آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریکِ لبیک کے مظاہروں میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار علی عمران اور محمد افضل میں کئی باتیں یکساں تھیں
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
لاہور میں حالیہ احتجاج اور مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے دونوں پولیس اہلکاروں کی کہانی میں ایک چیز واضح یکساں ہے۔ دونوں اپنے گھر والوں کے انتہائی قریب تھے اور بچوں سے بے حد پیار کرتے تھے۔ مگر اگر آپ ان کی کہانیاں دیکھیں تو ایک اور چیز بھی یکساں ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے دونوں کو معلوم تھا کہ ان کی آج واپسی شاید نہ ہو۔
کانسٹیبل علی عمران جب اپنے آخری ہنگامی ڈیوٹی پر گئے تو جانے سے پہلے انھوں نے اپنی بچوں کو جمع کر کے چوما۔ اسی طرح محمد افضل گذشتہ چند روز سے اپنے اہلِ خانہ کو کہہ رہے تھے کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو مجھے نارووال میں دفن کرنا۔
ان دونوں اہلکاروں کے سوگواران ان کے ساتھ عید منانے ک تیاری کر چکے تھے۔ مگر شاید یہ دونوں اہلکار جانتے تھے کہ یہ خوشی ان کے نصیب میں نہیں ہوگی۔
‘بیٹی کے لیے دہی بھلے لینے لوٹ گئے‘
53 سالہ پولیس اہلکار، محمد افضل رات کو ہنگامی ڈیوٹی پر جانے سے پہلے اپنی بیٹی کی خواہش پر اس کے لیے خصوصی طور پر دہی بھلے لینے گئے تھے۔
ڈیوٹی پر جاتے وقت انھوں نے گھر والوں سے کہا تھا کہ رات کا کھانا سب اکھٹا کھائیں گے۔ پولیس اہلکاروں کو گھر والوں کے ساتھ اکھٹے کھانا کھانے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔
احتشام طارق محمد افضل کے بھتیجے ہیں اور وہ بھی پولیس کانسٹیبل ہیں۔ احتشام طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد افضل نے سوگواروں میں پانچ بجے دو بیٹے اور تین بیٹیاں اور بیوہ شامل ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ محمد افضل نے رمضان سے قبل ہی اپنی تینوں بیٹیوں کو ان کی فرمائش کے مطابق عید کے کپڑے واقعے سے دو دن قبل دلائے تھے۔
احتشام طارق کا کہنا تھا کہ مجھے ان کی تینوں بیٹیوں نے بتایا ہے کہ تین چار دن سے ان کے والد اپنے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ ‘حالات کا کچھ پتا نہیں چلتا ہے، پتا نہیں کس وقت کیا ہو جائے، اگر مجھے کچھ ہو گیا تو مجھے ضلع ناروال نے اپنے آبائی علاقے شیرگڑہ میں اپنے والدین کے قدموں میں دفن کرنا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احتشام کا کہنا ہے کہ محمد افضل کی بیٹوں نے انھیں بتایا ہے کہ اس بات پر وہ اپنے والد سے بہت لڑئیں تھیں کہ وہ کیوں ایسی باتیں کر رہے ہیں مگر انھوں نے ہنس کر کہا تھا کہ یہ تو دنیا ہے اس میں کیا پتا چلتا ہے، ویسے ہی بات کررہا ہوں۔
احتشام طارق بتاتے ہیں کہ محمد افضل تھانہ گوال منڈی میں فرائض انجام دے رہے تھے اور ان کو ایمرجنسی ڈیوٹی کے لیے تھانہ شاہدرہ ٹاؤن طلب کیا گیا تھا۔ جب انھیں تھانہ شاہدرہ ٹاؤن طلب کیا گیا تو اس وقت انھوں نے اپنے گھر والوں کو فون کیا اور ان سے کہا کہ اگر ممکن ہو تو سب مل کر کھانا کھاتے ہیں، جس پر ان کے اہل خانہ نے ان کے پسندیدہ کھانے پکائے تھے۔
احتشام طارق کا کہنا تھا کہ جب وہ گھر کی طرف آرہے تھے تو ان کی بیٹی نے فون کیا کہ اس کے لیے دہی بھلے لائے جائیں جس پر وہ گھر کے قریب سے دہی بھلے لانے واپس چلے گئے تھے۔
‘عمران صرف ہمارا نہیں پورے علاقے کا فخر تھا‘
’علی عمران صرف ہمارے خاندان ہی کا سہارا نہیں تھا بلکہ وہ ہمارے پورے علاقے کا فخر تھا۔ ہمارے گاؤں میں آ کر دیکھیں اس وقت کہرام مچا ہوا ہے۔ ہر چھوٹا بڑا اشک بار ہے۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ علی عمران کا قصور کیا تھا کہ کہ اس کو اتنی بے رحمی سے قتل کیا گیا ہے۔‘
یہ الفاظ ہیں پولیس اہلکار علی عمران کے چچا محمد حفیظ کے۔ کانسٹیبل علی عمران لاہور کے تھانہ شالیمار می تعینات تھے اور تحریک لبیک کے احتجاج کے دوران ان کی ہلاکت ہوئی۔
علی عمران نے سوگواروں میں دو کم عمر بیٹے، ایک بیٹی اور بیوہ چھوڑی ہیں۔
محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ علی عمران اپنے بوڑھے ماں باپ کا سہارا ہونے کے علاوہ اپنے پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور ان سب کا بھی سہارا تھے۔
محمد حفیظ بتاتے ہیں کہ علی عمران ان کے بھتیجے اور ان کی اہلیہ، ان کی بھانجی ہے۔ ’مجھے میری بھانجی نے بتایا ہے کہ جس رات علی عمران ہلاک ہوا ہے، وہ اتنہائی عجیب و غریب رات تھی۔ دن کے وقت وہ ڈیوٹی پر گیا تھا تو شام کو کوئی پانچ چھ بجے واپس آ گیا تھا۔‘
’جس کے بعد اس کو رات کے وقت دوبارہ ڈیوٹی پر پہچنے کی کال آئی تھی۔ اس کے بعد پتا نہیں کیوں علی عمران کی حالت انتہائی غیر ہو گئی تھی۔ رات کے وقت ڈیوٹی پر جانے سے پہلے اس نے اپنے تینوں بچوں کو چوما۔ ان کو اپنے ساتھ لپٹایا۔‘
محمد حفیظ کہتے ہیں کہ مجھے میری بھانجی نے بتایا ہے کہ ’میں نے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے؟ کیا کر رہے ہیں؟ خیریت تو ہے؟ تو وہ جواب میں مجھے کہنے لگے کہ پتا نہیں مجھے کیوں عجیب سا محسوس ہو رہا ہے اور میں کچھ اچھا محسوس نہیں کر رہا۔‘
اس نے کہا کہ علی عمران نے ایک بار پھر اپنے بچوں سے پیار کیا اور ڈیوٹی پر چلے گے۔
علی عمران نے پورے خاندان کے عید کے نئے کپڑے پہلے ہی سے سلوا لیے تھے۔
محمد حفیظ بتاتے ہیں کہ مجھے میری بھانجی نے بتایا ہے کہ علی عمران کہتے تھے کہ رمضان میں ڈیوٹی سخت ہوتی ہے۔ جس وجہ سے گھر، شاپنگ وغیرہ کو وقت نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اس وجہ سے ہر سال کی طرح اس سال بھی عید سے قبل ہی انھوں نے مجھے بازار لے جا کر عید کی ساری شاپنگ کر لی تھی۔
’جس میں میں نہ صرف اپنے، بچوں کے کپڑوں کے علاوہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے کپڑوں اور دیگر اشیاء بھی خریدی تھیں۔‘
محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ علی عمران نے درزی کو کہہ دیا تھا کہ یکم رمضان کو ان کے تمام کپڑے تیار کر دے اور وہ ان کو لے جائیں گے۔ انھوں نے درزی کو تاکید کی تھی کہ یکم رمضان سے زیادہ تاخیر نہ ہو کیونکہ اس کے بعد وقت نہیں ہو گا۔
آج یکم رمضان ہے اور آج انھوں نے نئے کپڑے نہیں لیے بلکہ ان کا نئے کفن میں جنازہ اٹھا۔
‘وہ ہر ایک کی مدد کرتا تھا‘
محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ علی عمران جیسا کوئی بھی فرد ہمارے خاندان میں نہیں تھا۔ وہ عجیب و غریب انسان تھا۔ راہ چلتے اگر کوئی اس سے پیسے مانگتا تو وہ پیسے دے دیتا تھا۔ اگر کوئی اس سے مدد مانگتا تو فوراً مدد کرتا تھا۔ گاؤں میں اگر کسی کو کسی سرکاری دفتر میں مدد کی ضرورت ہوتی تو وہ کرتا تھا۔
کئی دفعہ ایسے ہوتا تھا کہ اگر کوئی پیسے مانگتا تو اس کی جیب میں جو کچھ ہوتا تھا وہ نکال کر دے دیتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ محمد حفیظ کے والدین نے بڑٖا سخت وقت دیکھا ہوا تھا۔ انھوں نے محنت مزدوری کرکے علی عمران کو پڑھایا تھا۔ علی عمران کے والد اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے۔ صبح اٹھ کر کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے پھر شہر چلے جاتے تھے۔
ان کا کہا تھا کہ علی عمران کو بھی اپنے والد کی محنت کا پورا احساس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پڑھائی میں بھرپور دل لگاتا اور جب وہ پولیس میں بھرتی ہوا تو ان کے حالات کچھ بہتر ہوئے تھے۔ جس کے بعد اس نے اپنے والد کو بھی مزدوری سے منع کر دیا تھا۔
اب لگتا ہے کہ اس کے والد کو ایک بار پھر اپنے پتیم ہونے والے پوتوں کے علاوہ اپنی دوسری اولاد اور اپنی بیٹیوں کے لیے محنت کرنا پڑے گی۔
‘سچا عاشق رسول‘
محمد حفیظ کا کہنا تھا ’میں بتاوں کہ علی عمران سچا عاشق رسول تھا۔ ایک دفعہ نہیں کئی مرتبہ ایسے ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص پیغمبرِ اسلام کی تعریف کر رہا ہوتا اور کوئی نعت پڑھ رہا ہوتا تو اس کو اپنی جیب سے سارے پیسے نکال کر دے دیتا تھا۔ ‘
’ایک دفعہ وہ میرے ساتھ موجود تھا جو ایک شخص نعت پڑھ رہا تھا۔ اس کو پسند آئی اور اس کو ایک ہزار روپے نکال کر دے دیے۔ میں نے کہا کہ کیا کرتے ہو تو کہنے لگا کہ چچا جان، میں سرکار کی تعریف سن کر خوش ہوا ہوں۔ جس نے تعریف کی ہے اس کو بھی خوش ہونا چاہیے۔
کانسٹیبل محمد افضل کی پراسرار ہلاکت
سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیو کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ کانسٹیبل محمد افضل کی ہلاکت کی ہے، تاہم کیپٹل سٹی پولیس لاہور کی جانب سے اس بات کی ضرور تصدیق کی گئی ہے کہ 'مظاہرین کے تشدد سے کانسٹیبل محمد افضل اور کانسٹیبل علی عمران' کی موت ہو گئی ہے جبکہ اس کے علاوہ مجموعی طور پر صرف لاہور شہر میں 97 افسران و اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
پرتشدد مناظر پر مبنی ویڈیوز گذشتہ دو روز سے پاکستان میں جاری ان مظاہروں کی ہیں جس میں مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان اپنے رہنما سعد رضوی کی حراست کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق ٹی ایل پی کے رہنما سعد رضوی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان پر دہشت گردی کے الزام سمیت مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین نے محمد افضل کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا اور ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ان اہلکاروں کی موت کا ذمہ دار کون ہوگا۔
ایک صارف ایلیا حارث نے کانسٹیبل محمد افضل کے جنازے کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ 'جب بچے پوچھیں بابا کہاں ہیں تو بول دینا ہم ہار آئے جان فرض ادا کرتے کرتے۔'
صارف سحر طارق محمد افضل کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ 'آج رات دل بہت بھاری ہے۔ کانسٹیبل افضل کی موت کے مناظر نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم کس قدر بے رحم اور پرتشدد بن گئے ہیں جہاں لوگوں کو صرف ان کا کام کرنے پر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔'
کالم نویس علی معین نوازش لکھتے ہیں کہ 'اگر ایک پولیس کانسٹیبل کی موت کے باوجود اس کے ذمہ دار بچ جاتے ہیں اور ریاست اپنی پوری قوت کے ساتھ ان لوگوں کے خلاف قدم نہیں اٹھاتی ہے جو اس موت کے ذمہ دار ہیں، تو ہم بحیثیت ایک قوم ناکام ہیں۔'
ایک اور صارف لکھتی ہیں کہ 'مجھے ایک نظم لکھنی تھی لیکن اب لکھنے کو بچا ہی کیا ہے، مجھ سے رونا ہی نہیں ختم ہو رہا۔'
دوسری جانب ٹی ایل پی کے حمایت میں بھی کئی صارفین ٹویٹ کرتے نظر آئے جس میں سے ایک محمد معاذ لکھتے ہیں کہ صرف پولیس کانسٹیبل کی تصاویر ٹویٹ نہ کریں بلکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھائیں۔
وہ لکھتے ہیں: 'جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ اگر ریاست اشتعال نہ پھیلاتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔'
وائرل ہونے والے ویڈیوز میں کیا ہے؟
ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین میں پولیس پر کیے جانے والے تشدد پر بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ملک کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والی بیشتر ویڈیوز میں سے ایک کے آغاز میں آواز سنائی دیتی ہے 'مارو مارو مارو پتھر مارو۔۔۔ اٹھاؤ اٹھاؤ پتھر اٹھاؤ۔'
یہ الفاظ شلوار قمیض پہنے، ہاتھوں میں ڈنڈے یا پتھر لیے افراد کے ہیں جنھوں نے پولیس کی وردی میں ملبوس اہلکار کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اسی طرح کی کچھ اور ویڈیوز میں نظر آتا ہے کہ نڈھال پولیس اہلکار ڈنڈا بردار افراد کے نرغے میں ہیں۔ کسی کے منھ سے خون بہہ رہا ہے تو کسی کے سر سے۔
ایک اور ویڈیو میں زمین پر گرے ہوئے پولیس اہلکاروں کو چند افراد بوتل سے پانی پلا کر بےہوش ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی نوعیت کی ایک اور ویڈیو میں آوازیں سنائی دیتی ہیں جس میں پولیس اہلکار کہہ رہے ہیں کہ 'میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، یہ درندے ہیں لوگ ہمارے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ہم نے ان کو ایک سٹک بھی نہیں ماری اور ان لوگوں نے ہمارا کیا حال کیا ہے۔ اگر پولیس تشدد کرتی ہے، تو ان پر خود بھی تشدد ہوتا ہے۔‘
ان پرتشدد مناظر والی ویڈیوز کے سامنے آنے پر پاکستانی سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں بحث جاری ہے۔ جہاں بیشتر صارفین یہ سوال پوچھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ پاکستان میں پولیس اہلکاروں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، تو چند ایسے صارفین بھی ہیں جو ٹی ایل پی کی حمایت میں بھی تبصرے کر رہے ہیں۔
لندن میں مقیم محقق اور پاکستان میں پولیس پر تحقیق کرنے والی ضُحیٰ وسیم نے اس حوالے سے متعدد سلسلہ وار ٹویٹس میں سوال کیا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ دو کم رینک والے پولیس اہلکاروں کی موت کے بعد ہی ہمیں احساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں پولیس کو اپنے ادارے اور معاشرے میں کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وہ لکھتی ہیں کہ 'اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پولیس کی جانب سے پاکستان کے شہریوں پر کیے جانے والے تشدد کو نظر انداز کر دیں، جس کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے۔ لیکن یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ اگر پولیس تشدد کرتی ہے، تو ان پر خود بھی تشدد ہوتا ہے۔'
ایک اور ٹویٹ میں وہ یہ پوچھتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ کیا پولیس کی قیادت نے اپنے اہلکاروں پر دو روز میں ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے یا نہیں۔
جیو سے وابستہ صحافی بینظر شاہ ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ 'ریاست کو پولیس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ یہ یونیفارم شاید اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا۔'
بینش عزیر نامی ایک صارف جو ٹوئٹر پر خود کو پاکستانی پولیس سے منسلک ظاہر کرتی ہیں، کا ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'یہ پولیس انسپکٹر ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے وہاں پر موجود ہے۔ ہماری حکومت کیسے یہ برداشت کر سکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پولیس ہی ہمارے گھروں اور ان غنڈوں کے درمیان ہے۔'
بینش عزیز اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہتی ہیں کہ 'ٹی ایل پی ایک ریاست مخالف جماعت ہے اور وہ اپنی ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ ملک کو یرغمال بنا لے۔ یہ دہشت گردی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے دہشت گردی ہی قرار دیا جائے۔'
ان کی اس ٹویٹ پر ڈان اخبار سے منسلک صحافی قراۃ العین لکھتی ہیں کہ 'حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ پولیس والے سرِعام اپنے خیالات سب کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔'
ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس سے وابستہ آمنہ بیگ نے ٹویٹ کیا کہ اس وقت مجھے اس فورس کا حصہ ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے جو ملک میں امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
البتہ دوسری جانب ایک صارف جنید حیات نے بینش عزیر کی اسی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اسی لیے پولیس اور فوج میں عورتوں کو شامل کرنا حماقت ہے۔‘
انھوں نے لکھا: 'فرانسیسی سفیر کی ملک سے بے دخلی صرف ٹی ایل پی کا مطالبہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک کے مسلمانوں کا مطالبہ ہے۔'