پشاور موٹروے پر ہلاک ہونے والا اہلکار: سب کی مدد کرنے والے نرم دل عدیل کا کیا قصور تھا؟

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

'سید عدیل علی کی ہلاکت نے پورے خاندان کو مسائل کا شکار کر دیا ہے۔ انھوں نے کئی سال تک بے انتہا غربت اور مسائل دیکھے تھے۔ اب کچھ حالات بہتر ہوئے تو ظالم نے بغیر کسی گناہ کے ہمارا بھائی مار کر ہمیں زندہ درگور کردیا ہے۔'

یہ کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے ایم ون موٹر وے پشاور ٹول پلازہ کے قریب ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش میں زخمی ہو کر گزشتہ شام ہلاک ہونے والے موٹر وے پولیس اہلکار سید عدیل علی کے بھائی سید مبشر علی کا۔

یہ بھی پڑھیے

سید عدیل علی کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر پشاورکے علاقے گل بہار سے ہے۔ سید عدیل علی نے موٹر وے پولیس میں شمولیت کوئی دس سال پہلے اختیار کی تھی۔

ان کے سوگواروں میں ان کی اہلیہ اور ایک چار سالہ بیٹا شامل ہیں۔

ان کے بھائی سید مبشر علی کا کہنا ہے کہ دس بہن بھائیوں میں سید عدیل علی کا تیسرا نمبر تھا۔

سید مبشرعلی کے مطابق پورا خاندان مل کر رہتا ہے۔ وہ کہتےہیں 'سید عدیل علی صرف اپنی اہلیہ اور بیٹے ہی کے کفیل نہیں تھے بلکہ وہ ہماری والدہ کا خیال رکھنے کے علاوہ ہماری دو بیوہ چاچیوں اور ایک بیمار چچا کے بھی کفیل تھے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'میری والدہ اور بھابی بار بار پوچھ رہی ہیں کہ سید عدیل علی کا قصور کیا تھا؟ وہ تو ہر ایک کی مدد کرتا تھا۔ اس نے تو کبھی کسی سے جھگڑا تک نہیں کیا تھا۔'

'بھابھی کہہ رہی ہیں کہ عدیل نے اس دفعہ کی عید کی چھٹیاں کوہاٹ اپنے سسرال میں گزارنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ جہاں پر سسرال والوں نے عدیل کے لیئے خصوصی تیاری کرنا شروع کر دی تھی تاکہ عدیل ان چھٹیوں میں اچھے سے تفریح کے علاوہ آرام بھی کر سکے۔'

موٹر وے حادثے میں ہوا کیا تھا؟

ڈی آئی جی موٹر وے زون اشفاق احمد کے ترجمان انسپکٹر ثاقب وحید کے مطابق سات روز قبل اسلام آباد سے موٹر وے پر داخل ہونے والی ایک گاڑی کو دو مرتبہ 155 اور 160کلومیٹر کی تیز رفتار پر چلتے ہوئے پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

انسپکٹر ثاقب وحید کہتے ہیں 'اس گاڑی کو دو دفعہ روکنے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہ نہیں رکے جس کے بعد پشاور ٹول پلازہ پر پیغام بھیجا گیا کہ گاڑی کو ٹول پلازہ پر روکا جائے، جہاں پر ہمارے تین اہلکاروں نے گاڑی کا نمبر دیکھ کر گاڑی کو روکا تو انھوں نے ہمارے اہلکار سید عدیل علی کو ٹکر دے ماری۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ملزم کی گاڑی کی ٹکر سے ہمارے اہلکار ہوا میں اچھلے اور پھر سر کے بل زمین پر آکر گرے جس سے ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ وہ سات روز تک کومے کی حالت میں زیر علاج رہے مگر منگل کی شام زخموں کی تاب نہ لاسکے۔'

انسپکٹر ثاقب ملک کا کہنا تھا کہ 'واقعہ کی وڈیوز دستیاب ہیں اور ان میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر ہمارے اہلکار کو نشانہ بنایا۔ صرف اتنا نہیں بلکہ ٹکر مارنے کے بعد وہ فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر ٹول پلازہ پر پہلے سے موجود گاڑیوں کی وجہ سے وہ بلاک ہوگئے اور ان کو گرفتار کر لیا گیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف تھانہ چمکنی میں موٹر وے پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کروا کر ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

تھانہ چمکنی میں مقدمہ ان کے ساتھی اہلکار منیر خان نے درج کروایا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 'اطلاع ملی کہ کار اوور سپیڈ کرتے ہوئے آ رہی ہے۔ جس پر اپنی نفری کو تربیت دے کر کار کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے ملازم سید عدیل علی پر چڑھائی کر دی، جو شدید زخمی ہو کر روڈ ہی پر گر پڑا اور اس کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

ملزم کو باقی نفری کے ہمراہ قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔'

تھانہ چمکنی پولیس کے مطابق مقامی عدالت نے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر کے ان کو جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل بھج دیا ہے۔

افطاری لینے نہیں پہنچے

سید عدیل علی کے چچا سید مشرف علی کا کہنا تھا کہ سید عدیل علی کی ڈیوٹی عموماً ٹول پلازہ کے پاس ہی ہوتی تھی۔ جب سے رمضان شروع ہوا تھا وہ اپنے ساتھیوں کے لیے گھر سے افطاری تیار کروایا کرتے تھے۔ جس کے لیے وہ روزانہ چھ بجے کے قریب اپنے گھر جاتے اور اپنے ساتھیوں کے لیے افطاری لے کر واپس ٹول پلازہ پہنچ جایا کرتے تھے۔

سید مشرف علی کا کہنا تھا کہ سید عدیل علی اپنے ساتھیوں کو تو افطاری میں کھانا وغیرہ کھلاتے تھے مگر خود کھجور سے افطاری کر کے کھانا گھر میں کھاتے تھے۔ ان کی والدہ نے ایک دن پوچھا کہ اتنی افطاری بنوا کر لے کر جاتے ہو تو خود گھر میں کھانا کیوں کھاتے ہو؟

انھوں نے والدہ کو جواب دیا کہ 'یہ کھانا اپنے ساتھیوں کے لیے بنواتا ہوں۔ ان کے گھر دور ہیں۔ اس سے مجھے دلی خوشی ملتی ہے۔ میرا گھر نزدیک ہے اس لیے گھر میں کھانا کھانا اچھا لگتا ہے۔'

سید مشرف علی کا کہنا تھا کہ حادثے والے دن سید عدیل علی اپنے وقت پر افطاری لینے نہیں پہنچے تو ان کے بیٹے نے شور مچانا شروع کر دیا جس پر عدیل علی کی والدہ نے اپنے دوسرے بیٹے کو بلایا کہ بچے کا من بہلانے کے لیے اس کو لے کر گیٹ پر جائے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد فون کال موصول ہوئی کہ سید عدیل علی حادثہ کا شکار ہوگئے ہیں۔

سید مشرف علی کے مطابق عدیل انتہائی ملنسار تھے۔ ان کو موٹر وے پر سفر کرنے والے تمام ڈرائیور ذاتی طور پر جانتے تھے۔ اکثر اوقات سوشل میڈیا پر ان کی ڈرائیوروں کو افطاری اور سحری دینے کی وڈیو وائرل ہوتی رہیں ہیں۔

عدیل ہمیشہ مدد اور خدمت کر کے خوش ہوتے تھے۔ ان کا یہ رویہ اپنے محلے، علاقے اور شہر میں مثالی تھا۔

دونوں میاں بیوی میں مثالی محبت تھی

سید مبشر علی کا کہنا تھا کہ عدیل کی شادی ارینج میرج تھی۔ ہماری بھابھی کا تعلق کوہاٹ سے ہے۔ شادی کے تھوڑے ہی دونوں میں دونوں کے درمیاں بہت زیادہ انڈر سٹیڈنگ پیدا ہو چکی تھی۔ دونوں کے درمیاں اتنا زیادہ احترام اور محبت کا رشتہ تھا کہ اس کی پورے خاندان میں مثالیں دی جاتی تھیں۔

سید مبشر علی کا کہنا تھا کہ بھابھی بھائی کے بغیر کوہاٹ نہیں جاتی تھیں۔ وہ انتظار کرتی تھیں کہ سید عدیل علی کو مہینے میں چار، پانچ چھٹیاں ایک ساتھ ملیں تو وہ ساتھ کوہاٹ جائیں۔ دونوں بس اس وقت ہی الگ ہوتے تھے جب عدیل کی ڈیوٹی ہوتی ورنہ وہ ہمیشہ ساتھ ساتھ ہی رہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جب سے حادثہ ہوا ہے اس وقت کے بعد سے بھابھی پر غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ ان کو کوئی بھی ہوش نہیں ہے۔ جب ہوش آتا ہے تو عدیل کا پوچھتی ہیں۔ بار بار کہتی ہے کہ عدیل تو انتہائی اخلاق والا ہے، اس نے تو کبھی کسی پر پولیس والا ہونے کا رعب بھی نہیں دیا، اس کو کیوں مارا گیا ہے۔'

'عدیل نے سخت ترین حالات دیکھے ہیں'

سید عدیل علی کے بچپن کے دوست سید فرحان علی کا کہنا ہے کہ زندگی میں عدیل نے بہت سخت حالات دیکھے تھے۔ ان کے والد کوئی پانچ سال پہلے وفات پا گئے تھے وہ زرعی ادوایات کا کام کرتے تھے، مگر ان کا کام چل نہیں رہا تھا۔ کئی سالوں سے وہ نقصاں برداشت کر رہے تھے۔

سید فرحان علی کا کہنا تھا کہ سید عدیل علی تقریباً دس سال پہلے موٹر وے پولیس میں بھرتی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ مختلف کام کیا کرتے تھے۔ جس میں ایک کام بارہ وولٹ بجلی کے ایڈیپٹر بنانا بھی تھا۔

گھر کے حالات اچھے نہیں تھے۔ جس وجہ سے سید عدیل علی اپنے دوسرے ساتھیوں کی نسبت کئی گھنٹے زیادہ کام کرتے تھے تاکہ ان کو کچھ زیادہ پیسے مل جائیں۔

سید فرحان علی کا کہنا تھا کہ جب موٹر وے پولیس کے لیے ملازمتیں آئیں تو انھوں نے اس کے لیے نہ صرف تیاریاں شروع کر دی تھیں بلکہ اپنی والدہ اورجاننے والوں سے دعا بھی کروایا کرتے تھے۔ موٹر وے میں بھرتی ہوکر بہت خوش تھے۔ جس کے بعد حالات بہتر ہونا شروع ہوئے تھے۔

شادی کے باوجود خرچے کے لیے اپنی تمام تنخواہ والدہ کو دے دیتے تھے۔ والدہ گھر کے اخرجات کے لیے کچھ پیسے رکھنے کے بعد باقی ان کو واپس کر دیتی تھیں۔

سید مبشر علی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ اپنی دوہ بیوہ چاچیوں کے علاوہ اپنے ایک بیمار چاچا کو انتہائی عزت واحترم سے پیسے دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ان کی تمام ضرورتیں پورا کرتے تھے۔ ان کے کھانے پینے کے علاوہ ان کی ادویات کا خیال رکھتے تھے۔

سید عدیل علی اکثر اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لیے تیار کرتے رہتے تھے۔ اس سے کہا کرتے تھے کہ اس کو پشاور کے سب سے بڑے سکول میں داخل کروائیں گے، بھلے ہی اس کی کتنی ہی فیس کیوں نہ ہو۔