آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افواج پر بیجا تنقید پر سزا کا بل: مسلح افواج کا جانتے بوجھتے تمسخر اڑانے کے خلاف مجوزہ بل پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں شامل وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مسلح افواج اور اس کے اہلکاروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف قید اور جرمانے کی سزائیں تجویز کرنے والی قانون سازی کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے سینیئر صحافی مظہر عباس کے ایک ٹویٹ پر بحث کرتے ہوئے ایک حکومتی رکن قومی اسملبی کی طرف سے پیش کردہ اس بل پر لکھا کہ ’عزت کمائی جاتی ہے، مسلط نہیں کی جاتی۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک ایسے مجوزہ بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت مسلح افواج اور اس کے اہلکاروں پر جانتے بوجھتے تنقید کرنے والوں کو دو سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانے کی سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور جب مجوزہ بل پر ووٹنگ کروائی گئی تو اس کے حق اور مخالفت میں پانچ، پانچ ووٹ آئے۔ اس کے بعد چیئیرمین کمیٹی خرم نواز نے اس کے حق میں ووٹ دیا اور یوں یہ مجوزہ بل کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔
یہ کرمنل لا ترمیمی بل گذشتہ برس ستمبر میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن امجد علی خان کی جانب سے بطور پرائیویٹ بل پیش کیا گیا تھا لیکن اس موقع پر اس بل پر شدید تنقید کی گئی تھی جس کے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے وضاحت کی تھی کہ یہ بل ’پرائیویٹ ممبر‘ کا ہے، نہ کے حکومتی بل۔
اس مجوزہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سول عدالت میں کیس چلے گا۔
فواد چوہدری نے بھی اپنی ہی ایک جماعت کے رکن کی طرف سے اس بل پر تنقید کی ہے۔
فواد چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج پہلے سے ہی سب سے زیادہ قابل عزت ادارہ ہے اور اس حوالے سے پہلے ہی آئین میں ایسی شقیں موجود ہیں۔ اس بل پر تنقید کی وضاحت کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ایسی قانون سازی سے قوانین کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور سے توہین عدالت کے قانون کا بے دریغ غلط استعمال ہوا ہے جبکہ اب جدید دنیا کے ممالک ایسے قوانین کو سرے سے ہی ختم کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فواد چوہدری کے مطابق صرف ایسی قانون سازی پر تنقید نہیں کی جاتی جس کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہو جبکہ پرائیویٹ طور پر یعنی جو ارکان اسمبلی ذاتی حیثیت سے بل پیش کرتے ہیں ایسی قانون سازی پر وزرا کی طرف سے بھی تنقید کی جا سکتی ہے۔
فواد چوہدری کے بعد ایک اور وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی اس قانون سازی کی مخالفت کر دی۔ انھوں نے فواد چوہدری کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ وہ اس سے کلی اتفاق کرتی ہیں اور اس سے زیادہ وضاحت سے یہ بات نہیں کی جا سکتی کہ (ایسی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔)
یہ بھی پڑھیے
خیال رہے کہ گذشتہ روز پیش ہونے والے اس ترمیمی بل کے تحت مسلح افواج اور ان کے اہلکار جانتے بوجھتے کی جانے والی تضحیک، توہین اور بدنامی سے مبرا ہوں گے اور ایسا کرنے والے شخص کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 اے کے تحت کارروائی ہو گی جس کے تحت دو سال تک قید کی سزا، پانچ لاکھ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن راجہ خرم نواز کی زیرصدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بل پیش کیے جانے کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ممکن ہے کہ اس قانون کی آڑ میں آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
قائمہ کمیٹی سے بل کی منظوری کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ٹوئٹر پر صارف سمبل نقی کہتی ہیں کہ یہ بل سیاسی حریفوں اور عام شہریوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔
عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما اور محقق عمار رشید نے اس بل کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کے کئی قومی اداروں کی سربراہی حاضر سروس یا سابق فوجی افسران کر رہے ہیں اور اس بل کی وجہ سے کسی بھی قومی ادارے پر تنقید کرنا غیر قانونی ہو جائے گا۔
لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز سے منسلک محقق اور سماجی کارکن ندا کرمانی نے اس بل کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’تو کیا ہم اب بھی محکمہ زراعت، خلائی مخلوق، بوائز اور ایسے کسی بھی گروپ پر تنقید کر سکتے ہیں جن کا ہماری باوقار فوج سے کوئی تعلق نہ ہو؟‘
صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود نے بھی اس بل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’میں نیا قانون بننے کے بعد فوج کی توہین کر کے دو سال قید یا پانچ لاکھ جرمانہ ادا نہیں کر سکتا۔ ابھی سے اعلان کرتا ہوں۔ ایوب خان نے 56 کا آئین نہیں توڑا۔ یحییٰ خان نے پاکستان نہیں توڑا۔ ضیا الحق نے 11 برس کا وعدہ کر کے 90 دن میں انتخاب کروا دیا۔ مشرف نے دو بار آئین شکنی نہیں کی۔‘
دوسری جانب اس بل اور افواجِ پاکستان کی حمایت کے بارے میں بھی کئی صارفین نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی فوج قابل احترام ہے اور ان کے بارے میں مذاق نہیں کرنا چاہیے۔
ایک صارف شاہ رخ لکھتے ہیں کہ ’پاکستان آرمی کے خلاف بولنے والے سوچیں کہ کہیں وہ مغربی بیانیہ کو تو تقویت نہیں دے رہے کیونکہ پاکستان ارمی کو کمزور کرنا صرف ان کی خواہش ہو سکتی ہے۔‘
ایک اور صارف ہاشم بخاری نے لکھا کہ کوئی بھی شخص ہماری فوج کا مذاق اڑانے کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے جو نہ صرف ملک کے لیے امن کی ضمانت دیتی ہے بلکہ دنیا بھر میں ’پیس کیپرز‘ یعنی امن قائم کرنے والی فوج کہلائی جاتی ہے۔
بل میں کیا ہے؟
گذشتہ برس ستمبر میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا ہے جو کہ ملکی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی سے متعلق ہے۔
اس بل کو پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کرنے کے لیے کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 کا نام دیا گیا ہے۔
یہ بل پاکستان تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا تھا۔
اس بل میں یہ تجویز دی گئی کہ جو کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہو گا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
موجودہ قانون اور سزائیں کیا ہیں؟
اس وقت پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500 میں ہتک عزت کے خلاف سزا تو درج ہے مگر اس شق میں ملک کی مسلح افواج کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔
سیکشن 500 کے متن کے مطابق 'جب بھی کوئی، کسی دوسرے کی رسوائی، بدنامی کا باعث بنے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔'
ترمیمی بل میں اضافہ کی جانے والی شق 500۔الف یعنی (500-A) ہے اور اس کو 'مسلح افواج وغیرہ کے ارادتاً تمسخر اڑانے کی بابت سزا' قرار دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس صرف ستمبر کے ہی مہینے میں ایسے الزامات کے تحت بعض صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
ان میں سینیئر صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم بھی شامل ہیں جن کے خلاف پنجاب پولیس نے پاکستان فوج کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا جبکہ ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دی گئی۔
اس سے پہلے کراچی میں صحافی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر متحرک بلال فاروقی کے خلاف پاکستان آرمی کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
جبکہ اس کے بعد راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد علی طور کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا۔