خام میٹیریل تقریباً دو سے تین سو روپے میں حاصل کرتیں اور مہینہ بھر اس پر محنت کر کے تقریباً بیس ہزار ماہانہ تک کما لیتی تھیں۔

صوبہ سندھ کے دیہی علاقوں کی خواتین ایسے بہت سے کاموں میں مہارت رکھتی ہیں جو گھر سے کیے جا سکتے ہیں۔ ان کاموں میں دستکاری، ایپلک (ٹک) دھاگے کی کڑھائی، سندھی ٹوپی اور رلی بنانا قابل ذکر کام ہیں۔

دیہی خواتین کو ان کاموں کے لیے بچپن سے تیار کیا جاتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت وہ ان کاموں کے ذریعے اپنا گزر بسر کر سکیں۔ تاہم کورونا کے باعث لگنے والی پابندیوں اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی نے ان خواتین کے روزگار کو بہت حد تک متاثر کیا ہے اور کئی خواتین کا کام تو ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

عزت بی بی بتاتی ہیں کہ ’کورونا سے قبل سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا مگر اب اس وبا نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ میں اپنے خاوند کے ساتھ گھر کو بہت اچھے طریقے سے چلا رہی تھی۔ آٹھ دن مسلسل کام کر کے ایک سندھی ٹوپی بناتی تھی جس کے مجھے آٹھ سو سے دو ہزار روپے تک ملتے تھے۔ یہ پیسے میرے بچوں کی پڑھائی، کھانے پینے اور بیماری میں کام آتے تھے۔ گذشتہ لاک ڈاؤن کے بعد میں نے کڑھائی کی ہوئی چیزیں اپنے بیٹے کو دے کر مارکیٹ بھیجا مگر وہ مایوس واپس آیا۔‘

عزت نے کورونا کا دور بہت تکلیف میں گزارا ہے: خریداروں سے دوری، کام کا نہ ملنا اور پیسہ نہ کمانے کی وجہ سے انھیں گھریلو امور چلانے میں بہت دشواری پیش آ رہی ہے۔

’گذشتہ عید پر میں اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے نہیں بنوا سکی تھی، پرانے کپڑوں میں ہی عید منانا پڑی۔ میری تو خیر ہے پر بچوں نے نئے کپڑوں اور جوتوں کے لیے بہت ضد کی۔‘

کووڈ 19 کی وجہ سے پاکستانی معیشت سست ہوئی ہے اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور اسی لیے عزت بی بی جیسی گھر سے کام کرنے والی خواتین کی زندگیوں بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ عزت نے کڑھائی اور سندھی ٹوپی کا کام کرنا بند کر دیا ہے۔ اب وہ کوئی ایسا کام کرنے کا سوچ رہی ہیں جس کی ضرورت لوگوں کو ہر وقت ہو۔

اور پھر انھیں سندھی ٹوپی کے بجائے کپڑوں کی سلائی کا کام کرنے کا سوچا کیونکہ عید ہو یا شادی لوگ کپڑے ضرو ر سلواتے ہیں۔ یہ سوچ کر عزت نے آس پاس کی خواتین کے کپڑے سینا شروع کر دیے تاکہ فاقہ کشی جیسے حالات سے ان کا خاندان باہر نکل سکے۔

کورونا وبا کی وجہ سے بہت سی گھروں سے کام کرنے والی خواتین صدمہ کے شکار ہوئی ہیں۔ زیادہ تر جو مرد کماتے ہیں وہ کھانے پینے میں استعمال ہو جاتا ہے اور ایسے گھرانوں میں عورت کا کمایا ہوا پیسہ گھر کی بہتری، بچوں کی پڑھائی، صحت اور بیماریوں پر خرچ ہوتا ہے، اسی وجہ سے عورت کا کام خاندان کی بہتری اور حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔

30 سالہ فرزانہ ضلع شکارپور کے شہر خانپور کے نزدیک ایک گاؤں میں رہتی ہیں۔ فرزانہ کو سلائی، رلی بنانے اور بلوچی کڑھائی پر مہارت حاصل ہے۔ گھر میں چار بچوں کے علاہ شوہر, ساس اور سسر بھی ہیں۔

فرزانہ کے گاؤں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات نہیں ہیں اورگاؤں والے ان سہولیات کے حصول کے لیے قریبی شہر خانپور آتے ہیں۔

فرزانہ دن میں پانچ، چھ گھنٹے کام کر کے ایک رلی آٹھ دنوں میں بنا لیتی ہیں۔ رلی کا خام سامان تقریباً ایک ہزار میں آتا ہے اور پھر وہ رلی فرزانہ اٹھارہ سو سے دو ہزار میں فروخت کرتیں اور اس طرح وہ ماہانہ 15 ہزار روپے کما لیتی تھیں۔ اس کے شوہر ایک غریب کسان ہیں۔ گھر کے اخراجات میں جو کمی بیشی رہ جاتی وہ فرزانہ اپنے کمائے ہوئے پیسوں سے پوری کر لیتیں تھیں۔

’میں اپنی سلائی کڑھائی کا کام سکولوں کی خواتین اساتذہ کو فروخت کرتی رہی ہوں۔ گذشتہ برس جب لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تھا تو ایک گہری خاموشی نے مجھے جکڑ لیا تھا۔ سکولوں کے بند ہونے کا مطلب تھا کہ میرا رابطہ اپنے گاہکوں اور خریداروں سے ختم ہو جائے گیا۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔‘

’لگ بھگ سات ماہ تک مجھے کوئی کام کوئی آرڈر نہیں ملا۔ میرا شوہر ایک کسان ہیں، وہ کھیتوں سے جو کچھ لے کر آتے تھے ہم اس پر گزارہ کرتے، کورونا کی وبا کی وجہ سے مجھے اور میرے بچوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اللہ کرے ہمیں جلد اس وبا سے چھٹکارہ ملے۔‘

فرزانہ جسی خواتین پہلے ہی اپنے کام کی کم اجرت کی وجہ سے نقصان اٹھا رہی تھیں۔ اب کاروباری سرگرمیاں سست ہونے کی وجہ سے ان کے کام کی قدر اور بھی کم ہوگئی ہے۔ مڈل مین اگر آتا بھی تو ان کی بنائی ہوئی چیزوں کو بہت کم دام میں لے کر جاتا ہے جس کی وجہ سے فرزانہ اور ان جیسی دیگر خواتین نے آہستہ آہستہ کام کرنا بند کر دیا ہے۔

عزت اور فرزانہ جیسی دیہی خواتین اور ان کے خاندان اب کسی معجزے کے یا سرکاری مدد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

صوبہ سندھ میں گھروں سے کام کرنے والی خواتین کی زیادہ تعداد گاؤں میں رہتی ہے اور ان علاقوں میں غربت بہت زیادہ ہے اسی لیے پابندیوں میں کچھ حد تک نرمی کے بعد شروع ہونے والی کاروباری سرگرمیوں نے انھیں ایک امید تو دکھائی تاہم دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے درکار سرمایہ ان کے پاس نہیں بچا تھا۔

گذشتہ کچھ عرصے میں عزت اور فرزانہ کو آہستہ آہستہ کام ملنا شروع ہوا مگر ان کے پاس کوئی سرمایہ نہیں تھا جس کی مدد سے وہ خام مال خرید سکیں اور سلائی کڑھائی کا کام پھر سے شروع کر سکیں۔

عزت نے بتایا کہ اس نے بینک سے مائیکرو فنانس قرض کے لیے درخواست دے دی ہے کیونکہ کام کے آغاز کا یہ ہی ایک حل ہے۔

’اللہ کا شکر ہے کہ میرا کام شروع ہوا ہے۔ کچھ نیا کام آیا ہے اور کچھ پرانا رکھا ہوا کام میں نے مارکیٹ فروخت کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ کافی مہینوں کے بعد میں کچھ رقم کما سکوں گی۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہوا تو جلد میں اپنا لیا ہوا قرض بھی چکا دوں گی۔‘