آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آئی ایم ایف شرائط کے تحت قرض کی وصولی پاکستان میں عام آدمی کو کیسے متاثر کرے گی؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
کراچی میں درآمدی اشیا کی کلیئرنس کے شعبے سے وابستہ رضوان احسان کے بجلی کے بل میں گزشتہ چند مہینوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رضوان احسان کا شمار مڈل کلاس طبقے میں ہوتا ہے اور وہ کراچی میں ایک فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں جن میں بشمول ان کے خاندان کے چار افراد رہتے ہیں۔
رضوان کے مطابق ان کا بجلی کا بل چند مہینے پہلے پانچ سے چھ ہزار روپے آ رہا تھا تاہم ایک دو مہینوں میں یہ بڑھ کر دس ہزار روپے تک جا پہنچا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کراچی میں موسم کی تبدیلی کی وجہ سے کچھ تھوڑے بہت بل کا بڑھنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اس کا دگنا ہو جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
بجلی کے بلوں میں یہ اضافہ ملک میں مہنگائی کی شرح کو بھی بڑھا رہا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی پاکستان کے لیے پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری کے بعد یہ مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ اس قسط کے لیے حکومت نے جن شرائط پر رضامندی ظاہر کی ہے وہ معاشی ماہرین کے نزدیک بہت سخت ہیں۔
حکومت نے جن شرائط پر رضامندی ظاہر کی ہے ان میں بجلی کے شعبے میں نرخوں کو بڑھانا اور ٹیکسوں پر چھوٹ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
ماہرین معیشت کے مطابق آنے والے دنوں میں اس مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے جو ملکی معاشی پیداوار کو بری طرح متاثر کرے گا اور مصنوعات کو مہنگا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی ایم ایف کا اعلامیہ کیا کہتا ہے؟
پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دینے کے بعد آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ اتھارٹیز (پاکستانی حکام) نے کلیدی شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری رکھا جن میں سٹیٹ بینک کی خود مختاری، پاور سیکٹر میں اصلاحات، کارپوریٹ ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پچاس کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس پر آئی ایم ایف اور پاکستان نے جولائی 2019 میں دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی گئی تھی تاکہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو مدد فراہم کی جا سکے۔
اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو دو قسطوں میں 1.5 ارب ڈالر کی رقم وصول ہو چکی تھی اور اب پچاس کروڑ ڈالر کے بعد اس قرضے میں سے دو ارب ڈالر وصول ہو جائیں گے۔
اس وقتمہنگائی کا عمومی منظرنامہ کیا ہے؟
اس وقت پاکستان میں مہنگائی کے عمومی منظر نامے کو ملاحظہ کیا جائے تو اس کی شرح بلندی کی طرف گامزن ہے۔
پاکستان کے مرکزی بینک نے حال ہی میں اپنے مانیٹری پالیسی بیان میں کہا ہے کہ مہنگائی کے حالیہ اعدادوشمار متغیر رہے ہیں اور جنوری میں دو سال سے زیادہ عرصے میں عمومی مہنگائی پست ترین رہی ہے جس کے بعد فروری میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
سٹیٹ بینک کے تخمینوں کے مطابق بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافہ اور چینی و گندم کی قیمتیں، جنوری اور فروری کے اعدادوشمار کے مابین مہنگائی میں 3 فیصد درجے اضافے کے تقریباً 1.5 فیصد درجے کی ذمہ دار ہیں۔
بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ آئندہ مہینوں کے دوران عمومی مہنگائی کے اعدادوشمار میں ظاہر ہوتا رہے گا جس سے مالی سال 2021 میں اوسط مہنگائی قبل ازیں اعلان کردہ 7-9 فیصد کی حدود کی بالائی حد کے قریب رہے گی۔
اے کے ڈی سیکورٹیز میں معاشی امور کی ماہر ایلیا نعیم نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مالی سال کے آخری چار مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا امکان ہے اور یہ دس فیصد تک جا سکتی ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیسے مہنگائی کو بڑھائے گا؟
حکومت نے ملک میں بجلی کے نرخوں میں اس سال کے شروع میں 16 فیصد اضافہ کیا تھا جبکہ اس سال کی آخری سہ ماہی تک 36 فیصد اضافے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو آئی ایم ایف سے پیسے لینے کے لیے شرائط کا حصہ تھی۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے حال ہی میں بجلی کے فی یونٹ پر 5.65 روپے بڑھانے کی منظوری دی ہے جس کے ذریعے اکتوبر تک صارفین سے آٹھ سو ارب روپے وصول کیے جائیں گے جس کا مقصد بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور ماضی میں آئی ایم ایف سے معاہدوں کی ٹیم کا حصہ رہنے والے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ موجودہ پروگرام کی بحالی کے لیے شرائط میں سب سے بڑی پریشانی بجلی کے نرخوں میں بے تحاشا اضافے پر پاکستان کا رضامند ہونا ہے جو مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دے گا اور اس سے عام آدمی کے ساتھ ملک کا درآمدی شعبہ بھی شدید متاثر ہو گا۔
ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ محدود آمدنی والے خاندانوں کے بجلی کے بل اس سے دگنے ہو جائیں گے۔
ایلیا نعیم نے اس سلسلے میں کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی کے نرخوں میں اضافہ اگلے تین برسوں تک بڑھتا رہے گا۔
انھوں نے کہا آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی کے نرخوں میں ہونے والا اضافہ ایک عام آدمی کو شدید متاثر کرے گا۔
انھوں نے یہ بھی کہا حکومت 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو ہمیشہ سبسڈی دے کر اضافے کے اثر کو زائل کرتی رہی ہے تاہم آئی ایم ایف مخلتف شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ چاہتا ہے جس میں 300 یونٹ تک استمعال کرنے والوں کو دی جانے والی سبسڈی بھی شامل ہے۔
انھوں نے کہا حکومت نے اس سال افراط زر کا ٹارگٹ سات سے نو فیصد کے درمیان رکھا تھا تاہم اب تک اوسطاً افراط زر کی شرح آٹھ سے نو فیصد کے درمیان چل رہی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ دس فیصد کی شرح پر پہنچ سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط اور کس طرح مہنگائی بڑھائے گیں؟
اس سلسلے میں ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ جب بجلی کی قیمتوں کے علاوہ ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک آئی ایم ایف شرائط کے تحت شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بات کا بھرپور امکان ہے کہ سٹیٹ بینک آنے والے مہینوں میں شرح سود میں اضافہ کر دے گا۔
پاکستان میں شرح سود اس وقت سات فیصد ہے جو کورونا وائرس کی وبا کے پھوٹنے سے پہلے 13.25 فیصد تھا تاہم دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں شرح سود ابھی بھی بلند سطح پر موجود ہے۔
ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ ملک کی معاشی پیداوار کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو گا تاہم آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے اسے بڑھانا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ ان شرائط کے تحت سٹیٹ بینک کو زیادہ خودمختاری حاصل ہو جائے گی اور وہ یہ اقدامات اٹھائے گا۔
ایلیا نعیم نے بھی شرحِ سود کے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا کیونکہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے سٹیٹ بینک یہ کام کرے گا۔ انھوں نے اگلے تین سے چھ ماہ میں شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا۔
شرح سود بڑھنے سے بینکوں کی جانب سے دیا جانے والا قرضہ مہنگے نرخوں میں حاصل ہو گا جو کاروباری شعبوں کی لاگت کو بڑھا کر ان کی تیار کردہ مصنوعات کو مہنگا کر دے گا۔
لاہور سکول آف اکنامکس میں معیشت کے استاد ڈاکٹر رشید امجد نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت غریبوں پر مہنگائی کے برے اثرات مرتب ہونے کا تاثر ٹھیک ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر سترہ سے بیس ہزار روپے آمدنی والے افراد پر زیادہ ہو گا تاہم انھوں نے تجویز کیا کہ حکومت اپنے احساس پروگرام کے تحت بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم آمدنی والے افراد کے لیے ایک دو ہزار روپے ادا کر کے زائل کر سکتی ہے۔